نند بھاوج کی دوستی کیسے دشمنی بن جاتی ہے؟

شادی کے بعد شوہر کے بعد سسرال میں جن رشتوں سے سب سے زیادہ واسطہ پڑتا ہے ان میں شوہر کے بعد شوہر کے بہن بھائی ہوتے ہیں جن کے ساتھ شوہر کے سبب محبت کا رشتہ ہوتا ہے مگر ان رشتوں کے ساتھ چونکہ سسرال کا نام جڑا ہوتا ہے اس سبب ان رشتوں میں محبت کے ساتھ ساتھ ایک مسابقت اور حسد کی فضا بھی ہوتی ہے- انہی رشتوں میں سے ایک رشتہ نند کا بھی ہوتا ہے جو کہ شوہر کی بڑی بہن کی صورت میں بھی ہو سکتا ہے اور چھوٹی بہن کی صورت میں بھی ، دونوں صورتحال میں اگر بھابھی سمجھے تو یہ رشتہ بہنوں کی طرح ہوتا ہے ۔ مگر عمومی صورتحال اس سے برعکس نظر آتی ہے اس کی بنیادی وجوہ کچھ اس طرح ہیں-
 


1: گھر میں ایک نیا فرد قبول کرنا مشکل ہوتا ہے
بہن بھائی تو ساری زندگی ایک ساتھ رہتے آتے ہیں مگر جب بھابھی آجاتی ہے تو فطری طور پر بھائی کی زندگی میں تبدیلی آجاتی ہے اور اس کی زندگی میں اس کی بیوی آجاتی ہے جس کو اس نے وقت دینا ہوتا ہے جب کہ بہنیں جب اس کو دیکھتی ہیں تو اس کو لگتا ہے کہ ان کا بھائی بس بہنوں کو بھول بیٹھا ہے-

2: بھابھی کے لباس سے جلن محسوس کرتی ہیں
بھابھی جس کے پاس بہت سارے نئے لباس ، میک اپ کے سامان اور دوسری نئی چیزوں کا ایک بڑا مجموعہ ہوتا ہے یہ سب وہ چیزیں ہوتی ہیں جن کی خواہش ہر لڑکی کے دل میں ہوتی ہے مگر جب نند یہ تمام چیزیں اپنی بھابھی کے پاس دیکھتی ہیں جو ان کے پاس نہیں ہیں تو جلن کا جذبہ پیدا ہوتا ہے-
 


3: بھابھی گھر کے ماحول میں تبدیلی کا باعث ہوتی ہے
بھابھی چونکہ ایک مختلف ماحول سے آتی ہے اس لیے وہ اس گھر میں آنے کے بعد بہت سارے معاملات میں تبدیلی کا باعث بنتی ہے جو کہ بعض صورتحال میں سسرالی رشتوں کے لیے ناقابل قبول ہوتی ہے اور ماحول میں تناؤ کا باعث ہوتی ہے-

4: نندیں بھابھی کی جاسوسی کرتی ہیں
سسرالی رشتہ ہونے کے باعث نندیں بھابھی کی سہیلیاں بننے کے بجائے اپنی ماں کے لیے بھابھی کی جاسوس بن جاتی ہیں اور اس کے کھانے پینے اس کی فون کالوں غرض اس کی ہر بات کا سارا احوال اپنی ماں کو سناتی ہیں جو کہ گھر میں فساد کا باعث ہوتے ہیں-
 


5: ہر معاملے میں مقابلہ کرتی ہیں
چونکہ نندیں بھابھی کی ہی ایج گروپ سے تعلق رکھتی ہیں اس لیے وہ ہر معاملے میں اپنا مقابلہ اپنی بھابھی سے کرتی ہیں اور خود کو بہتر گردانتے ہوئے بھابھی کے ہر کام میں کیڑے نکالتی ہیں اور اس کے دل کو دکھانے کا سبب بنتی ہیں-

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 1310 Print Article Print

YOU MAY ALSO LIKE:

Reviews & Comments

Language: