جھمکے یابالیاں ہر خطے اور تہذیب میں مشترک

(A R Tariq, )

تحریر:اسلم گل پشاور
یہ بات زمانہ قدیم سے ہی چلی آ رہی ہے کہ ہر عمر کے مرد اورخواتین دوسروں کواچھانظرآنے کے لئے اپنی سیرت کے ساتھ ساتھ صورت میں خوبصورتی پیداکرنے کی کوشش کرتے ہوئے چلے آرہے ہیں۔دورجدیدمیں ایک طرف اگر زندگی کے دیگرشعبہ ہائے نے ترقی کے منازل طے کئے ہیں تودوسری طرف فیشن یعنی بناوٹ اورسنگارنے بھی بہت ترقی ہے۔خوبصورت بننے کی جستجومیں مرد اورخواتین دونوں شامل ہیں، تاہم عام طورپر خواتین اس دوڑ میں بہت آگے ہیں اورمختلف طریقوں سے اپنے آپکوخوبصورت بناتی ہیں۔ہرخطے کی خواتین اور ہرمذہب کے پیروکار اپنی روایات،رسم ورواج، تہذیب اورثقافت کے مطابق بناؤسنگاراورزینت وآرائش کے نئے نئے طریقے تلاش کرتی رہتی ہیں،جن میں خوبصورت ملبوسات،زیورات،مہندی،جوتے،میک اپ کاسامان اورسرمہ کااستعمال وغیرہ شامل ہیں۔زیورات کی کئی قسمیں ہیں،جن میں جھمکے یابالیاں بہت اہم اورتقریباًہرخطے اورتہذیب میں مشترک ہیں۔ بالیوں کے استعمال سے خواتین کے حسن کو چارچاند لگ جاتے ہیں۔زمانہ قدیم میں بھی خواتین اپنی خوبصورتی کے لئے کانوں میں بالیوں کااستعمال کرتی تھیں۔زمانہ قدیم سے بالیوں کااستعمال شروع ہواہے۔قدیم مصرمیں تقریباً سات ہزارسال قبل بالیاں بطورزیورنمودارہوئیں۔یہ اس وقت مردوں کازیورتھا،جواونچے طبقے کے صاحب حیثیت مرداستعمال کرتے تھے۔اسکے بعدیونان میں خواتین نے بالیوں کابطورزیوراستعمال شروع کیا۔روم میں مرد اپنے کانوں میں لکڑی کی بالیاں پہنتے تھے جبکہ چین اوربھارت میں مہنگی بالیوں کااستعمال ہوتاتھا۔اسلامی تاریخ میں جگہ جگہ بالیوں کے استعمال کاذکرملتاہے۔حافظ ابن القیم دواقدی ؒ اس بابت لکھتے ہیں کہ حضرت ابراہیم ؑکی ازواج حضرت سارہؓ نے حضرت ھاجرہ ؓ کے کان چھدوائے اورجب زخم بھرگئے،تواسکے کانوں میں بالیاں پہنائیں،جس سے اسکاحسن اوربھی بڑھ گیا۔(بحوالہ روضۃ المحبین الابن القیم صفحہ نمبر316)نبی کریم ﷺ کے زمانے میں بھی کان چھدوانے کارواج تھا۔اس زمانے میں خواتین کے کان چھدواکر،بالیاں پہنائی جاتی تھیں۔اس سلسلے میں صحیح بخاری کی حدیث ہے کہ قرن اول میں صحابیات اپنے کانوں میں بالیاں پہنتی تھیں۔ِاسکامطلب ہے کہ خواتین میں کان کی بالیوں کارواج زمانہ قدیم سے چلاآرہاہے اورہردورمیں اورہرتہذیب میں خواتین کے لئے یہ ایک مشترکہ زیوررہی ہیں۔قدیم زمانے میں سونے،تانبے، پیتل،چاندی اوردیگردھاتوں سے بنی بالیاں استعمال ہوتی تھیں،جس سے خواتین کے حسن وجمال میں اضافہ ہوتاتھا۔ دورجدید میں بھی بالیاں پہننے کارواج خوب عروج پرہے اورتقریباً تمام دنیامیں خواتین اپنی خوبصورتی بڑھانے کے لئے بالیوں کو بطورزیوراستعمال کرتی ہیں۔ بھارت میں کچھ مخصوص طبقوں میں مردبھی بالیوں کو بطورزیوراستعمال کرتے ہیں۔ کبھی کبھی ایک کان میں اورکبھی کبھی دونوں کانوں میں مرد بالیوں کااستعمال کرتے ہیں۔ پاکستان اورہندوستان میں خواتین سونے کی بالیوں پہنتی ہیں، جس میں کچھ توچھوٹے ہوتے ہیں اورکچھ بالیاں سائز اوروزن میں بہت بڑی ہوتی ہیں۔ اوسط سونے کی بالیاں تقریباً ایک تولہ سے لیکر چارتولے تک ہوتی ہیں۔جوبالیاں زیادہوزنی ہو، اسکو سہارادینے کے لئے عام طورپر ریشمی دھاگہ استعمال ہوتاہے،جس کے ذریعے ان بالیوں کو سرکے بالوں کے ساتھ باندھ دیاجاتاہے، تاکہ کان کی لوکو زخمی ہونے سے بچایاجائے۔پہلے توسنہاراپنے ہاتھوں سے سادہ آلات کے ذریعے زیورات بناتے تھے اوربالیوں میں سونے، چاندی اوردیگردھاتوں کے ساتھ ساتھ مختلف قسم کے پتھراورشیشے لگاتے تھے جبکہ اس موجودہ دورمیں جدید مشینوں کے ذریعے زیورات بنائے جاتے ہیں،جس میں کشیدی کاری کاعنصربہت زیادہ ہوتاہے اوریوں جدید دورمیں بالیوں کی بناؤٹ میں بہت زیادہ دلکشی پیداکی جاتی ہے۔جو بہت خوبصورت دکھائی دیتی ہیں
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: A R Tariq

Read More Articles by A R Tariq: 55 Articles with 17837 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Nov, 2019 Views: 653

Comments

آپ کی رائے