مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

(Mohammed Faraz Ahmed, Hyderabad)

ناورے کے شہر کرسٹیانسنڈ میں "Stop Islamisation of Norway" (SIAN) کے ایک انتہا پسند لیڈرلارس تھورسن نے دن دھاڑے قرآنِ مجید کے نسخہ کو جلانے کا ظالمانہ اور مبنی بر جہالت اقدام کیا جس پر لوگ خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے ، لیکن ان ہی تماشائیوں میں سے الیاس نامی ایک نوجوان نے اپنے جذبہ ایمانی کا ثبوت پیش کرتے ہوئے اس انتہا پسند کی ناپاک حرکت کو روکنے کے لئے اپنی قوت کا مظاہرہ کیا جس پر علامہ اقبالؒ کا یہ شعر صادق آتا ہے
کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسا
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

اپنے دینی بھائی کے اس اقدام پر ہم سلام پیش کرتے ہیں اور اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ اس نوجوان کی حفاظت فرمائے ، اس کے ایمان کو مذید پختہ کرے اور ہمیں بھی اس نوجوان کی طرح ایمانی قوت عطا فرمائے۔ آمین۔

اس حادثہ کے مقام پر پولیس بھی موجود تھی، بعض رپورٹس کے مطابق پولیس نے پہلے ہی ان شدت پسند افراد کو آگاہ کردیا تھا باجود اس کے انھوں نے ایسی حرکت کی، اگرحقیقتاً پولیس پہلے سے ہی آگاہ کرتی تو وہ قرآنِ مجید کے نسخہ کو آگ لگانے سے بھی روک دیتی لیکن پوری دنیا نے ویڈیو میں دیکھا کہ قرآنِ مجید کو آگ لگائے جانے کے کافی دیر تک بھی پولیس نے کوئی حرکت نہیں کی اور جیسے ہی الیاس نامی نوجوان نے ان پردفاعی حملہ کیا، اسی وقت پولیس فوراً حرکت میں آتی ہے اور اس نوجوان کو دبوچ لیتی ہے۔

یہاں رکئے اور غور کیجئے کہ کیا اسی طرح پولیس ان انتہا پسندوں کو نہیں روک سکتی تھی؟ کیا اسی طرح ان انتہا پسندوں کو دبوچ نہیں سکتی تھی؟ لیکن پولیس نے ایسا نہیں کیا ، یہ اسلام دشمنی کا واضح ثبوت ہے ۔ یہاں اس بات پر بھی گفتگو اور ڈیبیٹ کی ضرورت ہے کہ آیا ’’اظہارِ خیال کی آزادی‘‘ کی کوئی حد ہے یا نہیں؟ کیا اظہار خیال کی آزادی کے نام پر کسی کے بھی مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی جاسکتی ہے؟ اگر ہاں تو ایسی آزادی ناقابلِ قبول ہے۔ مغربی دنیا کو اس بات پر غور کرنا چاہئے جہاں اس آزادی کے نام پر مسلم دشمنی کا وقتاً فوقتاً اظہار ہوتا ہے۔

یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے جس میں اسلاموفوبیا اور اسلام دشمنی کا ثبوت اظہار ہوا ہو۔ ناروے میں اسی سال اگست میں عید الضحیٰ کے موقع پر اوسلو نامی شہر میں واقع مسجد ’’النور اسلامک سنٹر‘‘ میں ایک 20سالہ نوجوان دہشت گرد نے علی الصبح کھلے عام فائرنگ کی جس کو مسجد میں موجود محمد رفیق نامی ایک ضعیف نمازی نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے روکا اور اس دہشت گرد کو پولیس کے حوالے کیا۔ اس کی تفتیش میں یہ معلوم ہوا کہ یہ نوجوان نیوزی لینڈ کے کرائیسٹ چرچ مسجد میں 15 مارچ کو ہوئے دہشت گردانہ حملے سے متاثر تھا ۔ یہ تمام واقعات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اور ایک کا مقصد اسلام دشمنی ہے۔

ناروے کے اس واقعہ سے ہندوستانی مسلمانوں کے لئے بھی اہم سبق ہے۔ اس نوجوان نے جس طرح اپنے ایمان کا اظہار کیا ہے ، ہندوستانی مسلمانوں کے لئے بھی اس قسم کے جذبہ کے اظہار کی ضرورت ہے۔ ہندوستان اسلام دشمنی میں پیش پیش ہے، جس کے عملی نمونے ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں ، آئے دن ہجومی تشدد کے واقعات، مختلف طریقوں سے مسلمانوں کو ظلم کا نشانہ بنانا ، کیمپس میں اسلامی تشخص سے مسئلہ وغیرہ یہ سب اسلاموفوبیا کے مظاہر ہیں، ان کامقابلہ ایمانی قوت کے ساتھ کرنے کی ضرورت ہے۔ آج ہندوستانی مسلمان اپنے حق کی لڑائی لڑنے کے قابل ہیں، وہ اپنا دفاع بھی کرسکتے ہیں اور زبان کے ذریعہ بھی اس ظلم کے خلاف آواز اٹھا سکتے ہیں لیکن اگر اس وقت خاموشی اختیار کی جائے گی تو یاد رکھئے آنے والے دنوں میںان واقعات پرسوائے دل میں برا ماننے کے اور کوئی کام ، حتیٰ کہ لب کشائی بھی کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہیں گے۔

ہندوستان موجودہ حکومت کے زعفران ایجنڈے کی طرف تیزی سے گامزن ہے، یہاں اسلام دشمنی صرف انفرادی حد تک محدود نہیں ہے یہ اب ہر ادارے میں پھیل چکی ہے اور یہ کوئی اچانک ہوجانے والا واقعہ نہیں ہے، کئی سالوں کی منظم کوشش کا نتیجہ ہے، لیکن افسوس مسلمانوں نے ایسی کوئی کوشش نہیں کی۔ ابھی بھی وقت ہے کہ مسلم قیادتیں لانگ ٹرم منصوبہ بندی کریں اور اس کو عملی جامہ پہنانے کی کھلے دل کوشش کرے۔ مسلکی تفریقات کی اب کوئی گنجائش نہیں، کوئی باشعور، باضمیر مسلمان ان حالات میں ان مسائل میں وقت ضائع کرنے کی بے وقوفی نہیں کرے گا۔ بالخصوص نوجوانوں کو ان حالات میں پامردی اور شجاعت کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے، اپنے اوقات اور صلاحیتوں کا صحیح استعمال اور ضرورت کے وقت طاقت کا بھی استعمال کریں، اسلام نے قوی مومن کو کمزور مومن پر فوقیت دی ہے۔ اسلام بزدلی کو قطعی پسند نہیں کرتا ، ناروے کے اس نوجوان نے اسکی شاندار مثال پیش کی ہے۔ پس وقت کی نزاکت کا اندازہ لگاتے ہوئے اپنے اپنے مقام پر مناسب منصوبہ بندی کریں اور اس نفرت کی جنگ کا مقابلہ محبت اور بہترین حکمتِ عملی کے ساتھ کریں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mohammed Faraz Ahmed

Read More Articles by Mohammed Faraz Ahmed: 10 Articles with 5433 views »
Working as Assistant Editor of Rafeeq e manzil, Urdu Monthly, New Delhi, India. Student of Political Science & History, interested in current affairs,.. View More
23 Nov, 2019 Views: 640

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ