چغل خوری

(Imtiaz Ali Shakir, Lahore)

 قرآن مجید کی سورۃ آل عمران کی آیت نمبر26کے اندر اﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا’’اﷲ جسے چاہے بادشاہی دیتا ہے اور جس سے چاہے بادشاہی چھین لیتا ہے اورجسے چاہے عزت دیتا ہے اورجسے چاہے ذلیل کرتاہے‘‘حدیث شریف میں آیاکہ’’حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کس کو کہتے ہیں؟ صحابہ رضی اﷲ عنہم نے عرض کیا:اﷲ اور اس کے رسول ﷺہی بہتر جانتے ہیں،آپ ﷺنے ارشاد فرمایا اپنے(مسلمان)بھائی(کی غیر موجودگی میں اس) کے بارے میں ایسی بات کہنا جو اسے ناگوار گزرے (بس یہی غیبت ہے) کسی نے عرض کیا،میں اپنے بھائی کی ایسی برائی کاذکر کروں جو واقعتا اس میں ہو(تو کیا یہ بھی غیبت ہے)؟آپﷺنے ارشاد فرمایا وہ برائی جو تم بیان کررہے ہو اس میں موجود ہے تو تم نے اس کی غیبت کی،وہ برائی(جو تم بیان کرو)اس میں موجود ہی نہ ہو تو پھر تم نے اس پربہتان باندھا‘‘غیبت اوربہتان کے درمیان میں ایک عمل ایسابھی ہے جسے چغلی کہاجاتاہے،چغلی اس عمل کوکہتے ہیں جس میں کوئی انسان مرد یاعورت کسی دوسروے مردیاعورت کی غیرموجودگی میں اس کی برائی بیان کرے یعنی غیبت کرے اورسننے والایاوالی کسی اورمحفل یاشخص کے سامنے وہی بات اپنے الفاظ میں بیان کرے-

جوبرائی یاخامی کسی انسان کی ذات میں موجودہواسے متعلقہ انسان کی غیرموجودگی میں دوسروں کے سامنے بیان کی جائے وہ غیبت کہلاتی ہے اورچغل خوراسے کہتے ہیں جس نے خودمتعلقہ انسان کوبرائی کرتے دیکھایاسنانہ ہو،کسی سے کسی کی برائی سن کرآگے بیان کرے یعنی سنی سنائی بات کوآگے بڑھادیناچغلی کہلاتاہے،چغل خوری،غیبت زنی اوربہتان تراشی کرنے ولاغلط فہمی کاشکاہوجاتاہے کہ جیسے اُس کے اعمال دوسروں کی عزت ووقارکومتاثرکرنے میں کامیاب ہورہے ہوں جبکہ حقیقت میں اﷲ تعالیٰ کے سواعزت وذلت دینے والاکوئی نہیں،بدقسمتی سے آج کامعاشرہ انہیں اعمال کی زد میں ہے،چغلی انتہائی بدتہذیب،بدتمیز،بدتربیت،بدعقلے،بدنسلے ،حسدوبغض سے بھرے ذہن ودل کی پیداوارہے،چغل خورانتہائی بزدل ہوتے ہیں اوربزدل ہمیشہ پیچھے سے وارکرتاہے جس طرح منافق ہمیشہ پیٹھ پیچھے برائی یعنی دوسروں کی غیرموجودگی میں ان پرتہمت لگاتے ہیں غیبت کرتے ہیں،چغلی کرتے ہیں،ایسے لوگ سچ کاسامناکرنے کی جرات نہیں کرتے،حسد،بغض،منافقت،نفرت کی آگ میں جلنے والے سمجھتے ہیں کہ ان کے بغض اورحسدکی آگ یاجلن سے اٹھنے والادھواں دنیاکومتاثرکرسکتا ہے جبکہ حقیقت میں ایسے لوگ اپنے بغض اورحسد کی آگ میں خودہی جلتے رہتے ہیں،حسد اوربغض بھرے ذہن ودل میں غیبت نامی زہریلہ ناگ جنم لیتاہے اورایسے لوگ دوسروں کی غیبت کرنے میں اس قدرمصروف ہوجاتے ہیں کہ انہیں اپنے لیے وقت ہی نہیں ملتا،دوسروں سے حسد،بغض اورنفرت کرنے والے خوداپنی صلاحیتوں کے قاتل بن جاتے ہیں،ایسے لوگ سمجھ ہی نہیں پاتے کہ خودشیشے کے گھرمیں بیٹھ کردوسروں کے پتھرسے بنے گھرپرشیشے کے ٹکڑے پھینکنے سے دوسروں کے پتھرسے بنے گھرنہیں شیشہ ہی متاثرہوگا،غیبت کی جوٹھن ہے چغلی اورچغل خورغیبت زنی کے شوقین افرادسے بھی زیادہ ڈپریشن کاشکاریعنی ذہنی بیمارہوتے ہیں لہٰذاکوئی بھی صحت مندذہن ودل کاحامل انسان ایسے لوگوں کوزیادہ توجہ نہیں دیتا،ایسے لوگ کسی کاکچھ نہیں بگاڑسکتے فقط اپنی دنیاوآخرت خراب کرتے ہیں،حقیقت یہی ہے کہ اﷲ جسے چاہے عزت بخشے جسے چاہے ذلیل کردے،ہر طرح کی بھلائی صرف اﷲ ہی کے اختیار میں ہے،بیشک اﷲ ہر چیز پر قادر ہے،آپ بھی کسی چغل خور،غیبت تراش یابہتان تراش کے نشانے پرہیں یااﷲ نہ کرے کبھی آجائیں توپریشان ہونے کی بجائے اپنے رب تعالیٰ کی قدرت پرمکمل یقین رکھیں کوئی لاکھ کوشش کے باوجودبھی آپ کو رسوانہیں کرسکتا،کوئی بلاوجہ آپ کی کردارکشی کی کوشش کرے،بھرے بازارمیں بڑے مجمع کے سامنے آپ پربہتان تراشی کرے یاڈورٹوڈورچغلی خوری کرے پھربھی پریشان ہونے کی بجائے اطمینان رکھیں کہ عزت اور ذلت صرف اﷲ تعالی کے ہاتھ میں ہے،انسان کتنی ہی کوشش کرے اپنی زبان یاجسم کے دیگرعضاء سے نازیبا کلمات یاحرکات ہی کرسکتا ہے جووقتی طورپرانتہائی تکلیف دہ ہوسکتی ہیں پرجس انسان کواپنے رب رحمان کی پاک ذات پربھروسہ ہووہ پریشان نہیں ہوتااوراُس مشکل وقت میں اپنے آپ کومخاطب کرکے کہتاہے کہ بیشک عزت اور ذلت دونوں ہی اﷲ رب العالمین کے ہاتھ میں ہیں،یادرکھیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ غیبت، چغلی اوربہتان تراشی کے اثرات ختم ہوجاتے ہیں جبکہ سچ مزیدنکھرکرسامنے آتاہے،چغلی سے متاثرہونے والوں کی ذات میں وہ خامیاں موجودنہیں ہیں،غیبت کرنے والابہتان تراشتاہے تومتاثرہ شخصیات کے عزت ووقارمیں مزیداضافہ ہوجاتاہے جبکہ غیبت،چغلی،تہمت زنی،بہتان تراشی کرنے والے کے حصے میں ذلت ورسوائی کے سواکچھ نہیں آتا،چغلی،غیبت اوربہتان کسی صورت پائیداریادیرپانہیں ہوتے البتہ عارضی طورپرمتاثرین کیلئے پریشانی کاباعث بن سکتے ہے اورجولوگ اپنے معاملات اﷲ رب العزت کے سپردکردیتے ہیں انہیں کبھی عارضی پریشانی کاسامنابھی نہیں کرناپڑتا،جولوگ بدلے کی آگ میں جلتے ہیں اورچغل خوریابہتان تراش کیخلاف ویسی ہی کارروائی کرنے کی کوشش کرتے ہیں جیسی ان کیخلاف کی گئی ہوتویادرکھیں دونوں فریق ایک ہی کیٹاگری میں شامل ہوجاتے ہیں،چغل خوراپنے آپ کوکتناہی معتبرکیوں نہ سمجھے معاشرے میں اس کی کہیں عزت نہیں ہوتی،لوگ اس کی موجودگی یادنیاوی رتبے کے باعث اس کی ہاں میں ہاں ملاسکتے ہیں پردل سے تسلیم نہیں کرتے،چغل خورہمیشہ پریشان ہی رہتاہے کہ سارے زمانے میں رسواکرنے کی کوشش کے باوجودمتعلقہ شخصیت یاشخصیات کی عزت مزیدبڑھ جاتی ہے اورچغل خورلوگوں کے دل سے اترنے کے بعد نظروں سے بھی گرجاتاہے،حسدوبغض کی آگ میں جلنے والوں کوکبھی سکون میسرنہیں آتا،ہمیشہ ان کے ذہن ودل مضطرب رہتے ہیں جبکہ اﷲ سبحان تعالی کاشکراداکرنے والے اپنی پریشانیاں اپنے مالک کے سپردکرکے مالک کی رضامیں راضی رہنے کی کوشش کرنے والے ہمیشہ پرسکون رہتے ہیں اوران کے مزاج میں قدرتی اطمنان اورٹھہراوپیداہوجاتاہے،دورحاضرمیں بہت سارے لوگ لائی لگ یعنی کسی بھی بات پربغیرتحقیق وتصدیق یقین کرلیتے ہیں ایسے لوگ اپنے مخلص عزیزواقارب اوردوستوں سے خودکودورکرکے چغل خوروں اورخوشآمدیوں کی صحبت زیادہ پسندکرتے ہیں،خودپسندی اورخودفریبی کاشکاررہوجاتے ہیں،منفی سوچ اوررویے ان لوگوں کی پہچان بن جاتے ہیں،مثبت سوچ اورحکمت عملی ایسوں کی ضدبن جاتی ہے،انہی لوگوں کومیڈیکل کی زبان میں نفسیاتی مریض یاذہنی بیماریاپھرڈپریشن زدہ بھی کہاجاتاہے،غیبت،چغلی اوربہتان تراشی سن کربغیرتصدیق وتحقیق مان لینے والابھی چغل خور،بہتان تراش کے برابرگناہگاربن جاتاہے لہٰذاکسی کی غیرموجودگی میں اُس کی برائی سنانے والے پربغیرتحقیق وتصدیق یقین نہیں کرناچاہئے،حسد،بغض،غیبت،چغلی،بہتان تراش دوسروں کی نہیں خود اپنی صلاحیتں اوروقت ضائع کرتاہے،بے شک عزت اﷲ تعالیٰ اپنی رحمت سے عطافرماتاہے جبکہ ذلت لوگ خوداپنے اعمال یعنی غیبت،چغلی،بہتان تراشی جیسے گناہوں کے سبب اٹھاتے ہیں،بغض،حسد،غیبت اورچغلی جیسی بیماریوں میں مبتلاہونے والے بھی انسان ہیں لہٰذابطورانسان ایسے لوگ آپ کی دُعاؤں کے زیادہ حق دارہیں،اﷲ سبحان تعالیٰ ہم سب کوغیبت،بہتان تراشی اورچغلی جیسے گناہوں اورچغل خوروں کے شرسے محفوظ رکھے(آمین)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Imtiaz Ali Shakir

Read More Articles by Imtiaz Ali Shakir: 630 Articles with 309160 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Nov, 2019 Views: 612

Comments

آپ کی رائے