نائس معاشرہ ……

(Muhammad Noor-Ul-Huda, )

ہم تو صرف عنواں تھے
اصل داستاں تم ہو
میرے ذہن میں ملی نغمے کا یہ شعر گونج رہا تھا جب میں ایک خاتون کی success story سن رہا تھا کہ ’’میں نے کپڑے سی کر اپنا گھر چلایا اور اسی پیشے میں کمائی سے اپنی بیٹی کی شادی بھی کی‘‘ …… ایسے ہی ایک اور خاتون بتا رہی تھی کہ ’’شوہر کی وفات کے بعد اس کے حالات بہت تنگ ہو گئے ، نوبت فاقوں تک آ گئی ۔ کبھی گھر سے نکل کر کام نہیں کیا ۔ قریب تھا کہ حالات سے تنگ آکر میں خود کشی کر لیتی ۔ لیکن پھر نائس ویلفیئر سوسائٹی نے مجھے سہارا دیا اور سلائی کڑھائی کا مفت کورس کروایا ۔ اسی کورس کی وجہ سے اب میں اس قابل ہوں کہ لوگوں کے کپڑے سی کر گزر بسر کر رہی ہوں‘‘ ۔ عزم و ہمت اور استحکام کی ایسی ہی کتنی کہانیاں مجھے ’’نائس ویلفئیر سوسائٹی‘‘ کی ایک تقریب کے دوران سننے کو ملیں ۔ ایک اور خاتون نے بتایا کہ اس کا شوہر بیماری کی وجہ سے چارپائی سے جا لگا ہے ۔ تمام جمع پونجی ختم ہو گئی ۔ بچے سکول جاتے تھے، انہیں بھی اٹھوا دیا ۔ گزر بسر بہت مشکل ہو چکی تھی ۔ لیکن پھر ’’نائس ویلفیئر سوسائٹی‘‘ کی جانب سے اسے سلائی مشین عطیہ کی گئی ۔ اب وہ سلائی کڑھائی کر کے اپنے گھر کا خرچہ چلا رہی ہے اور بچوں کی تعلیم بھی بحال ہو گئی ہے ۔ اس گفتگو کے دوران اس کی آنکھوں میں آنسو اور لب پر دعائیں تھیں ۔ ان کیلئے ، جن کی وجہ سے اس کی زندگی کے ڈگمگاتے سفر کو سہارا ملا اور اس کے بچوں کے چہرے پر مسکراہٹ واپس آئی ۔

اس ادارے کے روحِ رواں احمد علی اور ندیم حسن گوہر نے مجھے بتایا کہ وہ گذشتہ دو سالوں میں 350 سے زائد خواتین کو ان کے پاؤں پر کھڑا کر چکے ہیں ۔ ایسی خواتین جن کے پاس وسائل نہیں ہیں ، ان کی ترقی کیلئے خصوصی اقدامات کرتے ہوئے انہیں مستحکم زندگی کی جانب واپس لے کر آئے ہیں ۔ یعنی یہ افراد ’’ہم تو صرف عنواں تھے ، اصل داستاں تم ہو‘‘ کی عملی تصویر بن کر سامنے آئے ہیں ۔ بلاشبہ اصل داستانیں یہی لوگ ہوتے ہیں جن پر کام کیا گیا ہو اور جنہیں فنی مہارات دی گئی ہوں ۔ ادارے تو محض عنوان ہوتے ہیں ، ایک پلیٹ فارم کی مانند ہوتے ہیں ، جن کے تحت ہم کچھ کرتے ہیں ، کچھ سیکھتے ہیں اور پھر اسے خود پر لاگو کر کے اپنی زندگیوں میں جیسے کا سامان کرتے ہیں ۔

ہم آج جس دور میں جی رہے ہیں ، اس میں رہنا تب ہی ممکن ہے جب خواتین کو گھروں اور ملک کی معاشی ترقی میں اپنا اپنا کردار ادا کرنے کے قابل بنایا جائے ۔ وگرنہ موجودہ حالات میں زیادہ عرصہ سانس لینا بہت مشکل ہے ۔ معاشی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے خواتین کا مردوں کے شانہ بشانہ تمام شعبہ ہائے زندگی میں حصہ لینا وقت کی ضروت بن چکی ہے ۔ ایسے میں ضروری ہے کہ انہیں مختلف ووکیشنل کورسز کروائے جائیں جہاں انہیں اس قدر فنی مہارات دی جائیں کہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکیں اور زندگی کے کسی بھی موڑ پر انہیں کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانے پڑیں ۔ یوں اس مفاد پرست معاشرے میں وہ اپنے جینے کا سامان خود کر سکیں گی اور زمانے کی تلخیوں کا مقابلہ کر نے کے قابل ہوں گی ۔ اس ضمن میں نائس ویلفئیر سوسائٹی جیسے اداروں کا کردار قابل ستائش ہے جس سے استفادہ کر کے آج کئی خواتین ہنر مند بن کر خاندان کی کفالت کر رہی ہیں ۔ ایسے ’’نائس‘‘ اقدامات انہیں اپنے استحصال سے بچنے کے مواقع بھی فراہم کرتے ہیں ۔ بعدازاں مجھے اس ادارے کی مزید کاوشوں سے بھی آگاہی حاصل ہوئی تو آشکار ہواکہ خواتین کو ہنرمند اور خود انحصار بنانے اور ان میں سلائی مشینیں تقسیم کرنے کے ساتھ ساتھ خصوصی بچوں کی زندگیوں کو بھی مستحکم کرنے اور انہیں قومی دھارے میں لانے کیلئے ان کی کاوشیں قابل قدر ہیں ۔

بلاشبہ خدمت انسانیت کے ضمن میں معاشرے کی فلاحِ عامہ میں اپنا انفرادی اور اجتماعی حصہ ڈالنا ایک قابل تقلید عمل ہے ۔ کیونکہ زندگی دکھ کا سمندر ہے ، اسے سکھ کے چھوٹے چھوٹے جزیروں میں تبدیل کرنے کا عہد ہم سب کو کرنا ہوگا ۔ جس روز ہم نے اپنے مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ، اپنی ذات سے آگے بڑھ کر سوچا ، اجتماعی طور پر ہمارے دکھ خود بخود ختم ہو جائیں گے …… ایسا ہی معاشرہ ایک ’’نائس‘‘ معاشرہ ہوگا ۔ آئیے ، ’’عنوان‘‘ کی بجائے ’’داستان‘‘ بننے اور بنانے پر زور دیں …… جی ہاں کامیابی و کامرانی اور استحکام کی داستان ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Noor-Ul-Huda

Read More Articles by Muhammad Noor-Ul-Huda: 47 Articles with 18477 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Sep, 2019 Views: 277

Comments

آپ کی رائے