لباس ایک پہچان

(Maryam Arif, Karachi)

ثوبیہ اجمل، لاہور
لباس کسی بھی انسان کی تہذیب اور وقار کاآئینہ دار ہوتا ہے۔ لباس شخصیت اور مزاج کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ مسلمان ہونے کے ناتے ہماری کچھ حدود و قیود بھی ہیں جن کو ہمیں فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ اسلام میں کھانے پینے ،رہنے سہنے او پہنے اوڑھنے تک ہمارے لیے رہنمای موجود ہے۔

دیکھنا یہ ہے کہ ہمارا لباس حیا کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے یا نہیں کرتا۔ ہمارا مقصد صرف جدید فیشن کو اپنانانہیں بلکہ اپنے طرز عمل سے اﷲ کی خوشنودی ہونا چاہیے۔ اس سلسلے میں والدین کی بہت بڑی ذمے داری ہے کہ وہ اپنے بچوں پر گہری نظر رکھیں۔ نوجوان لڑکے لڑکیاں آج کل جیسے لباس زیب تن کیے نظر آتے ہیں وہ کسی بھی طرح سے موزوں نہیں ہیں۔

مغربی طرز کی ملبوسات کو عام کرنے میں میڈ یاکابھی بہت بڑا کردار ہے کیونکہ زیادہ تر لوگ ٹیلی وژ ن پر دکھ کر ہی فیشن کو اپنانا شروع کرتے ہیں۔ ہمارے ٹیلی وژ ن پر جو پروگرامز اور جو ایوارڈ شوزوغیرہ دیکھائے جاتے ان کو دیکھ کر یقین کرنا مشکل ہو جاتاہے کہ کیاہم واقعی ہی کسی اسلامی ملک میں رہتے ہیں۔ ان میں ایسے ملبوسات پہنے جاتے ہیں کہ دیکھنے والے بھی شرم محسوس کرتے ہیں۔ ہوناتو یہ چاہیے ٹیلی وژ ن کے ذریعے سے ہم اپنے لباس اور اقدار کو فروغ دیں تاکہ ساری دنیا میں ہماری ایک الگ پہچان ہو سکے۔ ان سب باتوں پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل پا سکے جو ہماری اسلامی اقدار اور تہذیب و ثقافت سے گہرا تعلق رکھتا ہو۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1238 Articles with 517445 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Nov, 2019 Views: 256

Comments

آپ کی رائے