اسلام آباد کی خوبصورتی۔بےرحم ھاتھوں میں!!

(Prof Khursheed Akhtar, Islamabad)

اسلام آباد کی خوبصورتی لاجواب تھی، وقت اور حکومت کی بے رحم موجوں نے حسن اسلام آباد کو بری طرح پامال کر دیا ہے، رہی سہی کسر شہری حکومت نے پوری کر دی ہے۔پارک دیکھیں تو کوڑے کرکٹ سے اور بے ر خ جھاڑیوں وگھاس پوس سے اٹے پڑے ھیں۔گلی محلے بجلی کی تاروں اور کھلے ڈبوں کے ساتھ موت بانٹتے ہیں۔کھلی جگہیں نئی تعمیر کی نذر ھو گئیں ھسپتال ڈاکٹروں کی بجائے حضرت عزرائیل کے حوالے کیے جا چکے۔جو زندگی نہیں موت میں خود کفیل ہیں۔پولیس کا رویہ البتہ کچھ درست لگتا ہے۔ایک تازہ مسئلہ جس نے سر اٹھا لیا ھے وہ گھروں کا کچرا ھے۔اسلام آباد کچھ عرصہ سے کراچی کی طرح کچرا کنڈی بنا ھوا ھے۔ڈینگی پہلے ہی بے قابو ہو رہا ہے اس پہ کچرے نے تعفن اور بیماریاں پیدا کرنا شروع کر دی ھیں۔کوئی پوچھنے والا نہیں،مئیر صاحب چونکہ کہ ن لیگ کے ہیں اس لئے سب محکمے اور حکومت کو بہانہ ملا ھوا ھے ایم این اسد عمر سے تو قوی امید تھی بے چارے وہ بھی خاموش! ھمارے سب دوستوں نے آنکھیں کان بند کر دئیےاب عوام جائیں تو کہاں جائیں؟ سنا ھے سینٹری ورکرز کو تنخواہیں نہیں مل رہیں اور انہوں نے کام چھوڑ دیا ہے لیکن یہی حالت کچھ دن اور رہی تو آپ لوگ غیر ملکی سفارت خانوں اور میڈیا سے آوازیں سنیں گے تو ھوش آئے گا۔ابھی بھی حالات آپ کے ھاتھ میں ھیں اسلام آباد کو انتظامی طور پر سنبھالنا آسان ہے۔اس آسانی کو مشکل بنا دیا گیا ہے۔جو چیزیں موجود ہیں ان کو بہتر بنا دیں۔اکثر پانی کی لائنوں میں گٹر کا پانی مکس ھو چکا ھے کچھ دوستوں سے شکوہ کیا تو وہ نہ آ ئے البتہ ھم ویسا پانی استعمال کرنے کے عادی ھو چکے۔ایک خاتون کی گجروں کے ہاں شادی ھوئی کچھ دن وہ گوبر کی بو کا شکوہ شکایت کرتی رہی ایک ھفتہ بعد خود بولی یہ دیکھا میرے آنے سے بو ختم ہوگئی۔بس اسی طرح ھم بھی بو کے عادی ھو گئے ھیں۔گٹر کا پانی استعمال کر لیا تو کیا ھوا ؟آخر عوام کو حکمران گٹر کا کیڑا ھی تو سمجھتے ہیں۔کوئی باؤلے کتوں کے کاٹنے اور ویکسین نہ ھونے کی وجہ سے مر جاتا ہے۔کوئی دوائی کے لئے تڑپ تڑپ کر جان دے دیتا ہے۔کسی کو روٹی نے تو کوئی کچی چھت گرنے سے مر جائے گا۔کوئی پنجاب پولیس کے ھاتھ چڑھ گیا تو واپسی سلامت نہ ھوگی۔سب قانون اور محافظ اشرفیہ کے ھیں۔غریب کا کوئی نہیں ہے۔غریب فاقوں سے مر تا رہا۔۔۔۔۔امیر شہر نے ھیروں سے خود کشی کر لی۔واہ رہے واہ اسلام آباد دی بیوٹی فل!!!

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Khursheed Akhtar

Read More Articles by Prof Khursheed Akhtar: 88 Articles with 27644 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Sep, 2019 Views: 159

Comments

آپ کی رائے