اپنے بیٹوں کی پرورش میں یہ چند غلطیاں کبھی مت کیجئے گا


اولاد چاہے بیٹا ہو یا بیٹی اﷲ کی دین ہوتی ہے اور دونوں کی ہی تربیت میں کسی بھی قسم کی کوتاہی ایک خاندان کی نہیں بلکہ معاشرے کے نقصان کا سبب بنتی ہے۔۔۔لیکن ہمارے معاشرے میں تربیت کا حقدار صرف بیٹیوں کو ہی مانا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ہی تو گھر سنبھالنا ہے۔۔۔انہوں نے ہی تو اگلے گھر جانا ہے۔۔۔لیکن سچ تو یہ ہے کہ اس بھرم اور اس کوشش میں ہم اپنے بیٹوں کی تربیت میں کچھ ایسی بنیادی غلطیاں کر بیٹھتے ہیں جس کا خمیازہ آنے والی کئی نسلیں بھی پورا نہیں کر پاتیں۔۔۔

بیٹوں کے جذبات پر پابندی نا لگائیں
ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں رونے والی آنکھیں صرف بیٹیوں کی بنا دی گئی ہیں۔۔۔غم اور دکھ یا تکلیف کے اظہار کا حق صرف بیٹیوں کو دے دیا گیا ہے۔۔۔۔لیکن آپ کا بچہ چاہے کسی بھی عمر کا ہے اسے ہر جذبے کے اظہار کا بھرپور حق دیں۔۔۔اکثر مائیں یا گھر کے بڑے بوڑھے بیٹوں کو چوٹ لگنے پر یہ کہتے ہیں۔۔۔مرد بن مرد۔۔۔لڑکیوں کی طرح کیوں رو رہے ہو۔۔۔اتنی سی تکلیف پر رو رہے ہو۔۔۔رونا مت کیونکہ مرد روتے نہیں۔۔۔یاد رکھیئے! بیٹوں کو اگر اپنے ہی درد کی شدت محسوس نہیں ہوگی تو وہ کسی اور کی تکلیف کا اندازہ کیسے لگا پائیں گے۔۔۔ان کے دل کو سخت مت کیجئے۔۔۔کیونکہ کل کو وہ اپنی بہن ، بیوی اور بیٹی کے آنسوؤں کی تڑپ سے بھی نا واقف ہی رہیں گے۔۔۔
 


گھر کے کاموں میں ان کی مدد لیں
اکثر دیکھا گیا ہے کہ بیٹیاں چھوٹی بھی ہوتی ہیں تو ان سے دسترخوان اٹھوانا، پانی پلوانا، برتن لگوانا جیسے کام کروائے جاتے ہیں تاکہ کل کو انہیں سارے کام کرنے کی عادت ہو۔۔۔لیکن یہ کہاں لکھا ہے کہ لڑکوں سے یہ کام نہیں کروانے چاہئیں۔۔۔اپنے بیٹوں کو چھوٹی عمر سے عادت ڈالیں کہ وہ اپنی چیز واپس جگہ پر رکھیں، کمرے کو اگر پھیلائیں تو واپس سمیٹیں بھی، برتن کھانے کے بعد کم سے کم کچن یا سنک تک پہنچائیں، ڈسٹنگ، جھاڑو جیسے کام کروائیں تھوڑے تھوڑا کرکے۔۔۔اور جب ٹین ایج میں پہنچے تو کپڑے خود استری کروائیں اور ان سے کچن کے کام بھی کروائیں۔۔۔انہیں بچپن سے یہ احساس دلائیں کہ گھر کی ذمہ داری لڑکے اور لڑکی کی تفریق سے بے نیاز ہے ۔۔ساتھ ہی ان میں یہ احساس بھی پیدا ہوگا کہ کوئی کام کرنے میں شرم محسوس نا کریں۔۔۔

دوسروں کے لئے مدد کا جذبہ پیدا کریں
اپنے بیٹوں کو بار بار یہ احساس دلائیں کہ انہوں نے کبھی بھی کسی کی مدد کرنے میں پیچھے نہیں ہٹنا۔۔۔اور یہ کرنے کے لئے آپ کو عملی مثال بننا پڑے گا۔۔۔ماں اور باپ دونوں کو ہمیشہ لوگوں کی مدد کے لئے خود تیار رہنا ہوگا اور یہ جذبہ انہیں دیکھ کر بے اختیار بچوں میں منتقل ہوگا۔۔۔اس کی بنیاد میں سب سے پہلے یہ احساس ڈالیں کہ جب کوئی بڑا کھڑا ہو تو اس کے سامنے بیٹھنا نہیں ہے بلکہ اسے جگہ دینی ہے۔۔۔کسی کے ہاتھ میں سامان دیکھے تو انہیں پوچھے کہ کیا میں آپ کا ہاتھ بٹا سکتا ہوں۔۔۔اس سے پودے لگوائیں۔۔۔نا صرف اپنے گھر کے باہر کا کچرا بلکہ کچھ کچھی پڑوسیوں کے گھر کے باہر کا کچرا بھی صاف کروائیں۔۔۔جب ٹین ایج میں آئیں تو ان سے خون بھی دلوائیں اور انہیں مختلف فلاحی اداروں میں لے جاکر ان کے ہاتھ سے دوسروں کی مدد کروائیں۔۔۔
 


رشتوں کا احترام
بظاہر بہت معمولی لگے گا لیکن حقیقت میں یہ سب سے اہم نکتہ ہے بیٹوں کی تربیت کا۔۔۔گھر اور باہر کے ہر چھوٹے بڑے رشتے کا احترام سکھائیں۔۔۔خاص طور پر لڑکیوں کی عزت کرنے کا درس دیں اور انہیں دینی مثالیں دیں تاکہ ان میں نا صرف اپنے گھر کی بلکہ دوسروں کی بہنوں اور بیٹیوں کی حفاظت اور عزت کا احساس زندہ رہے۔۔۔باپ کو چاہئے کہ بیٹے کے سامنے ہمیشہ اپنی بیوی یعنی اس کی ماں کو احترام اور عزت سے پکاریں۔۔۔تاکہ اسے یہ پتہ چلے کہ اس کا بھی یہی رویہ ہو خواتین کے ساتھ-
 


ایک بیٹے کی ماں در حقیقت کسی اور کی بیٹی کے شوہر اور آنے والی ایک نسل کے باپ کی پرورش کر رہی ہوتی ہے۔۔۔ایک ایسے انسان کی تربیت کر رہی ہوتی ہے جس سے معاشرے کی باقی لڑکیوں کو احساس تحفظ حاصل ہو ۔۔۔اس لئے یاد رکھئے کہ آپ کی ذمہ داری سب سے بھاری ہے۔۔۔۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 82205 Print Article Print
 Previous
NEXT 

YOU MAY ALSO LIKE:

Most Viewed (Last 30 Days | All Time)

Comments

آپ کی رائے
Nice aese articles dete Raha Kare information multi he
By: Umme Abdul Rafay, Karachi on Dec, 10 2019
Reply Reply
0 Like
Language: