پیغام شہادت امام حسین : باطل کے مقابل حق کی فتح کیلئے جاں نثاری کی روایت قائم کرنی ہوگی

(Ghulam Mustafa Rizvi, India)

ہر سال واقعۂ کربلا کی یاد تازہ کی جاتی ہے۔ ہر سال ذکر شہادت کے اَوراق نمایاں کیے جاتے ہیں۔ اور آنسوؤں کے ساتھ شہادتِ امام حسین و رفقاے کربلا رضی اﷲ عنہم کو خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔ان یادوں کے دوش پر بحیثیت مسلمان ہماری ذمہ داریاں بھی ہیں۔ شہادت کی صبح اسلام کی حیات کی تازگی کا درخشاں باب ہے۔ شہادت مقصود و مطلوبِ مومن ہے۔ شہادت حیاتِ قوم کی سُرخی کی علامت ہے۔ شہادت اقامتِ دین کا لازمہ ہے۔ جہادِ اسلامی کی پشت پر یہی پہلو مضمر ہے کہ دین کی بقا کے لیے جاں نثاری کی بزم آراستہ کی جائے۔ شہادت کی ساعتیں یقینی طور پر مقاصد سے پُر ہوتی ہیں۔ اس لیے واقعاتِ کربلا کے پس منظرجو تقاضے ہیں انھیں ملحوظ رکھنا چاہیے:
[۱] چوں کہ شہادت امام حسین اسلامی تعلیمات اور شریعت کی بقا و تحفظ کے لیے ہوئی؛ اِس کا واضح مفہوم یہی بر آمد ہوتا ہے کہ دین کے اصل چہرے پر جب غبار ڈالنے کی کوشش کی جائے؛ دین کا حلیہ بگاڑنے کی تگ و دَو سامنے آئے؛ ایسی صورت میں باطل کے لشکر و سپاہ، شان و شوکت کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اس کے پنجوں کو مروڑ ڈالا جائے۔ حق کو اجاگر کر کے مکروفریب کی دھجیاں بکھیر دی جائیں۔
[۲] اسلام نے بڑے سادہ و فطری نظامِ حکومت کا تصور دیا۔ یزید اس نظام کو ظلم و ستم اور کسریٰ کے استبداد کا نمونہ بنانا چاہتا تھا اس لیے امام حسین نے یزید کی اطاعت نہ کر کے بتا دیا کہ نظامِ شریعت میں کسی بھی طرح کی تبدیلی کو ہم برداشت نہیں کر سکتے۔ دین اپنی اصل ہئیت اور صورت میں باقی رہے گا؛ ہاں! اس کے لیے ضرورت پڑنے پر جان وار سکتے ہیں۔ یہی ہوا بھی کہ آپ نے اپنے رفقا کے ساتھ یزید کی اصلاح کی کوشش کی اور اخیر میں جان وار دی لیکن اسلام کا حقیقی حسن باقی رکھا۔
[۳] آج پھر شریعت اسلامیہ پر حملے ہیں۔ اندرونی بھی؛ اور بیرونی بھی۔ ہمیں ہر طرح کے حملوں کے مقابل اسلام پر سختی سے قائم رہنے کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ واقعۂ کربلا سے یہ درس بہت واضح ملتا ہے کہ شریعت کو کسی بھی طرح کی مداخلت سے ہر حال میں پاک رکھنا ہے۔ اس کے قانون سے کسی صورت بغاوت نہیں کی جا سکتی۔قوانینِ اسلامی کی بالادستی اور اقامتِ دین ہم سب کی اولین ذمہ داری ہے؛ اس راہ میں کسی بھی طرح کی قربانی سے دریغ ملت و قوم کی موت کے مترادف ہے۔جیسا کہ اِس رخ سے ہندوستان میں زیادہ سوچنے کی ضرورت ہے۔
[۴] بعض طبقے واقعاتِ کربلا سے بجائے درسِ عمل لینے کے ان لمحات کو دُنیوی تفریح اور کھیل تماشوں میں گزار دیتے ہیں۔ بعض طبقے غیر شرعی رسوم کو ہی پیغامِ شہادتِ حسین سمجھتے ہیں۔ جب کہ بقائے دین کا یہ مرحلہ ہم سب کے لیے تمام برے راستے بند کرتا ہے؛ اور استقامت فی الدین کا درس ازبر کراتا ہے۔ یہی امام حسین رضی اﷲ عنہ سے محبت کا تقاضا ہے کہ ان کی یاد کو برائیوں اور غلط رسموں سے پاک ہو کر منایا جائے۔ ان کی یاد میں کھانے کھلائے جائیں۔ غریبوں سے ہمدردانہ سلوک کیا جائے۔ مریضوں کی عیادت و ان کی مالی معاونت کی جائے۔ یتیموں اور بیواؤں سے شفقت کا معاملہ کیا جائے۔مظلوم کو ظالم سے بچایا جائے۔ ہمارے یہاں تو ظالم حکمراں ایک پوری ریاست کو مسلم دُشمنی میں کھدیڑ رہے ہیں؛ ان کے استبداد سے خطۂ جنت نظیر کو بچانا بھی حسینی فکر کا تقاضا ہے؛ تا کہ رضائے امام عالی مقام حاصل ہو۔
[۵] اپنے اطراف کو ہمیں اسلامی ماحول میں ڈھالنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس کے لیے ہمیں خانوادۂ اہلِ بیت کی قربانیاں راہ فراہم کرتی ہیں۔ درسِ عمل دیتی ہیں۔ گویا شہادت کا پیغام اصلاحِ عمل و اصلاحِ معاشرہ بھی ہے۔
[۶] عقائد اسلامی سے متعلق بھی چاک و چوبند رہنے کی ضرورت ہے۔ کیوں کہ قادیانیت اوران جیسے افکار کے حامل گروہ- مسلمانوں کے عقائد پر شب خوں مار رہے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ تصلبِ دینی کا مظاہرہ کریں۔اہلِ بیت کی محبت بھی سلامت رکھیں اور اصحابِ رسول سے سچی عقیدت بھی۔
[۷]احکامِ دین کی پیروی کا درس بھی کربلا سے ملتا ہے کہ؛ ظلم و ستم کی آندھیاں بھی خیمۂ حسینی کو نمازوں کے اہتمام سے نہ روک سکیں۔ ان وفا شعارانِ اسلام کے قدم شریعتِ مطہرہ سے بال برابر منحرف نہیں ہوئے۔ یزیدی آندھیاں جب تھمیں تو فکری فتح صرف امام حسین کی ہوئی اور یزیدیت فکری شکست سے دوچار ہوئی۔
[۸] یادِ شہید اعظم کے اہتمام میں ہونے والے تمام مراحل کو شریعت کے مطابق انجام دیں تا کہ واقعۂ کربلا کی حقیقی تعلیم عام ہو۔
[۹] شہدا سے محبت کا تقاضا ان کے نقوشِ قدم پر عمل ہے۔ ان کے نقوشِ قدم راہِ حق ہیں ؂
تِرے غلاموں کا نقشِ قدم ہے راہِ خدا
وہ کیا بہک سکے جو یہ سُراغ لے کے چلے
[اعلیٰ حضرت]
[۱۰] موجودہ حالات میں اسلامی زندگی گزارنے کا عہد ہی ہمارے تشخص کا ضامن ہے؛ یہی پیغام ِکربلا بھی ہے کہ ہماری حیات سے موت تک کا سفر صرف اسلامی تعلیمات کی روشنی میں طے ہوئے، باقی تمام راہیں شرکی طرف لے جاتی ہیں۔
جذبۂ جاں نثاری کی تجدید کا نام یادِ حسین ہے۔ فکرِ اسلامی کی تشکیل کا نام پیغامِ کربلا ہے۔ اس لیے ہمیں اپنے افکار، اعمال، عقائد اور کردار کی اصلاح و تعمیرکر کے یزیدانِ عصر کو شکست دینی چاہیے۔ یہی وقت کا تقاضا ہے۔
٭٭٭
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 64 Print Article Print
About the Author: Ghulam Mustafa Rizvi

Read More Articles by Ghulam Mustafa Rizvi: 241 Articles with 105610 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ