جادو ٹونا اور دوسروں کی زندگیاں

(Dr Zahoor Ahmed Danish, Karachi)

اسلام دین فطرت ہے ۔زندگی کا وہ کونسا مرحلہ ہے جہاں اسلام ہماری رہنمائی نہیں کرتا۔ہرہرلمحہ ہر ہر جگہ اسلام مشفق سائبان کی طرح ہمارے ساتھ ساتھ ہے ۔آ ج معاشرے میں ایک مرض جس کی بدولت خاندان کے خاندان تباہ ہوگئے ۔ازدواجی زندگیاں برباد ہوگئیں ۔۔بھائی بھائی سے جداہوگیا۔۔رشتوں میں کوئی اپنایت باقی نہ رہی ۔۔وہ معاشرے کا ناسور جادو ٹوناہے ۔آئیے اس مرض کے بارے میں جانتے ہیں ۔
سحر اس کا لغوی معنی ہے: ’’ہر وہ چیز جو لطیف اور باریک ہو۔‘‘ اور یہ ’’سَحَرَہٗ‘‘ سے ہے اور اس وقت بولا جاتا ہے جب کسی شخص کے لئے کوئی ایسا معاملہ ظاہر ہو جس کا سمجھنا اُس پر دُشوار اور مخفی ہو۔ قرآنِ مجید میں یہ لفظ اس طرح بیان ہوا ہے:
فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا سَحَرُوۡۤا اَعْیُنَ النَّاسِ(پ۹، الاعراف:۱۱۶)
ترجمۂ کنز الایمان:جب انہوں نے ڈالا، لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر دیا۔
اور سَحْر(س کے فتحہ کے ساتھ)غذا کو کہتے ہیں اس کے پوشیدہ ہونے کی وجہ سے۔پھیپھڑوں اور حلقوم سے متعلق جسمانی حصے کو بھی سَحر کہتے ہیں۔ اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے مبارک فرمان میں یہ لفظ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں : ’’حضورصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس حال میں وصال فرمایا کہ میرے سینے کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے تھے ۔‘‘ (۱)،(صحیح البخاری،کتاب المغازی ،باب مرض النبی ووفاتہ،الحدیث:۴۴۴۹،ص۳۶۵۔)
حضرت سیِّدُنا صالح عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَـــیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی قوم نے آپ عَلَـــیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے جو کچھ کہا اسے حکایتاً بیان کرتے ہوئے اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشادفرماتا ہے:’’قَالُوۡۤا اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیۡنَ ۱۵۳( پ۱۹، الشعراء :۱۵۳)
اس کا معنی یہ ہے کہ انہوں نے کہا کہ آپ عَلَـیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامایسی مخلوق میں سے ہیں جو کھاتے اور پیتے ہیں اور اس کی دلیل دیتے ہوئے کہنے لگے :مَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا ۚۖ (پ۱۹، الشعراء:۱۵۴)
ترجمۂ کنز الایمان:تم تو ہمیں جیسے آدمی ہو۔‘‘یعنی تم تو ہماری مثل کھانے پینے والے انسان ہی ہو۔
سِحْرکاشرعی معنی شرعی طور پر یہ لفظ ہر اس امر کے ساتھ خاص ہے جس کا سبب پوشیدہ ہو اوراسے حقیقت کے علاوہ پر محمول کیا جائے اوریہ حقائق کی پردہ پوشی اور دھوکا دہی کے قائم مقام ہوتا ہے۔
جب یہ لفظ مطلق استعمال کیا جائے تو مذموم معنی مراد ہوتا ہے، بعض اوقات اس کا استعمال کسی نفع مند اور قابلِ تعریف فعل میں ہوتاہے مگرکسی قید کے ساتھ ۔ چنانچہ {1}…خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْنصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے: ’’بلاشبہ بعض بیان جادو ہوتے ہیں۔‘‘(۱)(صحیح البخاری،کتاب النکاح،باب الخطبۃ، الحدیث:۵۱۴۶، ص۴۴۵۔)
سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ بات اس لئے ارشاد فرمائی کیونکہ بیان کرنے والا مشکل کی وضاحت کرتا ہے اور اپنے حسنِ بیان اور بلیغ عبارت سے مشکل کلام کی حقیقت سے پردہ اُٹھاتا ہے۔ فصاحت وبلاغت کی وجہ سے اسے مذمت سے خارج قرار دینے کی وجہ یہ ہے کہ اسے جادو کے مشابہ قرار دینا بعید ہے اور جس فرمانِ عالیشان سے استدلال کیا گیا ہے اس میں کوئی دلالت نہیں اور وہ فرمانِ عالیشان یہ ہے: ’’شاید! تم میں سے کوئی ایک، دلیل قائم کرنے میں دوسرے سے زیادہ خوش بیان ہو۔‘‘ (۲) (صحیح البخاری ،کتاب الحیل ، باب (۱۰)الحدیث:۶۹۶۷،ص۵۸۱۔ )
آئیے :اللہ عزوجل کے پاکیزہ کلام قرآن مجید سے اس کی رہنمائی لیتے ہیں :
اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:
وَاتَّبَعُوۡا مَا تَتْلُوا الشَّیٰطِیۡنُ عَلٰی مُلْکِ سُلَیۡمٰنَ ۚ وَمَا کَفَرَ سُلَیۡمٰنُ وَلٰکِنَّ الشَّیٰطِیۡنَ کَفَرُوۡا یُعَلِّمُوۡنَ النَّاسَ السِّحْرَ ٭ وَمَاۤ اُنۡزِلَ عَلَی الْمَلَکَیۡنِ بِبَابِلَ ہٰرُوۡتَ وَمٰرُوۡتَ ؕ وَمَا یُعَلِّمَانِ مِنْ اَحَدٍ حَتّٰی یَقُوۡلَاۤ اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَۃٌ فَلَا تَکْفُرْ ؕ فَیَتَعَلَّمُوۡنَ مِنْہُمَا مَا یُفَرِّقُوۡنَ بِہٖ بَیۡنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِہٖ ؕ وَمَا ہُمۡ بِضَآرِّیۡنَ بِہٖ مِنْ اَحَدٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللہِ ؕ وَیَتَعَلَّمُوۡنَ مَا یَضُرُّہُمْ وَلَا یَنۡفَعُہُمْ ؕ وَلَقَدْ عَلِمُوۡا لَمَنِ اشْتَرٰىہُ مَا لَہٗ فِی الۡاٰخِرَۃِ مِنْ خَلٰقٍ ؕ۟ وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِہٖۤ اَنۡفُسَہُمْ ؕ لَوْ کَانُوۡا یَعْلَمُوۡنَ﴿۱۰۲﴾ (پ۱، البقرۃ:۱۰۲)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اس کے پیرو ہوئے جو شیطان پڑھا کرتے تھے سلطنت ِسلیمان کے زمانہ میں اور سلیمان نے کفر نہ کیا ہاں شیطان کافر ہوئے لوگوں کو جادو سکھاتے ہیں اور وہ (جادو)جو بابل میں دو فرشتوں ہاروت و ماروت پر اترا اور وہ دونوں کسی کو کچھ نہ سکھاتے جب تک یہ نہ کہہ لیتے کہ ہم تو نری آزمائش ہیں تو اپنا ایمان نہ کھو تو ان سے سیکھتے وہ جس سے جدائی ڈالیں مرد اور اس کی عورت میں اور اس سے ضرر نہیں پہونچا سکتے کسی کو مگر خدا کے حکم سے اور وہ سیکھتے ہیں
جو انہیں نقصان دے گا نفع نہ دے گا اور بے شک ضرور انہیں معلوم ہے کہ جس نے یہ سودا لیا آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں اور بے شک کیا بری چیز ہے وہ جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانیں بیچیں کسی طرح انہیں علم ہوتا۔
اس آیتِ مبارکہ میں ایسے دلائل موجود ہیں جو جادو کے انتہائی برا ہونے کو ظاہر کرتے ہیں اورجادو یا تو کفر ہے یا پھر کبیرہ گناہ جیسا کہ احادیث ِ مبارکہ میں آئے گا اور مفسِّرِینِ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے بھی اس آیتِ مبارکہ پر وسیع کلام فرمایا ہے
حضرت سیِّدُنا سدی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :’’یہودیوں نے سیِّدُ المُبَلِّغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْنصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا تورات سے موازنہ کیا تو قرآنِ کریم کو تورات کے موافق پایا ، تو(وہ تورات کو پسِ پشت ڈال کر)حضرت سیِّدُنا آصف بن برخیارَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ کی کتاب اورہاروت وماروت کے جادو کی طرف بھاگ گئے۔ اس پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا یہ فرمانِ عالیشان دلالت کرتا ہے:وَلَمَّا جَآءَہُمْ رَسُوۡلٌ مِّنْ عِنۡدِ اللہِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَہُمْ نَبَذَ فَرِیۡقٌ مِّنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْکِتٰبَ ٭ۙ کِتٰبَ اللہِ وَرَآءَ ظُہُوۡرِہِمْ کَاَنَّہُمْ لَایَعْلَمُوۡنَ﴿۱۰۱﴾۫(پ۱، البقرۃ:۱۰۱)
ترجمۂ کنز الایمان:اور جب ان کے پاس تشریف لایا اللہ کے یہاں سے ایک رسول ان کی کتابوں کی تصدیق فرماتا تو کتاب والوں سے ایک گروہ نے اللہ کی کتاب اپنے پیٹھ پیچھے پھینک دی گویا وہ کچھ علم ہی نہیں رکھتے۔
آیت ِ مبارکہ میں ’’ شَیَاطِیْن‘‘ سے مراد سرکش جنَّات ہیں کیونکہ وہ آ سمان سے چوری چوری سن لیتے اور اس میں جھوٹ کی آمیزش کر کے کاہنوں کے پاس لے جاتے جو اسے کتابوں میں لکھ دیتے اور لوگوں کو سکھاتے، حضرت سیِّدُنا سلیمانعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَـــیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے زمانے میں یہ بات عام ہو چکی تھی۔ (۲)التفسیر الکبیر، البقرۃ ،تحت الآیۃ ۱۰۲،ج۱،ص۶۱۷۔)
قارءین:یہاں ہم آپ کی توجہ چاہیں گے ۔ذراغورکیجئے گا!!!
یہودی کہتے تھے کہ جِنّ غیب جانتے ہیں ، نیز وہ کہتے تھے کہ سحر(یعنی جادو)حضرت سلیمان عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَـــیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا علم ہے اور آپ عَلَـــیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سلطنت کی تکمیل جن و انس، پرندوں اور سرکَش جنَّات کے سحر سے ہوئی اور اُس ہوا کے سحر کے سبب ہوئی جو آپ عَلَـــیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے حکم سے چلتی تھی۔ چنانچہ،مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناسلیمان عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَـــیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے بہت سے علوم جن کے ساتھ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ عَلَـــیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو خاص کیا تھا، اپنے شاہی تخت کے نیچے دفن کر دئیے اس خوف کی وجہ سے کہ اگر ظاہری علوم ہلاک ہو جائیں تو ان میں سے یہ دفن شدہ باقی رہ جائیں ، کچھ عرصہ کے بعد منافقین اس (مدفون علمی خزانے)تک پہنچ گئے اور انہوں نے اس میں سے کچھ ایسی اشیاء لکھ دیں
جو بعض وجوہات کے اعتبار سے سحر سے مناسبت رکھتی تھیں ، پھر آپ عَلَـــیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے وصال کے بعد جب لوگ اِن لکھی گئی تحریروں سے آگاہ ہوئے تو انہوں نے وہم کیا کہ یہ حضرت سیِّدُنا سلیمان عَلَـــیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے عمل میں سے ہیں اور آپ عَلَـــیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے اس عظیم مقام تک پہنچنے کا ذریعہ یہی سحر ہے۔ (۱)(التفسیر الکبیر، البقرۃ ،تحت الآیۃ ۱۰۲،ج۱،ص۶۱۷۔)
سب سے ناپسندیدہ کون؟
{2}…سیِّدعالم ،نُورِمجسَّم صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے: ’’مجھے تم میں سب سے زیادہ ناپسند باتونی اور بڑھا چڑھا کر باتیں کرنے والے ہیں۔‘‘ (۳)(…المسند للامام احمد بن حنبل،حدیث ابی ثعلبۃ الخشنی،الحدیث:۱۷۷۴۷،ج۶،ص۲۲۰۔)
ترجمۂ کنز الایمان:ان کے جادو کے زور سے ان کے خیال میں دوڑتی معلوم ہوئیں۔
اکثر علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں : ’’جادو کی حقیقت حدیث ِ مبارکہ ثابت ہے اور یہی صحیح ہے، اس لئے کہ لعنتی یہودی جادوگرلَبِیْد بِن اَ عْصَم نے رحمت ِ عالم ،نُورِ مُجسَّم صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر جادو کیا اور آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے وحی کے ذریعے آگاہ ہوکر ذِی اَرْوَان نامی کنوئیں سے اُس جادو کاسامان نکالنے کا حکم ارشاد فرمایا، لہٰذا اسے وہاں سے نکالاگیا، وہ گرہوں والا تھا، اس کی گرہیں کھول دی گئیں۔ جب بھی اس کی کوئی گرہ کھلتی تو جادو کا اثر کم ہو جاتا یہاں تک کہ ساری کھل گئیں توآپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایسے ہو گئے گویا کہ رسی سے آزاد کر دیا گیا ہو۔ (۱)(سنن النسائی،کتاب المحاربۃ،باب سحرۃ اہل الکتاب، الحدیث:۴۰۸۵،ص۲۳۵۵۔ )
حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا درختوں پر لگے ہوئے پھل شمار کرنے کے لئے خیبر تشریف لے گئے تو یہودیوں نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ پر جادو کر دیا جس سے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا ہاتھ شدید متاثر ہوا توامیرالمؤمنینت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے یہودیوں کو خیبر سے نکال دیا۔
حضرت سیِّدُنا امام محمد بن ادریس شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی (متوفی۲۰۴ھ)ارشاد فرماتے ہیں : جادو عقل کو خراب کرتا، انسان کو بیمار اور قتل کر دیتا ہے اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جادو کے ذریعے قتل کرنے والے پر قصاص واجب قرار دیا۔ یہ ایک شیطانی عمل ہے
جسے جادوگر شیطان سے سیکھتا ہے اورجب اس سے سیکھ لیتا ہے تواسے دوسروں کے خلاف استعمال کرتا ہے۔ایک قول کے مطابق جادو صورتوں کوبدلنے میں مؤثرہوتا ہے(مثلاً انسان کو گدھے کی صورت میں اور گدھے کو انسان کی صورت میں بدل دیتا ہے)جبکہ ایک قول یہ ہے کہ اصح یہ ہے کہ جادوایک تخیل ہے لیکن بیماریوں ،موت اور جنون کے ذریعے بدنوں میں اثر کرتا ہے اور طبیعتوں اور نفوس میں کلام مؤثر ہوتا ہے جیسا کہ انسان جب کوئی ناپسندیدہ بات سنے تو اس کا رنگ سرخ ہو جاتا ہے اور اسے غصہ آ جاتا ہے اور کبھی تو وہ اس کی وجہ سے بیمار ہو جاتا ہے یہاں تک کہ ایک قوم کلام سن کر ہلاک ہو گئی، پس جادو بدنوں میں مؤثر ہونے والی بیماریوں کی طرح ہے۔ (۱)(1…تفسیرالبغوی، البقرۃ، تحت الآیۃ۱۰۲،ج۱،ص۶۳۔)
حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ ،قرارِ قلب وسینہ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’7 ہلاک کرنے والی چیزوں سے بچو۔‘‘ لوگوں نے عرض کی:’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!وہ کیا ہیں ؟‘‘ ارشاد فرمایا:’’(۱)… اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ شریک ٹھہرانا(۲)… جادو کرنا (۳)… اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حرام کردہ جان کوناحق قتل کرنا(۴)… سود کھانا (۵)… یتیم کا مال کھانا (۶)… جنگ کے دن بھاگ جانااور (۷)…سیدھی سادی پاک دامن مومن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا۔‘‘ (۱)(صحیح البخاری،کتاب الوصایا،باب فی قول اللہ تعالی:اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْکُلُوْنَ اَمْوَالَ…الخ،الحدیث:۲۷۶۶،ص۲۲۲۔ )
{9}…میٹھے میٹھے آقا، مکی مدنی مصطفی صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اہلِ یمن کی طرف ایک خط لکھاجس میں فرائض، سنَّتوں ، دِیَّتوں اور زکوٰۃ کے احکام تھے، نیز اس میں یہ بھی تحریر تھا:’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک سب سے بڑے گناہ یہ ہیں : اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ شریک ٹھہرانا، کسی مسلمان کو ناحق قتل کرنا، جنگ کے دن اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ سے بھاگ جانا، والدین کی نافرمانی کرنا، پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا، جادو سیکھنا، سود کھانا اور یتیم کا مال کھانا۔‘‘ (۲)(الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان،کتاب التاریخ،باب کتب النبی، الحدیث:۶۵۲۵،ج۸،ص۱۸)
ناظرین:اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ حق بیان ہے:’’تین شخص جنت میں داخل نہ ہوں گے: ’’شراب کا عادی ، قطع تعلقی کرنے والا اور جادو کی تصدیق کرنے والا(یعنی اسے صحیح کہنے والا)۔(المسند للامام احمد بن حنبل ،حدیث ابی موسی الاشعری ،الحدیث:۱۹۵۸۶،ج۷،ص۱۳۹۔)
جادوکے بارے میں شدید وعیدات اور سخت تنبیہات وارد ہیں ۔ہمیں ایسوں کی صحبت سے بھی بچنا چاہیے ۔اگر کوئی اس غیر شرعی کام میں ملوث ہے تو خدارااپنی دنیا وآخرت کو بچانے کے لیے صدق دل سے توبہ کرے ۔۔مجھے بہت سے لوگ ملتے ہیں وہ جادو کا رونا روتے ہیں ۔خاندانی رنجشوں میں ،بچوں کے رشتوں میں ،زمین و اثاثوں کی تقسیم میں لوگ جادو کا سہارا لیکر دوسرے کی جان کے ساتھ کھیل جاتے ہیں ۔آپ سمجھدار ہیں یہ کام دنیا میں بھی بربادی کا ذریعہ اور آخرت میں بھی ۔مت کسی کو اپنی ذات سے نقصان پہنچاءیں ۔یارب تو ہمیں اعمال صالحہ کی توفیق عطافرما۔
نوٹ:روحانی علاج و دیگر درست معلومات کے حصول کے لیے آپ ہم سے رابطہ کرسکتے ہیں ۔ہم اچھے اور معتبر اور نیک و پاکباز بندوں کے متعلق آپ کو بتادیں گے ۔ان معاملات میں آپ علما سے ضرور رابطہ کریں ۔وہ نبی کے دین کے وارث ہیں وہ آپ کی درست رہنماءی فرماءیں گے ۔
بنیادی معلومات و مشاورت کے لیے آپ رابطہ کرسکتے ہیں ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: DR ZAHOOR AHMED DANISH

Read More Articles by DR ZAHOOR AHMED DANISH: 352 Articles with 303599 views »
i am scholar.serve the humainbeing... View More
13 Nov, 2019 Views: 583

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ