مختلف ممالک میں زيادتی کے مجرموں کو دی جانے والی سزائیں


گزشتہ کچھ سالوں سے پاکستان میں خواتین اور معصوم بچیوں کے خلاف جنسی زيادتی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آيا ہے یہاں تک کہ قصور کی معصوم زینب کے ساتھ جنسی زيادتی کے الزام کے مجرم عمران کو پھانسی کی سزا بھی دی گئی مگر عمران کو پھانسی زینب سے زيادتی کے بجائے اس کو قتل کرنے کے جرم میں دی گئی ہے- کسی بھی دوسرے انسان کو زبردستی جنسی زیادتی کا نشانہ بنانا دنیا کے ہر خطے میں انتہائی سنگین جرم تصور کیا جاتا ہے مگر دنیا کے ہر علاقے میں اس جرم کی سزا مختلف ہوتی ہے ۔ اور اس کا اطلاق اس ملک کے آئين اور قانون کے مطابق کیا جاتا ہے آج ہم آپ کو بتائيں گے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں جنسی زیادتی کے مجرموں کو کیا سزا دی جاتی ہے-

1: بھارت
پڑوسی ملک میں بھی جنسی زیادتی کے واقعات میں تیزی سے بڑھتے رجحان کے سبب 2013 میں اسمبلی میں اینٹی ریپ بل پیش کیا گیا جس کے مطابق جنسی زیادتی کے مرتکب شخص کو عمر قید کی سزا دی جا سکتی ہے عمر قید کی قید سے مراد چودہ سال قید با مشقت ہے-
 


2: چین
چین میں جنسی زیادتی کے مجرم کے لیے کسی بھی قسم کی کوئی رعائت موجود نہیں ہے اور اس جرم کے ارتکاب کرنے والے کو سزاۓ موت دی جاتی ہے-

3: سعودی عرب
سعودی عرب جہاں پر اسلامی قوانین کا نفاذ ہے وہاں پر جنسی زیادتی کو ایک انتہائی سنگین جرم تصور کیا جاتا ہے اور اس کے مجرم کا سر قلم کر دیا جاتا ہے-

4: افغانستان
افغانستان میں جنسی زیادتی کرنے والے مجرم کو جرم ثابت ہونے پر چار دن کے اندر سر میں گولی مار کر ہلاک کر دینے کا قانون رائج ہے یا پھر سر عام پھانسی دے دی جاتی ہے-
 


5: ایران
ایران میں جنسی زیادتی کے مجرم کو سنگسار کر دینے کا قانون ہے اس سزا کے مطابق مجرم کے نچلے دھڑ کو زمین میں دبا دیا جاتا ہے اور اس کے بعد اوپری دھڑ پر اس وقت تک پتھر برسائے جاتے ہیں جب تک کہ وہ موت کے منہ میں نہ آن پہنچے-

6: پاکستان
پاکستان میں جنسی زیادتی کے مجرم کو دفعہ 367 کے تحت دو طرح کی سزا دی جا سکتی ہے اس میں پہلی سزا تو موت ہے یا پھر کم از کم دس سال سے لے کر 25 سال تک کی قید با مشقت دی جا سکتی ہے اس کے ساتھ بھاری جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے -
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 868 Print Article Print
 Previous
NEXT 

YOU MAY ALSO LIKE:

Most Viewed (Last 30 Days | All Time)

Comments

آپ کی رائے
Language: