جنگ 6ستمبر1965ء ۔۔۔۔۔پاکستانی ہیروز کی لازوال قربانیاں

(A R Tariq, )

جنگ 6ستمبر1965شہداء کی یاد دلاتی ہے،ایم ایم عالم پاکستان کے وہ آخری ہیرو ،جو اِس دنیا میں نہیں رہے،مگر ان کے سنہری کارنامے اپنی مثال آپ تھے،اگر ستمبر1965ء کی جنگ کا تجزیہ کیا جائے تو وہاں ایسے ایسے سرفروش اور پاکستان کی سرزمین کو اپنے خون سے سینچنے والے ہیروز جنم لیتے ہیں،جن کا ثانی اب کہاں ملے گا،سرفراز رفیقی،میجر عزیزبھٹی ،میجرشفقت بلوچ ،جنرل عبدلعلیٰ ملک،سیسل چوہدری، بریگیڈیرشامی،شبیر شریف اور درجنوں شجاع اور نڈر لوگ جنگ ستمبر کے ہیرو تھے،لیکن اِن سب میں اگر کوئی اقبال کے شاہین کے بلند رتبے پر فائز ہوا تو وہ ایم ایم عالم تھا،جس نے دشمن کے متعدد جہاز چند لمحوں میں تباہ کرکے ایک عالمی ریکارڈ قائم کیا۔آج کی نسل تصور بھی نہیں کرسکتی کہ ستمبر1965 ء کی جنگ کے دوران ایم ایم عالم نے ایک منٹ میں ہندوستان کے 5جیٹ فائٹر تباہ کردئیے اور 2کوزخمی کرکے واپس جانے پر مجبور کردیاتووہ کیسے ہماری نسل کے محبوب بن گئے۔قیامِ پاکستان کے فورا بعد نہ صرف بیوروکریسی میں بلکہ فوج اور فضائیہ میں ایسے بلندقامت،نابغہ روزگار اور پاکستان کے لیے مرمٹنے والے لوگ نمودار ہوئے،جن کے بارے میں مکمل وثوق سے کہا جاسکتا کہ وہ قائداعظم کے سچے پیروکار تھے،انہی کی مانند بے لوث،بے غرض،ایماندار اور اپنے اپنے شعبے میں سربلند ۔۔۔۔۔یہ لوگ وہ معمار تھے،جنہوں نے موجودہ پاکستان کی بنیادیں استوارکیں،اِن میں سب سے کم عمر ائیرچیف اصغرخان ،نایاب نور خان تھے ااور ایم ایم عالم بھی اِس سلسلے کی ایک کڑی تھے۔ایم ایم عالم ایک ایسا شخص تھا ،جس نے ذاتی طور پر شہرت اور دولت کی تمنا نہ کی،کوئی جائیداد نہ بنائی اور نہ ہی کوئی پلاٹ قبول کیے،ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ساری عمر ایک میس کے کمرے میں گزاردی۔ایم ایم عالم ایک شرم و حیا والے آدمی تھے،ایسی کسی بھی محفل سے گریز کرتے،جہاں گانا بجانا اور اسلام کی روح کے منافی کام ہوتا،بہت سادہ طبیعت انسان تھے،تکبر اور غرور کو پاس بھی نہیں پھٹکنے دیتے تھے،دشمن کے 9 جدید ترین لڑاکا طیارے مار گرائے مگر لہجے میں غرور، خودپسندی اور تکبر کا ایک ذراسابھی شائبہ نہ تھا،وہ ایک بلند عزم انسان، ایک سچے پاکستانی اور پکے مسلمان تھے،یہ وہ شخص تھے کہ جنہیں بنگلہ دیش کی فضائیہ کا سربراہ بنانے کی پیش کش کی گئی تھی اور اس نے کہا تھا کہ ’’میں پاکستانی ہوں، اِس ملک سے غداری کرنے کاتصور بھی نہیں کرسکتا‘‘وہ عالم میں انتخاب تھا،خود عالم تھا، ایم ایم عالم تھااور وہ عالم مرگیا۔۔۔۔۔ہم ایم ایم عالم کے لیے صرف ماتم کرسکتے ہیں،کیونکہ اِس جیسا بیٹااور کوئی ماں نہیں جنے گی۔شہدا اور غازیوں سے محبت کا یہ سفر کبھی رک نہیں سکتا، یہ قربانیوں کی داستان جب تک رہے گی،ان کی محبت میں لکھنے والے لکھتے رہیں گے،جب یہ قربانیاں ختم ہوئیں وہ دن قوم کے مقدر میں تاریکی چھانے کا آغاز ہوگا،اﷲ کا شکر ہے کہ ہم بحثیت پاکستانی اِس داستانِ حریت اورقربانیوں کے حقیقی وارث ہیں،اِس سرسبز وسفید ہلالی پرچم کے نگہبان اور اِس پیارے دیس پاکستان کے حقیقی رکھوالے ہیں، ہم اہل وطن سے محبت میں یہ کبھی بھی نہیں سوچیں گے کہ کوئی ہمارے بارے کیا سوچتا ہے،یہ میرے لیے فخر کا مقام ہے کہ میں نے اِن غازیوں اور شہداء کا تذکرہ کیا ہے،جنہوں نے ہمیں پاک فضائیہ کی بے مثال اقدار اور قابل فخر تاریخ سونپی ہے۔خدائے بزرگ وبرتر ہماری فضائیہ ،بحریہ،بری فوج اور ان تمام ہیروز کو سلامت رکھے جو اپنا تن من دھن ہم پہ وارتے ہیں۔ایم ایم عالم اور تمام شہداء پاکستان کو میرا اورقوم کا سلام ،بے حدوحساب ،بے شمار۔
مستنصر حسین تارڈکی یادداشتوں میں سے چند اقتباسات۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: A R Tariq

Read More Articles by A R Tariq: 51 Articles with 16093 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Sep, 2019 Views: 176

Comments

آپ کی رائے