اپنے والدین کا ساتھ دیں جیسا انہوں نے آپ کا دیا

وقت کا پہیہ گھومتا ہے اور وہی والدین جنہوں نے ہمیں پیدائش سے لے کر نوجوانی کی منزل تک پہنچایا ہوتا ہے ۔۔۔بڑھاپے کے سفر پر چل پڑتے ہیں۔۔۔وقت کے ساتھ ہونے والی تبدیلیوں میں سب سے بڑی کمزوری آتی ہے جب یہی والدین اپنی اولاد کے ساتھ رہتے ہیں اور ان کی محبت اور توجہ کے لئے بے قرار ہوجاتے ہیں۔۔۔ہمارے یہاں اولاد بہت جلدی غصے میں آجاتی ہے اور والدین کے سوالات، ان کی باتوں، ان کے کم سننے یا بھولنے کی عادات سے پریشان ہوجاتی ہے۔۔۔لیکن بہت ضروری ہے کہ آپ اپنے والدین کا اس وقت ساتھ دیں اور ان کو اپنے ساتھ لے کر چلیں جیسا کہ وہ آپ کو لے کر چلے تھے۔۔۔
 


والدین کو وقت دیں
دنیا کا کوئی کام نہیں رکے گا لیکن اگر آپ نا چاہیں تو۔۔۔اس لئے یہ سوچنا کہ والدین کو وقت نا دینے سے کوئی نقصان نہیں ہوگا سراسر غلط سوچ ہے۔۔۔وہ دن کے چوبیس گھنٹے نہیں مانگتے بلکہ صرف چند لمحے ان کیساتھ گزار لینے سے ہی انہیں طاقت مل جاتی ہے۔۔۔بعض گھروں میں ماں باپ آوازیں دیتے رہتے ہیں لیکن انہیں جواب ہی نہیں ملتا۔۔۔بوڑھے ماں باپ تنہائی کو اپنی زندگی کا دوست بنا لیتے ہیں اور یوں وہ اپنے وقت سے پہلے ہی بوڑھے ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔۔۔۔ہر کام سے اہم والدین کے ساتھ وقت گزارنا ہے۔۔۔
 


پیار اور توجہ سے ان کی بات کو سنیں
ہم اپنی پریشانیوں میں یہ بات بھول جاتے ہیں کہ اگر ہمارے ساتھ والدین کی دعائیں نہیں ہوں گی تو ہم ان سے کبھی بھی نہیں نکل پائیں گے۔۔۔والدین کے سوالات کو اہمیت دیں ۔۔۔اگر وہ ایک بات بار بار بھی پوچھیں تو پیار اور سکون سے ان کو ہر بار جواب دیں۔۔۔اونچا سننے کی صورت میں بھی ان پر جھنجھلائیں نہیں اور نا ہی ان کو یہ احساس دلائیں کہ ان کی وجہ سے آپ کا کوئی ضروری کام رک گیا ہے۔۔۔یہی توجہ اور پیار والدین کی زندگی کو بڑھا دیتی ہے ۔۔۔
 


ان کو اپنے ساتھ لے کر چلیں
اکثر گھروں میں بچے والدین کا اس بات پر مذاق بناتے ہیں کہ انہیں نا تو نئی ٹیکنالوجی کا علم ہے اور نا ہی وہ اس کا استعمال جانتے ہیں۔۔۔لیکن اگر آپ چاہیں تو وہ معلومات کے اس سمندر میں آپ کے ساتھ تیر سکتے ہیں۔۔۔کسی بھی نئی ٹیکنالوجی سے انہیں آگاہ کریں۔۔۔موبائل کا استعمال نا صرف انہیں سکھائیں بلکہ انہیں سوشل میڈیا پر کام کرنا بھی سکھائیں۔۔۔باہر کی دنیا گھمائیں اور انہیں گھر کا قیدی نا بننے دیں۔۔۔

یاد رکھئے والدین ہی اولاد کی کامیابی کی پہلی سیڑھی ہیں۔۔۔اگر آپ نے پہلی سیڑھی چھوڑ دی تو منزل تک پہنچنا ناممکن ہوجائے گا-

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 776 Print Article Print

YOU MAY ALSO LIKE:

Reviews & Comments

Language:    
As family members age, adult senior children are often put in the position of caring for an elderly parent. Many times the parent moves into the adult child’s home, or into a senior group home or facility. In either case, it means extra responsibility for the “child,” who is already a senior himself or herself.