فضائے بدر پیدا کر

(Muhammad Abdullah Javed, )

"عزیز ہم وطنو! دس کروڑ پاکستانیوں کےامتحان کا وقت آچکا ہے۔ لاالہ الااللہ کے ماننےوالوں پر ہندوستان نےحملہ کردیا ہے۔ بھارتی حکمران شروع ہی سےپاکستان کےوجود سےنفرت کرتےہیں۔ لیکن وہ یہ نہیں جانتےکہ انھوں نےکس قوم کو للکارا ہے۔ پاکستانیو! جنگ شروع ہوچکی ہےاٹھو اوردشمن پر ٹوٹ پڑو"۔ یہ 6ستمبر1965کا دن تھا۔فیلڈ مارشل ایوب خان نے صبح نو بجےریڈیو پاکستان سےتقریر کی۔ اپنے صدر کےیہ الفاظ سننا تھےکہ پوری قوم نعرہ تکبیر کےساتھ سڑکوں پہ نکل آئی۔

1965 کی جنگ کےبارےآج کےدور میں بہت زیادہ شک و شبہات پھیلائےجارہےہیں، کہا جاتاہےکہ یہ جنگ ہم جیتےہی نہیں اور جوکامیابیاں ہم بیان کرتےہیں وہ مبالغہ آرائی ہیں۔ حالانکہ ہماری تاریخ کےعظیم ترین دنوں میں سےایک 6ستمبرکا دن ہے۔

آزادی کےبعد ہی قائداعظم نےکشمیر آزاد کروانےکی کوشش کی اوروہاں لگاتار جنگ جاری تھی۔ لیکن وہ لائن آف کنٹرول ہے اورلائن آف کنٹرول باڈر نہیں ہوتا۔ اسی لیے 1965 میں پاکستان نے کشمیری مجاہدوں کی مدد سےتحریک آزادی تیز کردی۔ اس وقت کشمیر میں جھڑپیں شدت اختیارکرچکی تھیں۔ یوں انڈیا نےدباؤ کم کرنےکےلیے پاکستان کو بغیر وارنگ دیئے حملہ کردیا ۔

دشمن کےجرنیلوں نےبھڑک ماری تھی کہ ہم گیارہ بجےسےپہلےلاہور جم خانہ میں ناشتہ کریں گے ۔ آپ دشمن کی طاقت کا اندازہ کریں کہ ان کی فوج اوراسلحہ ہم سے پانچ گنا زیادہ تھا۔ پانچ گنا بڑا دشمن جب رات کی تاریکی میں جب آپ کےایک بڑے شہر پہ جو بالکل سرحد پہ واقع ہے یوں حملہ آورہوتاہےکہ ایک ایک جگہ پہ پانچ سو ٹینک استعمال کیےجاتےہیں ۔اور دوسری جانب حال یہ تھا کہ یہ پاکستان کےلیےبالکل غیر متوقع تھا۔ سوچیں اگرآپ کےگھر میں دس بارہ ڈاکوگھس آئیں لیکن آپ چند لوگ ان کوبھگانے میں کامیاب ہوجائیں تو کیا یہ آپ کی کامیابی نہیں ؟

جب لاہور پہ حملہ ہواتووہاں ہماری صرف ایک کمپنی تھی جس میں تقریباََ ڈیڑھ سو بند ہ ہوتا ہےجبکہ دشمن پوری پوری برگیڈ کےساتھ سیکٹرز پہ حملےکررہاتھا۔ لیکن ڈیڑھ سوبندوں نےانکی تین ساڈھےتین ہزارکی برگیڈ کو بارہ گھنٹے تک روک کےرکھارہاکہ پیچھےسے ہماری فوج کو ٹائم مل جائےاپنا دفاع مضبوط کرنےکا۔ 1965 کی لڑائی کا اصل کارنامہ ہی یہ ہےکہ جب دشمن یہ کہتاتھاکہ ہم گیارہ بجےتک لاہور فتح کرلیں گےلیکن سترہ دن تک یہ جنگ جاری رہی اور انکی کئی چوکیوں پہ قبضہ بھی ہوگیا۔پاک فوج بھارت کےاندرتک گئی اور کھیم کرن کا قصبہ حاصل کیا۔ چونڈہ کےمقام پر جنگ عظیم دوم کےبعد سب سےبڑی ٹینکوں کی لڑائی ہوئی جس میں تقریباََ ڈیڑھ سوکےقریب بھارتی ٹینکوں کونیست ونابود ہوئے۔ صرف یہی نہیں ہمارے پائلٹ ایم ایم عالم نے 30 سیکنڈ میں دشمن کے5 جہاز گرائے۔ آج بھی پوری دنیامیں یہ ریکارڈ ہے۔

پاک بحریہ کےپاس صرف ایک سبمرین تھی غازی، لیکن اس ایک سبمرین نےدشمن کی نیندیں حرام کی ہوئی تھیں۔ دوارکا کا قلعہ جو تاریخ میں سومنات کےنام سےجانا جاتاہے پاک بحریہ نےمحمود غزنوی کےبعد اس پر حملہ کیا اور اسےفتح کیا۔ آج بھی یہ مشن دوارکا کےنام سے جانا جاتاہے۔ اس کے علاوہ اس جنگ میں ایک عام جوان سےلےکر افسران تک جو قربانیاں دی گئی اس کی مثال نہیں ملتی۔سترہ دن یہ لڑائی جاری رہی، سترہ دن ملک میں چوری چکاری بند ہوگئی۔ پاک فوج کےجوانوں کا حال یہ تھا کہ جب وہ شہر آتے خریداری کرنے یا سامان سپلائی کرنے تو پورا شہر امنڈ آتا تھا ان کو تحفے اورپھل دیئےجاتے ۔ بدلےمیں جب وہ پیسےدیتے تو لوگ رونےلگ پڑتےکہ ہمیں بےعزت نہ کرو تم ہمارےبیٹے ہواور ہماری جان کا دفاع کررہےہو۔

سیالکوٹ میں ایک سیکٹر پر ہماری فوج کو توپوں کی ضرورت پڑی کیونکہ دشمن کےٹینکوں کا دباؤ بہت زیادہ تھا۔ لیکن ہماری توپوں کی آخری حد سے بھی دوتین کلومیٹر آگے دشمن کےٹینک تھے۔ جب حساب لگایا گیا تومعلوم ہواکہ ہماری توپوں کےگولےدشمن تک نہیں پہنچ سکتے۔ لیکن صورتحال یہ تھی کہ اگر اس وقت فوج کو مددنہ دی جاتی تو سیالکوٹ شہر کاایک حصہ دشمن کےقبضےمیں چلاجاتا۔ اللہ کےبھروسے پر گولےفائر کیے گئے۔تین منٹ بعد وائرلیس سےنعرہ تکبیر کی صدائیں آنےلگیں کہ ہمارے گولےٹھیک نشانےپر دشمن کےٹینکوں کےبیچ گررہےتھے۔ نہ اس سےپہلےکبھی توپ نےاتنادورفائرکیا نہ اسکے بعد۔ یہ صرف اللہ کی تائید تھی جو اس وقت آئی۔ یہ باتیں بزرگوں نےسنائی بھی ہیں اور اپنی کتابوں میں لکھی بھی ۔ آپ ممتاز مفتی کی کتابیں اٹھاکردیکھ لیں، الکھ نگری دیکھئے، تلاش دیکھیئے۔ ممتاز مفتی لکھتےہیں کہ جب پینسٹھ کی لڑائی شروع ہوئی تو اللہ کےبندوں نےمسجد نبوی میں رسول اللہﷺ کو دیکھا۔ حضورﷺ جنگی لباس میں اصحاب بدر کےساتھ جنگ کی تیاری کررہے ہیں۔

پھر ایک اور واقعہ کہ دشمن کو کہاگیاکہ راوی کےپل پر بمباری کرنی ہے ۔ وہ پائلٹ بعد میں پکڑاگیا۔ جب اسےپوچھاگیاکہ پل توتمہارے سامنےتھاتم نےاڑایاکیوں نہیں؟ اس نےجواب دیاکہ مجھےکہاگیاتھاکہ وہاں ایک پل ہے۔ لیکن وہاں تو چھ پل تھے۔ مجھےسمجھ نہیں آئی کہ کس پہ بمباری کرنی ہے!یہ باتیں دشمن کےسپاہیوں نےکہی ہیں کہ وہ آپکی گھوڑوں والی فوج کونسی تھی جن کی تلواروں سےشعلےنکل رہےتھے؟ ہم بم گراتے تھےلیکن وہ پھٹتےنہیں تھے۔ پینتیس سےچالیس کےقریب بم گرےپنڈی پر ،صرف پانچ پھٹے اور وہ بھی ویرانےمیں۔

جب سی ایم ایچ میں شہدا ء اور زخمی پہنچناشروع ہوئےتو کام اتنازیادہ تھا کہ ڈاکٹرزکی غیرموجودگی میں خواتین نرسز فوجیوں کی مرہم پٹی کررہی تھیں۔ یہ منظر جب فوجی جوانوں نےدیکھاتو واپس یونٹ میں جاکر اعلان کیا کہ او شیر و سینےپہ گولیاں کھاناپیچھےتمہاری بہنیں اور بیٹیاں تمہیں وصول کررہی ہیں ۔ یہ عالم تھاغیرت اور جذبے کا۔ افسوس کہ یہ باتیں نہ کتابوں میں پڑھائی جاتی ہیں نہ ہی نوجوان نسل کو بتائی جاتی ہیں ۔اس کےعلاوہ کئی ایسے واقعات اور قصےہیں بہادری ، شجاعت اور اللہ تعالیٰ کی مددکےکہ اگر میں یہاں لکھناشروع کردوں توشائد جگہ ختم ہوجائےلیکن یہ داستان کبھی ختم نہ ہو! گویااگرہم دشمن کےمقاصد دیکھیں اورجنگ کےنتائج دیکھیں تواس میں کوئی شک نہیں کہ یہ پاکستان کی فتح تھی۔ وہ دشمن جوملک عزیزکوتسخیرکرنےآیاتھااسے اقوام متحدہ جاکرجنگ بندی کی درخواست کرنی پڑی۔ اب سوال یہ ہےکہ اس وقت ایسی کیا خاص بات تھی کہ پوری قوم دشمن کےسامنےسیسیہ پلائی دیوار بن گئی؟
اس کا سب سے بڑا محرک یہ تھا کہ پاکستان کی روحانی اور نظریاتی اساس قائم تھی۔ دوقومی نظریہ جس پر ہم نے پاکستان بنایا تھا،اس پر لوگ ایمان کی حد تک یقین کرتےتھے۔ ہم ایک قوم تھے۔کشمیر ہماری رگوں میں دوڑتا تھااورہم اس پر اپنی جان تک نثار کرنےکے لیےتیارتھے۔ یہی وجہ تھی کہ جب ہندوستان نےحملہ کیا تو ہم سب متحد ہوگئے۔ اسی لیے 1965 کےبعد دشمن نےہماری نظریاتی اور روحانی اساس پر حملہ کیا۔ بنگالی قومیت کو فروغ دی گئی، نتیجہ یہ ہوا کہ مشرقی پاکستان ہم سے علیحدہ ہوگیا۔

آج بھی ہم تقریباََ ویسے حالات سے گزررہےہیں۔ مسئلہ کشمیرایک بار پھر سلگ رہاہے، ہم مختلف شناختوں میں بٹ چکےہیں اور ہماری سرحدیں بھی محفوظ نہیں۔ دشمن ہم پروار کرنے کےموقعےکی تلاش میں ہے۔ آج اسی جذبے کی ضرورت ہےجس کی 1965 کی جنگ سب سےخوبصورت مثال ہے۔ہمیں اپنےذاتی مفادات کو پس پشت ڈال کرایک قوم بنناہوگا۔ یادرکھیں جب بھی مسلمان اللہ اوراس کےرسولﷺ کےنام پرکھڑے ہونگیں، تو مدد ضرور آئےگی۔کیونکہ بقول شاعر
فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو
اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Abdullah Javed
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Sep, 2019 Views: 267

Comments

آپ کی رائے