احساسِ ذمہ داری۔۔

(Qasim Naqvi, Baghdad Iraq)

ایک مرتبہ مولا امیرِ کائنات علیؑ سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی انسان کی قیمت طے کی جائے تو اس کا معیار کیا ہوگا، آپؑ نے بڑا مختصر سا جواب دیا اس شخص کی احساسِ ذمہ داری۔احساسِ ذمہ داری ایک بہت بڑا فریضہ ہے، انسان قول و فعل میں، معاشرتی تعلقات میں، مالی وسائل کے استعمال میں جب تک احساسِ ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کرتا ہمیشہ نقصان اٹھاتا ہے۔ بولنا تو خداوندِ پروردگار نے تمام بنی نوع انسان کو سکھایا ہے، فرق صرف اتنا ہے کم ظرف آدمی کی زبان بولتی ہے اور با ظرف اشخاص کے دماغ ۔بزرگ کہا کرتے تھےکسی بھی معاشرے کی اخلاقی پستی کا معیار جانچنے کے لئے ، چند دن کی خاطر معاشرے کا اختیار چند بد تمیز لاگوں کے حوالے کردو معیار آپ کے سامنے واضح ہو جائے گا۔ بد قسمتی سے آج میرا پیارا ملک پاکستان بھی اسی طرح کے حالات سے گزر رہا ہے، لیکن اچھا ہے کہ آخر ہم72 بہتر سال سے اپنی معاشرتی پستی کا جو معیار نہیں جانچ پائے تھے اس سے آشنا ہو پائیں گے، اس امید کے ساتھ کہ ہماری آنے والی نسلیں ان غلطیوں سے کچھ سبق حاصل کریں گی۔ جو قومیں اپنی غلطیوں سے سیکھ لیتی ہیں وہ ترقی پاتی ہیں، جرمنی، فرانس، برطانیہ اور جاپان کی مثالیں آپ کے سامنے ہیں۔ بار بار اپنی غلطی کو نیا نام دے کر دہرانے سے سوائے پچھتاوے کے کچھ حاصل نہیں ہوتا، اس کی مثال طالبان، داعش آپ کے سامنے ہیں اگر امریکہ ویت نام سے کچھ سیکھ لیتا تو یہ خواج کبھی جنم نہ لیتے۔ میرے محترم وزیر اعظم اور اسٹیبلشمنٹ کو بھی وطنِ عزیز کے مفاد میں احساسِ ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مشرقی پاکستان کی علیحدگی، افغان سویت وار،کارگل میں پاک فوج کے جوانوں کی قربانیوں سے کچھ سیکھنا چاہیئے اس سے پہلے کے چڑیاں چگ جائیں کھیت اور ہم لکیر پیٹتے رہ جائیں۔ ہر ادارے کی بنیادی ذمہ داری وطنِ عزیز کے وسیع تر مفاد میں کام کرنا ہے نہ کہ اپنے مفادات کا تحفظ، ہم دوسروں کے گھر گندے ہونے کے طعنے تب دے سکتے ہیں جب ہمارا اپنا گھر صاف ہو اور ان کی صفائی بھی تبھی ممکن ہے۔ ہمارے ادارے برائے فروخت نہیں ہیں خدارا اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں اور حالات کی سنگینی کا اندازہ کریں، احتساب صرف مخالفین کا نہیں ہونا چاہئے اپنی صفوں میں چھپے ہیرے بھی تلاش کرنے کی ضرورت ہے، ورنہ یہ کرپشن کرپشن کی پھکی اس عوام کا پیٹ زیادہ ریر تک بھر نہیں سکے گی، اور مزید بیچنے کے لئے آپ کے پاس کچھ تھا ہی نہیں یاد رکھیں دنیا مکافاتِ عمل ہے آج میری تو کل تیری باری ہے ، باقی آپ خود سمجھدار ہیں۔

پاکستان پائندہ باد!
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 459 Print Article Print
About the Author: Qasim Naqvi

Read More Articles by Qasim Naqvi: 34 Articles with 16593 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Well composed all bitter facts of Pakistan history, Ayub did against mohtarma Fatima Jinnah, zia did against Bhutoo, nawaz did against benazir, musharraf did against nawaz and benazir, zardari did against nawaz and nawaz against zardari same ping pong of 72 years. Come on guys learn from past
By: Mehwash, Islamabad on Sep, 23 2019
Reply Reply
0 Like
بھائی عوام اب مزید بیوقوف بننے کے لئے تیار نہیں، خان صاحب کو اب چورن پھکیاں بیچنے سے زیادہ اپنی کارکردگی پر دھیان دینا چاہئے ورنہ جمائمہ کے گھر کی انیکسی خالی کروانہ پڑے گی۔
By: Abdullah, Lahore on Sep, 23 2019
Reply Reply
0 Like
اللہ اس قوم کو ہدایت دے
By: Ayesha, Toba tek singh on Sep, 23 2019
Reply Reply
0 Like
سر ہم تو عربیوں کے جہازوں میں سواری کو اپنی کامیابی گردان رہے ہیں اور آپ بات کر رہے ہیں احساسِ ذمہ داری کی۔
By: Khan, Faisalabad on Sep, 23 2019
Reply Reply
0 Like
Well written article
By: Salahudin, Mandibahauddin on Sep, 23 2019
Reply Reply
0 Like
Sir tusi great hoo, agar irshad bhatti jeesay bhand log TV per akar awan ko beefaqoof bana saktey hain to ap jaisey logon ki too is qoom ko waqi zarrorat hey please join some tv show. Shayad kuch log hi eman par ajain
By: Rafiq Alam, Islamabad on Sep, 23 2019
Reply Reply
0 Like
Thoughtful article sir why you disappear, i like your articles.
By: Sarah, Lahore on Sep, 23 2019
Reply Reply
0 Like
Ghalti ko ghalti manna aj kal weakness samjha jata hay, aur tabdeeli hazoor or unki qoom e loot sorry youth tu kab sey u turn key fazail bayan kar rahi hay.
By: Afzal , Lahore on Sep, 23 2019
Reply Reply
0 Like
Shameless people never learn from mistakes
By: Nazia, Islamabad on Sep, 23 2019
Reply Reply
0 Like
آج کل یو ٹرن کا دور ہے، کیوں پرانی باتیں کر کے نوجوانوں کے منہ کا ذائقہ خراب کر رہے ہیں۔
By: zakir, Karachi on Sep, 23 2019
Reply Reply
0 Like
بھیا اندھوں کے شہر میں آئینے بیچنے کی کوششش کر رہے ہیں
By: Asim, Karachi on Sep, 23 2019
Reply Reply
0 Like
Language: