ملک و قوم کی ترقی کے لیے نظم وضبط ضروری ہے۔

(Abdul Qayum, )

 خالق کائنات نے تخلیق کائنات میں نظم و ضبط قائم کیا ہے دنیا کی ہر شے کسی نہ کسی ضابطے اور قاعدے کی پابند ہے یہ زمین و آسمان،چاند ستارے اورسورج ایک نظام کے تحت چل رہے ہیں صبح و شام ،زندگی اور موت غرضیکہ ارض و سماء کی ہر شے نظم و ضبط کی پابند نظر آتی ہے ہمارادین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو نظم و ضبط کا بہترین عملی نمونہ اور انسانی زندگی کے تمام شعبوں پر محیط ہے اس میں نظم و ضبط،اتحاد و اتفاق اور اجتماعیت پر بہت زور دیا گیاہے نظم و ضبط میں سب سے زیادہ اہمیت کی حامل اور اولین عبادت نماز سرفہرست ہے جو نظم و ضبط کا بہترین نمونہ ہے جس کے باقاعدہ اوقات مقرر ہیں اس کی ادائیگی قیام وسجود ،صف بندی تک میں ایک ڈسپلن ہے آپ نبی کریم ﷺکی حیات طیبہ،سنت و حدیث نظم وضبط کا مجموعہ ہے جو ہماری پوری زندگی کے لیے کامل نمونہ ہے بانی پاکستان حضرت قائد اعظمؒ نے ہمیں ایک قوم بننے کے لیے ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط کا درس دیا کیونکہ دنیا میں جتنی بھی ترقی یافتہ قومیں ہیں انھوں نے نظم و ضبط کے سنہرے اصولوں کو اپناکرہی ترقی اور کامیابی کی منزلیں حاصل کیں لیکن یہ بات بڑی تلخ حقیقت ہے کہ ہم ابھی تک نظم و ضبط کو نہیں اپنا سکے مختلف فرقوں اور گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں اس کا نتیجہ ہے کہ ترقی اور خوشحالی کی دوڑ میں ہم دنیا سے بہت پیچھے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی ناکامیوں کی وجوہات تلاش کرکے اپنی اصلاح کریں۔ الحمدوﷲپاکستان ایک ایٹمی قوت ہے جس کی آبادی بائیس کروڑ کے لگ بھگ ہے جس میں نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہے، پاک آرمی کا شمار دنیا کی بہترین افواج میں ہوتا ہے اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ ہماری فوج کا ڈسپلن مثالی ہے کچھ عرصہ پہلے تک ہمارے کالجز میں فرسٹ ائیر کی کلاسز کو فوجی ٹریننگ دی جاتی تھی جس میں ڈسپلن کی پابندی، ایکسرسائز،ڈرل ،چھوٹے موٹے ہتھیاروں سے واقفیت اور ان کا استعمال سکھایا جاتا تھا جس سے ہماری نوجوان نسل نظم و ضبط کی عادی ہوجاتی تھی اس چیز کا طالبعلموں کو جہاں اپنی عملی زندگی میں بہت زیادہ فائدہ ہوتا تھا وہاں دفاع وطن کے لیے بہت اہم تھا لیکن افسوس کہ نہ جانے کیوں کالجز میں اس ٹریننگ پروگرام کو ختم کردیا گیا فوجی ٹریننگ کا یہ سلسلہ دوبارہ شروع کرنا چاہیے بلکہ ابتدائی فوجی ٹریننگ کا یہ سلسلہ کالجز کی بجائے سکولوں کی سطح پر شروع کرنے کی ضرورت ہے جس میں دوسری ٹریننگ کیساتھ طالبعلموں کو ڈسپلن سکھانے پر زیادہ توجہ دینی چاہیے یہ سلسلہ تمام سرکاری تعلیمی اداروں کے علاوہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں بھی ہونا چاہیے ہمارے عوام محب وطن اور ذہین ہونے کیساتھ بڑی خوبیوں کے مالک ہیں قدرت نے وطن عزیز کو بیشمار وسائل سے نواز رکھا ہے ہمارے عوام میں بہترین قوم بننے کی تمام تر صلاحیتیں بھی موجود ہیں لیکن یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم بانی پاکستان حضرت قائداعظمؒ کے فرمودات ایمان، اتحاد اور تنظیم کو فراموش کرچکے ہیں اگر ہم آج بھی اپنے اندر ڈسپلن قائم کرلیں نظم و ضبط کے پابند ہوجائیں تو دنیا کی بہترین قوم بن سکتے ہیں جس کے نتیجے میں ہم کامیابیوں اور کامرانیوں کی منزلیں پا سکتے ہیں اور آج بھی پاکستان ترقی اور خوشحالی کی دوڑ میں پوری دنیا سے آگے نکل سکتا ہے مجموعی طور پر ہم پاکستانی دنیا کی بہترین،بہادر اور محب وطن قوم ہیں ہماری قوم بڑی خوبیوں کی مالک ہے لیکن ہمارے اندر ایک بہت بڑی خامی بھی ہے جس نے ہماری ساری خوبیاں برباد کرکے رکھ دی ہیں ہمارے اندر ڈسپلن یعنی نظم وضبط کا فقدان ہے ہم قانون پر عمل کرنے کو کمزوری سمجھتے ہیں کسی دفتر، سکول کالج ،بینک ،ریلوے سٹیشن،وغیرہ پر اپنی باری کے لیے لائین میں لگنا اپنی بے عزتی خیال کرتے ہیں۔سڑک پر ٹریفک سگنل کی خلاف ورزی کو برا نہیں سمجھتے اپنی گاڑی،موٹر سائیکل پر نمبر پلیٹ لگوانے کی بجائے پریس،پولیس،ایڈووکیٹ وغیرہ لکھوانا بہادری سمجھتے ہیں۔کسی جگہ پر کوئی سیکیورٹی اہلکاریاپولیس ملازم شناخت کے لیے پوچھے تو اسے اپنی توہین سمجھتے ہیں،گھروں،پلازوں کی تعمیر میں نقشہ پاس کرانا اور گورنمنٹ کے ٹیکسز جمع کرانا اپنی ذمہ داری نہیں سمجھتے،سڑک پر جاتے ہوئے گاڑی سائیڈ پر یا پارکنگ میں کھڑی نہیں کرتے۔اپنی ڈیوٹی اور فرائض کی ادائیگی ایمانداری سے ادا نہیں کرتے۔شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں غیرضروری اور فضول رسومات میں نمود و نمائش کا مظاہرہ کرتے ہیں ہماری مجموعی زندگی انتشار، بے سکونی سے دوچار ہے ہر کام میں جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہیں سڑک اور بازار میں چلتے ہوئے صفائی کا خیال نہیں رکھتے ایسی اور دیگر چھوٹی چھوٹی کوتاہیوں اور برائیوں سے معاشرے اور قوم میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے جس کی وجہ سے ہمارا پیارا پاکستان بیشمار مسائل اور مشکلات کا شکار ہے ہم دنیا کے مقابلے ترقی اور خوشحالی کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ ترقی کی بجائے ہم تنزلی، افراتفری اور بدنظمی کا شکار ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی انفرادی اور اجتمائی زندگی میں نظم وضبط کے سنہری اصولوں کو نہیں اپنایا آئین،قانون اور ضابطوں کو اہمیت نہیں دی یاد رکھیں کسی بھی معاشرے میں رہتے ہوئے ہر شہری پر دو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہے ایک انفرادی اور دوسری قومی ذمہ داری ہوتی ہے ہمارا ہر فعل معاشرے پر اثرانداز ہوتا ہے اگر ہم کوئی اچھا اصلاحی کام کریں گے تو اس کے اچھے اثرات مرتب ہونگے اور اگر کوئی برا کام کریں گے تو معاشرے پر اس کے برے اثرات مرتب ہونگے۔اگر ہر شہری اپنی انفرادی اور قومی ذمہ داریاں قومی جذبے سے سرشار ہوکر انجام دے تو معاشرے اور قوم پراس کے مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں معاشرہ ترقی کرتا ہے ۔تو ایسے میں ہم سب پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے قول و فعل میں انجام دیتے ہوئے ایک اچھے، ذمہ دار شہری کا کردار کریں دوسروں کے جذبات اور احساسات کا خیال رکھیں تاکہ دوسرے بھی آپ کے حقوق کا خیال کریں۔اگر ہمیں اپنے آپ سے محبت ،اپنے معاشرے اور وطن سے پیار ہے اور ہم واقعی اپنی قوم وملک سے مخلص ہیں تو ہمیں اچھا شہری بننا ہوگا اپنی زندگی میں نظم وضبط پیدا کرنا ہوگا اچھے شہری سے اچھی قوم بنتی ہے اچھی قومیں اور ملک ہی دنیا میں ترقی اور خوشحالی کی منزلیں حاصل کرتے ہیں آئیے عہد کریں کہ ہم سب اچھا شہری بن کر آئین اور قانون کا احترام کریں گے ترقی،خوشحالی کی منزل پانے کا راستہ یہی ہے جس پر عمل کرنا ہم سب کی قومی ذمہ داری ہے
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 139 Print Article Print
About the Author: Abdul Qayum

Read More Articles by Abdul Qayum: 21 Articles with 4575 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: