بیٹیاں پیدا کرنا جرم بن گیا

تقریباً 35 سالہ لاہور کی رہائشی خوبصورت اچھے کردار کی مالک ہونے کے ساتھ، پڑھی لکھی اور باشعور دوشیزہ جس کا نام عاصمہ تھا اس کی شادی تقریباً سات سال پہلے ہوئی تھی شادی کے چند مہینے میں ہی ماں بننے کے آثار پیدا ہونے لگے، سسرالیوں سمیت سبھی نے مبارک باد دی اور اور سب کا دعویٰ تھا کہ لڑکا ہوگا لڑکا ہوگا ڈلیوری کا وقت قریب آیا تو شوہر کے ساتھ ساتھ سسرال کے تقریباً سبھی لوگ عاصمہ کو ہسپتال لے کر گئے، ڈلیوری نارمل ہوئی اور ڈاکٹروں نے بیٹی کی پیدائش کی خوشخبری سنائی.یہ سن کر عاصمہ کی ساس کا منہ بن گیا جبکہ دیگر افراد اپنے جذبات چھپانے میں کامیاب رہے عاصمہ دو دن بعد گھر آئی تو معلوم ہوا کہ گھر کے حالات پہلے جیسے نہیں رہے، وہ ساس جو بلائیں لیتی تھی آج اس کے تیور بدلے ہوئے ہیں وقت گزرتا گیا اگلے ہی سال عاصمہ دوبارہ امید سے ہو گئی، اس بار بھی سسرال والے سبھی لوگ لڑکے کی امید لے کر عاصمہ کی خدمت کرتے رہے، خدا کا کرنا کہ اس بار بھی لڑکی ہوئی، اس بار ساس کے ساتھ ساتھ نندوں نے بھی منہ چڑھا لیے اور سسرال والے آپریشن پر اٹھنے والے اخراجات بھی باتیں سنا سنا کر طعنے دیتے رہے دو سال مزید گزرے عاصمہ تیسری بار پھر ماں بننے والی تھی، لیکن اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب عاصمہ کے سسرال والوں نے عاصمہ کو یہ کہتے ہوئے میکے بھیج دیا کہ اگر بیٹیاں ہی پیدا کرنی ہیں تو ڈلیوری کے اخراجات بھی تمہارے ماں باپ اٹھائیں.عاصمہ کے ہاں تیسری مرتبہ بھی بیٹی ہوئی تھی، بچی کی پیدائش پر عاصمہ کے سسرال سے کوئی دیکھنے تک نہیں آیا، ڈیڑھ ماہ کی بچی اٹھائے عاصمہ گھر واپس آئی تو اس کے لیے زمین بہت گرم و تنگ ہو چکی تھی سسرالی اٹھتے بیٹھتے پرانی باتیں نکال نکال کر لعن طعن دیتے، کبھی عاصمہ کی بارات کے کھانے کو خراب کہا جاتا، کبھی جہیز پر تنقید کی جاتی، گھر کے ہر کام میں کیڑے نکالے جاتے، اس کے پکائے ہوئے کھانے بھی اب برے لگنے لگے تھے.عاصمہ شریف گھرانے کی بچی تھی چپ چاپ سب کچھ سنتی، مزید محنت اور خدمت کر کے ساس سسر اور نندوں کا دل جیتنا چاہتی، سارے گھر کا کھانا پکانا، کھانا پیش کرنا، برتن اٹھانا، برتن دھونا، کپڑے دھونا، صفائیاں کرنا غرض یہ کہ گھر کا کام اکیلی عاصمہ کی ذمہ داری تھی، عید آئی کوئی تہوار و سارے گھر کا سامان نکال کر عاصمہ نے خود ہی سارا گھر صاف و شفاف کرنے کے ساتھ رنگ و روغن کرنا پڑتا تھا، سیڑھی پر چڑھ کر پنکھے صاف کیے اپنا گھر ہے صاف ہوگا گھر والے بھی سب خوش ہوں گے، یہی سوچ سوچ کر عاصمہ دن رات کام میں لگی رہی، روزانہ ساس کے سر میں تیل کی مالش کرنا اور سسر کے پیر دبانا عاصمہ کی ذمہ داری تھی، اتنا سب کچھ کرنے کے باوجود ''اولاد نرینہ'' اور ''خاندان کے وارث'' کا مطالبہ بدستور جاری تھا عاصمہ کی بڑی پہلی بیٹی پانچ سال، دوسری تین سال اور تیسری ڈیڑھ سال کی ہو گئی تھی عاصمہ کی بیٹیاں بھی اسی کی طرح خوبصورت اور معصوم تھیں لیکن اس گھر میں اب ان کی کوئی وقعت نہیں تھی. اسی دوران عاصمہ چوتھی بار حاملہ ہو گئی، اس بار ہر نسخہ ہر وظیفہ اور ٹو ٹکا آزمایا گیا، طرح طرح کے تعویذ لا کر باندھے گئے، عاصمہ خود بھی بہت خوفزدہ تھی، کسی نے کہا صبح فجر کے بعد فلاں سورۃ پڑھو تو اولا د نرینہ ہوگئی، کسی نے کہا فلاں فلاں آیات لکھ کر ناف پر باندھ لو الغرض ہر اسلامی و غیر اسلامی ٹونہ ٹوٹکا استعمال کیا گیاجوں جوں ڈلیوری کے دن قریب آتے گئے ڈر عاصمہ کے دل میں بیٹھ گیا، وہ ہر وقت یہی دعا کرتی کہ اس کے ہاں لڑکا ہو جائے، وہ ہر وقت یہی سوچتی کہ لڑکی ہو گئی تو کیا ہو گا حسبِ سابق ڈلیوری کے لیے عاصمہ کو اس کے ماں باپ کے گھر بھیج دیا گیا، اس کی ماں اسے لے کر ایک پرائیویٹ ہسپتال پہنچی، لیبر روم جاتے ہوئے بھی عاصمہ بہت ڈری و خوفزدہ تھی. ڈلیوری کے بعد لیڈی ڈاکٹر نے ایک ننھا سا وجود عاصمہ کے سینے پر رکھتے ہوئے کہا ''مبارک ہو بیٹی ہوئی ہے'' یہ الفاظ عاصمہ برداشت نہیں کر سکی، ، ہارٹ اٹیک ہو گیا اٹیک اتنا شدید تھا کہ وہ پچاس سیکنڈ میں ہی دنیا کو خیر آ باد کہہ چکی تھی.وہ پچاس سیکنڈ عاصمہ پر یوں گزرے جیسے پچاس سال ہوں، ان پچاس سیکنڈ میں عاصمہ سوچتی رہی کہ بیٹی پیدا کرنے میں کیا گناہ ہے، بیٹی پیدا ہونے میں کیا گناہ ہے، میری تین بچیوں نے کیا گناہ کیا، اور یہ جو ابھی پچاس سیکنڈ پہلے ایک بیٹی میری چھاتیوں پر رکھی گئی اس کا کیا گناہ ہے.ان پچاس سیکنڈ میں عاصمہ نے آنے والے پچاس سالوں کے لئے سوچا.بن ماں کی چار بچیاں کون سنبھالے گا؟ اور یہ بچی جس کی عمر ابھی پچاس سیکنڈ ہے یہ بھی اگلے پچاس سال اسی ظلم برداشت کر تی رہے گی. ڈاکٹروں نے عاصمہ کی لاش اور بچی عاصمہ کی بوڑھی ماں کے حوالے کر دی.

YOU MAY ALSO LIKE: