بچوں کی وراثت

(Shamim Iqbal Khan, )

ہندی کی ایک کہاوت ہے کہ ’پوت سپوت تو کاہے دھن سنچئے؟، پوت کپوت تو کاہے دھن سنچئے؟‘ اس مطلب یہ ہوا کہ بیٹا اگر لائق ہے تو اس کے لیے دولت جمع کرنے کی کیا ضرورت ہے(وہ خود ہی دولت کما لیگا) اور بیٹا نالائق ہے تو دولت جمع کرنے کی کیا ضرورت ہے، کیونکہ وہ خود کچھ نہیں کرکے جمع دولت پر عیش کریگا۔لہذا لڑکوں کے لیے دولت جمع کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر والدین اپنے بچوں کے لیے کچھ کرنا ہی چاہتے ہیں توان کی تربیت پر توجہ دیں۔ اگر ان کو اچھی تربیت مل گئی توآپ کے بعد بھی وہ آپ کی مغفرت کی دعا کرتے رہیں گے۔ورنہ یہی کہا جائگا ’’یہ جائداد ہماری ہے اور وہ قبر ابّا کی ہے‘‘۔

مرنے کے بعد انسان دو چیزوں کا مالک رہ جاتا ہے،ایک توقبر کا عارضی مالک رہتا ہے جس میں وہ آرام فرما ہے اور دوسرے اس کے اعمال جو اس نے زندگی میں کمائے۔گھر والوں کے ساتھ اچھا برتاؤ،اولاد کی اچھی پرورش،فرائض اور حقوق العباد کی منصفانہ ادائگی یہ اچھے اعمال کی ضمانت ہیں۔اگر بچوں کی تربیت اس طرح ہوئی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی بھی تربیت اچھی طرح سے کر سکے ہیں تو یہ صدقہ جاریہ ہو جائے گا۔لہذا یہ ضروری ہے کہ اپنے اعمال کو درست رکھتے ہوئے بچوں کی تربیت کی فکر کی جائے۔

٭ نو مولود اور شیر خوار بچوں کو سینے سے لگانے سے ان میں ایسی جینیاتی ،تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں جو ایک طویل عرصہ تک برقرار رہتی ہیں،اسی مناسبت سے بچوں کو گلے لگانا ان سے لاڈ کا اظہاریا ان کو احساس حرارت دینے کے علاوہ بھی اور بہت کچھ ہو سکتا ہے۔2017میں کیے گئے ایک سروے سے معلوم ہوا تھا کہ شیر خوار بچوں کو بار بار گلے لگانے سے ان کے جسم میں سالماتی(مالیکیولر) سطح کی تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں جس کا اثر کئی برس تک برقرار رہتا ہے۔اب دوسرے جانب جن بچوں کو بہت پیار نہیں کیا جاتا وہ آگے چل کر مضطرب اور چڑچڑے بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔

٭ اپنے بچوں کی خوبیوں کو پہچانیں اور اس کی تعریف کریں اس سے ان کی خد اعتمادی بڑھے گی اور اس سے انکو مشکل نظر آنے والی چیزوں کو حل کرنے میں آسانی ہوگی۔بچے والدین کی بات سننے،اس پر عمل کرنے اور اپنے پریشان کن رویوں کو بدلنے کو اس وقت آمادہ ہوں گے جب ان کی عزت نفس مجروح نہ ہو۔انکی غلطیوں پر ان کو ذلیل کیا گیایا شرمندہ کیا گیا تو اس سے ان کی عزت نفس مجروح ہوگی۔ٹھنڈے ماحول میں ان کو ٹھنڈے دِل سے سمجھائیں۔منفی و جذباتی رویہ جیسے غصہ وغیرہ بالکل نہ کریں۔

٭ بچوں میں موازنہ نہیں ہونا چاہئے ، بڑے چھوٹے کا فرق نہ ہونا چاہئے بھائی بہن میں تو بالکل نہیں۔ اگر کسی بچے کو لگنے لگے کہ والدین کی توجہ دوسرے کے ساتھ زیادہ ہے تو یہ خطرناک حالت کی شروعات ہو رہی ہے۔اگر والدین نے سمجھ داری سے کام نہیں لیا تودونوں کے بیچ کبھی نہ ختم ہونے والی مخالفت پیدا ہو سکتی ہے۔بچوں کو یہ یقین دلانا پڑے گا کہ ان سے برابرکا پیار کیا جا رہا ہے۔کسی کو کسی پر فوقیت نہیں ہے۔

٭ اگر بچے کو گھر میں بہتراور مثبت توجہ نہیں ملی تو وہ منفی طریقہ اپنا کر گھر والوں کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کریگا۔مثال کے طور پر کسی چیز کو توڑ دینا،شور شرابہ کرنا، لڑائی جھگڑے پرآمادہ رہناوغیرہ۔بچہ والدین کی توجہ چاہتا ہے اس کے لیے وہ کوئی بھی طریقہ اپنا سکتا ہے۔لہذا بچے پر پوری توجہ کی ضرورت رہتی ہے۔والد کو کام کے سلسلہ میں سات آٹھ گھنٹہ کے لیے باہر جانا ہوتا ہوگا۔ایسی حالت میں بچہ ماں کے ساتھ رہتا ہے،یہ بڑے اطمینان کی بات ہے لیکن اگر ماں کے ساتھ رہتے ہوئے بھی بچہ اکیلا پن محسوس کر رہا ہے تو یہ بڑے فکر کی بات ہے۔بچے کے لیے وہ حالت بہت ہی خطرناک ہوتی ہے جب ماں بھی ملازمت کرتی ہو۔ بچے کو مثالی بنانے کے لیے اس کو وقت دینا لازمی ہے۔بچوں کی پرورش نوکروں کے ذریعہ مت کرائیں۔

بچوں کو ادب و آداب کیسے سکھائیں:
کئی والدین اپنے بچوں کولوگوں میں اُٹھنے بیٹھنے کی درست وبنیادی طور طریقے یا ادب و آداب کی تربیت دیتے ہی نہیں ہیں یا پھر انہیں یہ سب غلط وقت پر سکھاتے ہیں۔والدین اکثر تند و تیزاصلاحی موڈ میں بچوں کوتربیت دیتے ہیں جو کہ ٹھیک نہیں ہے۔مثال کو طور پر کوئی مہمان آیا تو بچوں کے لیے حکم صادر ہوا’چلو سلام کرو‘۔سلام نہ کرنے کی عادت پر ڈانٹ پھٹکار بھی شروع ہو جاتی ہے۔اس طرح کی تربیت بچوں کو نہیں دینی چاہئے۔

دوسری زبان کے موثر الفاظ اگر اردو میں استعمال کیے جاتے ہیں تو کوئی برائی نہیں ہونی چاہئے مثال کے طور پر بچوں سے پلیز یا تھینک یوکہلوانا چاہئے، مصافحہ کرتے وقت بچوں کی نظریں نیچی نہ ہوں آنکھوں میں دیکھتے ہوئے خیریت پوچھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اپنے بچوں کو لوگوں کے درمیان اٹھنے بیٹھنے کے درست و بااخلاق طور طریقے اپنانے کی تربیت دینا چاہتے ہیں تو ان کے ساتھ پہلے خود پریکٹس کریں تاکہ بچوں کو یہ سب سیکھنے میں مدد حاصل ہو۔آپ کے ساتھ اخلاقی رویے،ادب و آداب اور خوش زبانی کی پریکٹس سے ہی وہ معاشرے میں دیگر افراد کے ساتھ بھی وہی رویہ روا رکھیں گے۔

والدین گھر میں دفتر اور خانگی مصرفیات کے بعدآپ خود تو موبائل فون،کمپیوٹر، ٹی․وی․پروگراموں میں آسودگی تلاش کرتے رہیں اور اپنے بچوں سے کتب بینی ، علم دوستی اور صحت مند مشاغل کی توقع کیسے رکھ سکتے ہیں؟اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بچے کھلی ہوا میں کھیلیں کودیں،ورزش کریں، پودوں اور جانوروں سے پیار کریں اور انسانوں کے درمیان وقت گزاریں تو پہلے خد آپ کواس صحت مند طرز زندگی کو مستقل بنیادوں پر اپناناہوگا۔بچوں کو اچھی اور خیر کی مثال بن کر دکھائیں۔اگر ہم نے آج کوئی اچھی بات سیکھی ہے تو بچوں کو بتائیں۔بچوں کو سناتے ہی نہ رہیں ان کو سنا بھی جائے، اگر آپ نہیں سنیں گے تو دوسروں کو سنائیں گے۔جس بچے کو گھر میں محبت نہیں ملی وہ نشے کی طرف مائل ہوگا اور جس کے دل میں احساس کمتری یا احساس محرومی ہوگی وہ تخریب کاری کی طرف جلد مائل ہو جائے گا۔اس لیے ضروری ہے کہ مال کی وراثت کے ساتھ ساتھ طربیت کی وراثت بچوں کو ضرور دیں، وہ اپنی ضرورت کی چیزیں سب حاصل کر لیں گے۔

اپنے بچے کی تعلیمی کارکردگی کو بہتربنانے میں اس کی مدد کریں:
اگر آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ آپ کے بچے کواسکول کی پرواہ نہیں ہے اور پڑھائی اور ہوم ورک سے جی چراتا ہے اسی لیے اس کے نمبر کم آتے ہیں۔آپ اپنے بچے کی تعلیمی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے اس کی مدد کریں،اس اسکے حال پر نہ چھوڑ دیں۔
ان باتوں کو ذہن میں رکھیں:

دباؤ ڈالنے سے مسئلہ بڑھتا ہے:
اگر آپ بچے پر پڑھائی کرنے کا دباؤ ڈالیں گے تو وہ اسکول اور گھر میں پریشانی کا شکار ہو جائے گا۔شاید وہ اپنی پریشانی سے چھٹکارا پانے کے لیے آپ سے جھوٹ بولے،اپنے کم نمر چھپائے،رپورٹ کارڈ پر آپ کے نقلی دستخط کرنے کی کوشش کرے یا اسکول سے غیر حاضر رہے، اس طرح مسئلہ اور بگڑ جائے گا۔

انعام کا لالچ:
ایک صاحب بتاتے ہیں کہ وہ چاہتے تھے کہ ان کی بیٹی پڑھائی میں توجہ دے اس لیے جب بھی وہ اچھے نمبر لاتی تو ہم اسے انعام دیتے۔لیکن ہماری اس کوشش کا اس پر الٹا اثر ہواہم نے دیکھا کہ اس کا سارا دھیان صرف انعام پانے پر رہتا تھا۔جب بھی اس کے کم نمبر آتے تو اس کو اس بات کا اتنا دکھ نہیں ہوتا تھا جتنا انعام نہ ملنے کا۔

استادوں کے سر الزام ڈالنے سے بچوں کا بھلا نہ ہوگا:
اگر آپ اپنے بچے کو کوتاہیوں کے لیے استادوں کو قصور وار ٹھہرائیں گے تو ہو سکتا ہے بچہ یہ سوچنے لگے کہ اچھے نمبر حاصل کرنے کے لیے اسے خود محنت کی ضرورت نہیں ہے۔اس طرح وہ اپنی غلطیاں دوسروں کے سر ڈالنا سیکھے گا اور دوسروں سے یہ توقع کریگا کہ وہ اس کی مشکلات کا حل تلاش کرے۔

اپنے جذبات پر قابو رکھیں:
اگر بچے کے خراب نمبر دیکھ کر آپ کا پارہ چڑھ جاتا ہے توبہتر ہوگا کہ آپ غصہ کی حالت میں اس سے اس موضوع پر بات نہ کریں۔جب غصہ ختم ہو جائے تو ٹھنڈے دل و دماغ سے شفیق ہوکر بات کرنازیادہ منافع بخش ہوگا۔

ایسا ماحول بنائیں جس سے بچہ توجہ سے پڑھ سکے:
بچے کے ہوم ورک کرنے کی جگہ ایسی ہونی چاہئے جہاں کوئی ایسی چیز نہ ہو جس سے اس کا ذہن بھٹک سکے۔پڑھنے کا کمرہ الگ ہو تو بہتر ہے ورنہ ٹی․وی․پڑھتے وقت نہ چلایا جائے نہ موبائل وغیرہ پر بات کی جائے۔بچہ کا ہوم ورک روز کا روز کرایا جائے ورنہ بچہ کلاس میں احساس کمتری کا شکارہوسکتا ہے،اور پڑھائی سے دلچسپی ہٹے گی۔

والدین کی اولین خواہش ہوتی ہے کہ اولاد کی بہترین تعلیم و تربیت کریں اور اس کو معاشرے کا کامیاب فرد بنائیں۔پچھلے وقتوں میں مشترکہ خاندانی نظام ہونے کے سبب گھرانے کے بزرگ اس فریضے کی بہترین ادائیگی کرتے تھے۔دادا دادی،نانا نانی کے ذریعہ پروان چڑھنے والے بچے باادب اور کامیاب ہوا کرتے تھے۔

ان کی گفتگو اور رویے سے ان کی تربیت اورتہذیب جھلکتی تھی۔مگر فی زمانہ مشترکہ خاندانی نظام ٹوٹنے کے سبب اولاد کی پرورش سے لیکر تربیت تک ساری ذمے داری والدین کو نبھانی پڑتی ہے۔گو کہ والدین حتی الامکان کوشش کرتے ہیں کہ بہترین تعلیم و تربیت کے ساتھ بہترین پرورش کی جائے لیکن اکثر چھوٹے چھوٹے مسائل میں الجھ جاتے ہیں۔اولاد کی پرورش کے اکثر معاملات ان کو پریشان کیے رہتے ہیں۔اس لیے کوشش یہی ہونی چاہئے کہ کم سے کم دادا ،دادی کا ساتھ نہ چھوٹے تاکہ وراثت اچھی چلے۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 178 Print Article Print
About the Author: Shamim Iqbal Khan

Read More Articles by Shamim Iqbal Khan: 58 Articles with 29096 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: