خلاصہء سورة الهود

(Aalima Rabia Fatima, )

• آیت نمبر 1 تا 7 میں قران کی حقانیت کو بیان کیا گیا ہے۔ آگے صرف اللہ تعالی کی عبادت کرنے کا حکم اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بشیر و نذیر ہونا مذکور ہے آگے اللہ تبارک و تعالی کی طرف لوٹنے کا اور اسکا ہر شئے سے باخبر ہونا مذکور ہے۔ پھر بتایا گیا اللہ کے ذمے ہی ہر جاندار کا رزق ہے اور وہ اس کے قیام اور سپردگی کی جگہ کو جانتا ہے۔ پھر تخلیق کائنات کے مقصد کا اور چھ دن میں زمین و آسمان کو وجود میں لانے کا ذکر کیا گیا۔مشرکین کی سرکشی کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ حیات بعد الممات کو کھلا جادو کہتے تھے
• آیت نمبر 8 تا 11 میں مشرکین کی ایک اور سرکشی کو بیان کیا گیا ہے کہ جب ان سے عذاب کو مؤخر کر دیا گیا تو مذاق اڑانے لگے اور کہنے لگے کہ کس چیز نے عذاب کو روک دیا؟
• آیت نمبر 12 میں انسان کی خود غرضی کا ذکر کیا گیا ہے کہ جب اسکو نعمت دی جاتی ہے تو وہ اس پر شکر گزاری کا اظہار نہیں کرتا اور جب وہی نعمت چھین لی جائے تو کف افسوس ملنے لگتا ہے اور ناشکرا ہوجاتا ہے اسی طرح مصیبت کے بعد کوئی نعمت ملے تو اتراتا پھرتا ہے۔۔ آگے ہر حال میں صابر و شاکر لوگوں کے لیے اجر ملنے کا ذکر کیا گیا ہے۔
• آیت نمبر 13 تا 16 میں کفار کی کی گئی بے جا فرمائشوں پر آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تسلی فرمائی، آگے مشرکین کو چیلنج کیا گیا کہ اگر یہ قرآن بقول تمہارے اگر گڑھا ہوا ہے تو تم سب بھی مل کر اس جیسی دس آیتیں ہی بنا لاؤ۔اور اگے بتایا گیا کہ دنیا کے متلاشی لوگوں کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔
• آیت نمبر 17 تا 24 میں قرآن کی حقانیت انکار کرنے والوں کے لیے وعید بیان کی گئی ہے اور اللہ پر افتراء گرھنے والوں اور اسکی راہ سے روکنے والوں کا ذکر ہے۔۔آگے مومن اور کافر کی مثال اندھے اور بینا کے ذریعے سمجھائی کہ جسطرح اندھے اور بینا برابر نہیں ہوسکتے اسی طرح مومن اور کافر بھی برابر نہیں ہوسکتے۔
• آیت نمبر 25 تا 49 میں حضرت نوح علیہ السلام اور ان کی قوم کا ذکر کیا گیا ہے۔کہ جب حضرت نوح علیہ السلام نے دعوت حق دی تو ان کی قوم نھ جھٹلایا سوائے چند لوگوں کے پھر اللہ نے حضرت نوح علیہ السلام کو کشتی بنانے کا حکم دیا پھر طوفان نوح سے پہلے حضرت نوح اور مومنین کشتی میں سوار ہوگئے اور تمام کفار غرق ہوگئے ۔۔پھر آگے آپ علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو کشتی مین سوار ہونے کے لیے کہا مگر اسے ایک بڑی موج نے آلیا کیونکہ وہ نافرمانوں میں سے تھا۔
• آیت نمبر 50 تا 60 میں حضرت ہود علیہ السلام اور قوم عاد کا بیان ہے اور اس قوم کو بھی دعوت حق ملی مگر اپنی سرکشی کے باعث عذاب میں مبتلا ہوئے اور ان پر موسلادھار بارش کا عذاب نازل کیا گیا۔
• آیت نمبر 61 تا 68 میں حضرت صالح علیہ السلام اور ان کی قوم کا قصہ مذکور ہے کہ کس طرح آپ نے قوم ثمود کو دعوت حق دی اور انہوں نے اس دعوت کو نہ صرف جھٹلایا بلکہ اللہ کی نشانی (اونٹنی) کو بھی قتل کر ڈالا۔۔ پھر ان پر ایک چنگھاڑ کی صورت میں عذاب نازل کیا گیا۔
• آیت نمبر 69 تا 76 میں حضرت ابراہیم اور فرشتون کے درمیان ہونے والی گفتگو کا ذکر ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حضرت اسحاق کی ولادت کی خوشخبری ملنے کا واقعہ مذکور ہے۔
• آیت نمبر 77 تا 83 میں حضرت لوط علیہ السلام اور ان کی قوم (اہل سدوم)کا واقعہ مذکور ہے آپ کی قوم کے سرکش لوگوں کی بستی کو الٹ دیا گیا ۔۔
• آیت نمبر 84 تا 95 میں حضرت شعیب علیہ السلام اور قوم مدین کا ذکر ہے کہ کس طرح وہ ناپ تول میں کمی کرتے اور دعوت حق کو جھٹلایا کرتے تھے ان کو بھی ایک خوفناک چنگھاڑ کے عذاب نے آ لیا۔۔
• آیت نمبر 96 تا 99 میں حضرت موسی علیہ السلام کو عطا کیے جانے والے نو معجزات کا ذکر کیا گیا ہے اسکے بعد فرعون اور اسکے پیروکاروں کی ہلاکت کا واقعہ مذکور ہے۔
• آیت نمبر 106 تا 110 میں اللہ تعالی نے انجام کے اعتبار سے انسانوں کی دو اقسام بیان فرمائیں ایک مومن اور ایک کافر ۔۔ اور پھر ان دونوں کے ٹھکانوں کا ذکر کیا کہ فرمانبردار جنت میں اور نافرمان جہنم میں رہیں گے۔آگے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تسلی کے لیے فرمایا کہ جس طرح یہ قرآن میں اختلاف کرتے ہیں اسی طرح حضرت موسی علیہ السلام کی قوم بھی توریت میں اختلاف کیا کرتی تھی۔
• آیت نمبر 112 تا 114 میں سرکشی کو چھوڑنے اور حق کی راہ پر استقامت کا حکم دیا گیا آگے ظالموں سے بچتے رہنے کا حکم دیا اور بتایا کہ ان کی معیت کا انجام آگ ہے ۔۔آگے دن کے دونوں طرفوں اور رات کے ابتدائی حصہ میں نماز قائم کرنے کا حکم دیا گیا اور بتایا کہ نیکیاں گناہوں کو مٹا دیتی ہے ۔۔
• آیت نمبر 120 تا 122 میں یہ بتایا گیا ہے کہ تمام انبیاء کی خبریں جو بیان کی گئی ہیں ان میں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دل کی تسکین اور مومنین کے لیے نصیحت اور عبرت ہے ۔
• آیت نمبر 123 میں اللہ کے ساتھ غیب کا خاص ہونا اور اسی کی عبادت کرنے اور اسی پر توکل کرنے کا بیان ہے۔
• وجہ تسمیہ :
اس سورت کی آیت نمبر 50 تا 60 میں حضرت ہود علیہ السلام اور انکی قوم کا واقعہ مذکور ہے اسی مناسبت سے اس سورت کا نام ہود رکھا گیا ہے۔

• تعداد آیات، رکوع ، حروف اور کلمات:

123 آیات، 10 رکوع، 1947کلمات ، 7633 حروف۔
• فضائل :
• حضرت کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جمعہ کے دن سورۂ ہود پڑھا کرو(شعب الایمان، سورۃ ہود، ۲ / ۴۷۲، الحدیث: ۲۴۳۸)
• حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں ،حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی: یا رسولَ اللہ ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر بڑھاپے کے آثار نمودار ہوگئے۔ ارشاد فرمایا : ’’مجھے سورۂ ہود، سورۂ واقعہ، سورۂ مرسلات، سورۂعَمَّ یَتَسَآءَلُوْنَ، اور سورۂ اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ، نے بوڑھا کردیا) ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ الواقعۃ، ۵ / ۱۹۳، الحدیث: ۳۳۰۸(
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 267 Print Article Print
About the Author: Aalima Rabia Fatima

Read More Articles by Aalima Rabia Fatima: 35 Articles with 12210 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ