دین آخر کیسے اٹھ جاۓ گا؟ (اللہ نہ کرے)

(Manhaj As Salaf, Peshawar)
ایک سوال جو اکثر سوچنے والوں کے ذہن میں آتا ہے, اور جس کے گردو نواح میں اکثرمختلف نقاط میں، لکھتا رہتا ہوں کے جب قرآن اور سنة ہم میں موجود ہیں تو پھر آخر دین ہم سے کیسے نکل سکتا ہے؟ ظاہر ہے اس بات پر آپ بھی کبھی نہ کبھی ضرور سوچتے ہوں؟

اس کا بہتر جواب تو علماءِ حق دے سکتے ہیں مگر ایسی صحيح روایت موجود ہيں جن میں علماء کے انتقال سے دین کے اٹھ جانے کا عندیہ دیا گیا ہے. الله کے رسول (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا:

"‏ إِنَّ اللَّهَ لاَ يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا، يَنْتَزِعُهُ مِنَ الْعِبَادِ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ، حَتَّى إِذَا لَمْ يُبْقِ عَالِمًا، اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوسًا جُهَّالاً فَسُئِلُوا، فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ، فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا ‏"‏‏.

ترجمه: اللہ علم کو اس طرح نہیں اٹھا لے گا کہ اس کو بندوں سے چھین لے ۔ بلکہ وہ ( پختہ کار ) علماء کو موت دے کر علم کو اٹھائے گا ۔ حتیٰ کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو سردار بنا لیں گے ، ان سے سوالات کیے جائیں گے اور وہ بغیر علم کے جواب دیں گے ۔ اس لیے خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے ۔

(صحیح البخاری حدیث نمبر: ١٠٠)

میری دانست میں اور لوجکلى اس کا جواب کچه زیادہ گھمبیر نہیں ہے. ہم اس کو مثال سے سمجھتے ہیں. آج پاکستان کی حکومت ہر وقت لوگوں کے ذہن میں ٹیکسیشن کی بات کرتی نظر آتی ہے، تو ظاہر ہے ٹیکس کے لئے وہ ہر قسم کے پاپڑ بیلتے نظر بھی آتی ہیں,،اور ہر دوسرا شخص ٹیکس کی افادیّت پر مناظرے اور خطيبانہ لیکچرز جھوکتے نظر آتا ہے گویا باطل پروگریسو ٹیکسیشن کی بات لوگوں کے ذہن سے نہیں نکلتی.

بعینہی یہ معاملہ دین کا بھی ہے. جب دین کا علم حاصل کرنا، اس پر بات کرنا، اس کو ڈسکسس کرنا، اس کے مختلف پہلوں پر تدبّر کرنا اور اس سے مندرجات اخذ کرنا چھوڑ دیا جاۓ گا. جیسے کے آج کل ہو چکا ہے اور ایسے لوگ ہم پر مسلّط ہو جائیں گے جو دین سے اری ہوں گے حتیٰ کے بعض لوگ دین کے ممبر پر براجمان ہوں گے, مگر وہ دین کی الف بے نہ جانتے ہوں گے. حتیٰ کے وہ خود بھی گمراہ ہو جائیں گے اور اپنے غلط اور کم علم فتووں سے دوسروں کو بھی گمراہ کر دیں گے. مثال کے طور پر دین کا ایک مسئله ہے کے دین الله کے قرآن اور رسول الله (صلى الله عليه وسلم) کی سنّت پر محیط ہے جو سلف (الصالحین - نیک گزرے ہوئے علماءِ حق) کے (صحیح سند سے ثابت) فہم کے مطابق ہو. مگر کم علم لوگ ممبر پر آج براجمان ہیں جو اپنا فتویٰ الله کے قرآن یا رسول الله (صلى الله عليه وسلم) کے صحیح سند سے ثابت فرمان کی بجے کہیں اور تلاش کرتے نظر آتے ہیں اور ایسے ہے لوگ خود بھی گمراہ ہو جاتے ہیں اور عام عوام کو بھی گمراہ کر دیتے ہیں تو جب دین کا فہم رکهنے والے علماء کم اور ختم ہو جایئں گے (اللہ نہ کرے) تو دین ہم سے آہستہ آہستہ جاتا رہے گا، اور اس کے مندرجات اور فہم اگلی نسل کو صحیح فہم کے ساتھ ٹرانسفر نہیں ہوں گے.

محترم قارئین، آج لوگوں میں سیاسی باتوں کو پھیلانے کا عمل تو تیز ترین ہے، اور فیس بک اور دوسری جگہیں بھری پڑھی ہیں اور وہ اس کو آگاہی اور شعور کہتے نظر آتے ہیں، حالانكہ وہ حکّام یا خواص یا عام عوام کی دھڑا دھڑ كمزوريوں كو نام لے لے کر عام کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور یہ تو کلیر کٹ غیبت میں مبتلا ہونا ہے. ایک دوسرے کے ساتھ فضول گپ کرنا تو عام ہے، مگر قرآن اور سنة پر بات کرنا اور ہمیشہ صحیح احادیث کو پھیلانا آہستہ آہستہ پیچھے جا رہا ہے.

بلکے کئ لوگوں كو اس موضوع پر بات کرنے میں بیزاری کا عنصر آرہا ہے (والعیاذ باللہ - اور الله کی پناہ چاہی جاتی ہے کے کبھی دین سے ہمیں بیزاری ہو), اور يہ وہ چند لوجکل نشانیاں ہیں، جو ہمیں بتا رہى ہیں کے کس طرح دین ہم سے جا سکتا ہے, اللہ نہ کرے.

الله ہمیں دین سے محبّت کرنے والا دل عطاء فرمائے اور ہم کبھی دین سے بیزار نہ ہوں، اللهم آمين
 
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 171 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Manhaj As Salaf

Read More Articles by Manhaj As Salaf: 258 Articles with 166545 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ