"اللہ کی چاہت"

(Aalima Rabia Fatima, )

مسلمان ہونا ۔۔ مطلب کہ اللہ کے سامنے جھکنا ، ایسا جھکنا کہ بندہ اللہ کے لیے خود کو خالی کر دے یعنی اپنی خواہشات کو، اپنی چاہت کو اسکی چاہت کے مطابق بنالے، جیسا وہ چاہتا ہے ویسا بن جائے اور اپنی چاہت اور ارادے کو اسکی چاہت اور ارادے کے ماتحت جانے کیونکہ مشئیت الہی اصل ہے اور مشئیت خاکی فرع یعنی اسکا ہر ارادہ اللہ کے ارادے کے اور اسکے اذن کا محتاج ہے۔ ایک بندہ کسی چیز کے حصول کے لیے تگ و دو کرتا ہے پر لاکھ کوششوں کے باوجود بھی وہ اسے حاصل نہیں کر پاتا اور کسی کو کوئی چیز بنا کسی محنت کے مل جاتی ہے، تو ان سب مراحل میں اللہ کی مشئیت شامل حال ہوتی ہے یعنی آپ کا کوشش کرنا، اللہ کی چاہت کے سبب سے تھا نہ ملنا بھی اسی کی چاہت کے سبب سے ہے اور کسی کو بنا محنت کے کچھ مل جانا بھی رب کی مشئیت کے سبب سے ہے حتی کہ ہر اچھا عمل اور نیکی کی توفیق سب اسی کی مشئیت کے سبب سے ہے ۔۔اللہ نہ چاہے تو ہمیں توفیق نہ ملے نہ دعا مانگنے کی نہ نیک عمل کی۔۔
قرآن پاک میں اسی کے متعلق مذکور ہے "اللہ نہ چاہے تو تم چاہ بھی نہیں سکتے"۔

• "وَ لَا تَقُوْلَنَّ لِشَئءٍ اِنِّیْ فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًاۙ(۲۳) اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ٘-وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ اِذَا نَسِیْتَ وَ قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّهْدِیَنِ رَبِّیْ لِاَقْرَبَ مِنْ هٰذَا رَشَدًا(۲۴) "سورة الكهف
(اور ہر گز کسی چیز کے متعلق نہ کہنا کہ میں کل یہ کرنے والاہوں۔ مگر یہ کہ اللہ چاہے اور جب تم بھول جاؤ تو اپنے رب کو یاد کرلواور یوں کہو کہ قریب ہے کہ میرا رب مجھے اس واقعے سے زیادہ قریب ہدایت کا کوئی راستہ دکھائے)۔

• "اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌۚ-فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا(۲۹) وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۗۖ(۳۰) یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖؕ-وَ الظّٰلِمِیْنَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۠(۳۱) "سورة الدهر
(بیشک یہ ایک نصیحت ہے تو جو چاہے اپنے رب کی طرف راہ اختیار کرے۔ اورتم کچھ نہیں چاہتے مگریہ کہ اللہ چاہے بیشک اللہ خوب علم والا،بڑا حکمت والا ہے۔ وہ اپنی رحمت میں جسے چاہتا ہے داخل فرماتا ہے اور ظالموں کے لیے اس نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے)۔

• "وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ۠(۲۹)" سورة التكوير
(اور تم کچھ نہیں چاہ سکتے مگر یہ کہ اللہ چاہے جو سارے جہانوں کا رب ہے۔)


• "اِنَّمَآ اَمْرُهٝٓ اِذَآ اَرَادَ شَيْئًا اَنْ يَّقُوْلَ لَـهٝ كُنْ فَيَكُـوْنُ (82)"
(اس کی تو یہ شان ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اتنا ہی فرما دیتا ہے کہ ہو جا، سو وہ ہو جاتی ہے)۔
•" فَسُبْحَانَ الَّـذِىْ بِيَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَىْءٍ وَّاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ (83)"سورة یس
( پس وہ ذات پاک ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا کامل اختیار ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے)۔

• "وَالَّـذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيَاتِنَا صُـمٌّ وَّبُكْمٌ فِى الظُّلُمَاتِ ۗ مَنْ يَّشَاء اللّـٰهُ يُضْلِلْـهُۖ وَمَنْ يَّشَاْ يَجْعَلْـهُ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْـمٍ (39)" سورة الانعام

(اور جو لوگ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں وہ بہرے اور گونگے ہیں اندھیروں میں ہیں، اللہ جسے چاہے گمراہ کر دے اور جسے چاہے سیدھی راہ پر ڈال دے)۔

اس کائنات کا رب اللہ تبارک وتعالی ہے اسی کے حکم کے تابع یہ پوری کائنات ہے اسکے حکم کے بر خلاف ایک پتّہ بھی حرکت نہیں کرسکتا تاہماللہ تبارک وتعالی نے بندے کو اختیار دیا ہے کہ اگر چاہو تو میری مشئیت کے آگے سر کو جھکا کر مومنین صالحین اور مقربین میں شامل ہوجاؤ، چاہو تو انکار کر کے منکرین مغضبین اور منافقین میں اپنا نام لکھوا لو ، تو پتہ چلا بندہ مختار بھی اور کچھ مقامات پر مجبور بھی ، لیکن باز پرس وہاں ہوگی جہاں وہ مختار ہے تو اب یہ بندے کے اختیار میں چاہے تو ہدایت و شکر گزاری کی راہ اختیار کرے اور چاہے تو کفر وناشکری کی راہ اختیار کرے اور یہی حکمت خداوندی ہے۔۔ قرآن پاک میں اس کے متعلق اسطرح بیان کیا گیا ہے :

• "اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍۖ نَّبْتَلِيْهِ فَجَعَلْنَاهُ سَـمِيْعًا بَصِيْـرًا (2)"
(بے شک ہم نے انسان کو ایک مرکب بوند سے پیدا کیا، ہم اس کی آزمائش کرنا چاہتے تھے پس ہم نے اسے سننے والا دیکھنے والا بنا دیا)۔

"اِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا (3)"
(بے شک ہم نے اسے راستہ دکھا دیا، یا تو وہ شکر گزار ہے اور یا ناشکرا)۔(سورة الدهر)

• "وَنَفْسٍ وَّمَا سَوَّاهَا "(7)
(اور جان کی اور اس کی جس نے اس کو درست کیا)۔
"فَاَلْهَـمَهَا فُجُوْرَهَا وَتَقْوَاهَا "(8)
(پھر اس کو اس کی بدی اور نیکی سمجھائی)۔(سورة الشمس)

•" فَمَنْ شَآءَ فَلْيُؤْمِنْ وَّّمَنْ شَآءَ فَلْيَكْـفُرْ ۚ "(سورةالكهف)
(پھر جو چاہے مان لے اور جو چاہے انکار کر دے)۔

•" ذٰلِكَ الْيَوْمُ الْحَقُّ ۖ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ مَاٰبًا "(39)(سورةالنبأ)۔
(یہ یقینی دن ہے پس جو چاہے اپنے رب کے پاس ٹھکانا بنا لے)۔

قران مکمل ضابطہ حیات ہے جہاں اللہ اور بندے کی مشئیت کا ذکر اس میں موجود ہے وہیں دوسری جانب اس میں بندوں کو آداب بندگی کا طریقہ بھی سکھایا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ ہر اچھے کام سے پہلے اِنْ شَآءَ اللّـٰه کہے۔۔

• قَالُوْا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنْ لَّنَا مَا هِىَ اِنَّ الْبَقَرَ تَشَابَهَ عَلَيْنَا وَاِنَّـآ اِنْ شَآءَ اللّـٰهُ لَمُهْتَدُوْنَ (سوره بقره /آیه 70)
(انہوں نے کہا: آپ اپنے رب سے دعا کیجئے کہ ہمارے لئے واضح طور پر بیان کردے کہ وہ گائے کیسی ہے؟ کیونکہ بیشک گائے ہم پر مشتبہ ہوگئی ہے اور اگراللہ چاہے گا تو یقینا ہم راہ پالیں گے۔)

• فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَىٰ يُوسُفَ آوَىٰ إِلَيْهِ أَبَوَيْهِ وَقَالَ ادْخُلُوا مِصْرَ إِن شَاءَ اللَّـهُ آمِنِينَ(سوره یوسف / آیه 99)
(پھر جب وہ سب یوسف کے پاس پہنچے تواس نے اپنے ماں باپ کو اپنے پاس جگہ دی اور کہا: تم مصر میں داخل ہوجاؤ، اگر اللہ نے چاہا (تو) امن وامان کے ساتھ۔)

• قَالَ سَتَجِدُنِـىٓ اِنْ شَآءَ اللّـٰهُ صَابِرًا وَّلَآ اَعْصِىْ لَكَ اَمْرًا(سوره کهف /آیه 69)
(موسیٰ نے کہا:اگراللہ چاہے گاتو عنقریب آپ مجھے صبر کرنے والاپاؤ گے اور میں آپ کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہ کروں گا۔ )

• قَالَ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُنْكِحَكَ إِحْدَى ابْنَتَيَّ هَاتَيْنِ عَلَىٰ أَنْ تَأْجُرَنِي ثَمَانِيَ حِجَجٍ ۖ فَإِنْ أَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنْدِكَ ۖ وَمَا أُرِيدُ أَنْ أَشُقَّ عَلَيْكَ ۚ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّالِحِينَ(سوره قصص /آیه 27)
((انہوں نے) فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ اپنی دونوں بیٹیوں میں سے ایک کے ساتھ اس مہر پر تمہارا نکاح کردوں کہ تم آٹھ سال تک میری ملازمت کرو پھر اگر تم دس سال پورے کردو تووہ (اضافہ) تمہاری طرف سے ہوگا اور میں تمہیں مشقت میں ڈالنا نہیں چاہتا۔ ان شآء اللہ عنقریب تم مجھے نیکوں میں سے پاؤ گے۔)

• فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْیَ قَالَ یٰبُنَیَّ اِنِّیْۤ اَرٰى فِی الْمَنَامِ اَنِّیْۤ اَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَا ذَا تَرٰىؕ-قَالَ یٰۤاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ٘-سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِیْنَ (سوره صافات / آیه 102)
(پھر جب وہ اس کے ساتھ کوشش کرنے کے قابل عمر کو پہنچ گیا توابراہیم نے کہا: اے میرے بیٹے! میں نے خواب میں دیکھا کہ میں تجھے ذبح کررہا ہوں۔اب تو دیکھ کہ تیری کیا رائے ہے؟بیٹے نے کہا: اے میرے باپ! آپ وہی کریں جس کا آپ کو حکم دیاجارہا ہے۔ اِنْ شَاءَاللہ عنقریب آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔)

• لَّـقَدْ صَدَقَ اللّـٰهُ رَسُوْلَـهُ الرُّؤْيَا بِالْحَقِّ ۖ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنْ شَآءَ اللّـٰهُ اٰمِنِيْنَ مُحَلِّقِيْنَ رُءُوْسَكُمْ وَمُقَصِّرِيْنَ لَا تَخَافُـوْنَ ۖ فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوْا فَجَعَلَ مِنْ دُوْنِ ذٰلِكَ فَتْحًا قَرِيْبًا (سوره فتح /آیه 27)
(بیشک اللہ نے اپنے رسول کا سچا خواب سچ کردیا۔ اگر اللہ چاہے توتم ضرور مسجد حرام میں امن و امان سے داخل ہوگے، کچھ اپنے سروں کے بال منڈاتے ہوئے اور کچھ بال ترشواتے ہوئے،تمہیں کسی کا ڈر نہیں ہوگا۔ تو اللہ کو وہ معلوم ہے جو تمہیں معلوم نہیں تو اس نے مکے میں داخلے سے پہلے ایک نزدیک آنے والی فتح رکھی ہے۔)
ان شاء الله کے متعلق احادیث کریمہ میں اسطرح مذکور ہے کہ:
• حدثنا محمد بن سنان،‏‏ حدثنا فليح،‏‏‏ حدثنا هلال بن علي،‏‏ عن عطاء بن يسار،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن أبي هريرة ـ رضى الله عنه ـ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ مثل المؤمن كمثل خامة الزرع،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ يفيء ورقه من حيث أتتها الريح تكفئها،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فإذا سكنت اعتدلت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وكذلك المؤمن يكفأ بالبلاء،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ومثل الكافر كمثل الأرزة صماء معتدلة حتى يقصمها الله إذا شاء ‏"‏‏.
ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا‘ انہوں نے کہا ہم سے فلیح بن سلیمان نے‘ انہوں نے کہا ہم سے ہلال بن علی نے‘ ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا‘ مومن کی مثال کھیت کے نرم پودے کی سی ہے کہ جدھر ہوا چلتی ہے تو اس کے پتے ادھر جھک جاتے ہیں اور جب ہوا رک جاتی ہے تو پتے بھی برابر ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح مومن آزمائشوں میں بچایا جاتا ہے لیکن کافر کی مثال شمشاد کے سخت درخت جیسی ہے کہ ایک حالت پر کھڑا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ جب چاہتا ہے اسے اکھاڑ دیتا ہے۔

• حدثنا الحكم بن نافع،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ أخبرنا شعيب،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن الزهري،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ أخبرني سالم بن عبد الله،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ أن عبد الله بن عمر ـ رضى الله عنهما ـ قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو قائم على المنبر ‏"‏ إنما بقاؤكم فيما سلف قبلكم من الأمم،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ كما بين صلاة العصر إلى غروب الشمس،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ أعطي أهل التوراة التوراة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فعملوا بها حتى انتصف النهار،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ثم عجزوا،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فأعطوا قيراطا قيراطا،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ثم أعطي أهل الإنجيل الإنجيل،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فعملوا به حتى صلاة العصر،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ثم عجزوا،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فأعطوا قيراطا قيراطا،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ثم أعطيتم القرآن فعملتم به حتى غروب الشمس،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فأعطيتم قيراطين قيراطين،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قال أهل التوراة ربنا هؤلاء أقل عملا وأكثر أجرا‏.‏ قال هل ظلمتكم من أجركم من شىء قالوا لا‏.‏ فقال فذلك فضلي أوتيه من أشاء ‏"‏‏.‏

ہم سے حکم بن نافع نے بیان کیا‘ انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی‘ انہیں زہری نے‘ کہا مجھ کو سالم بن عبداللہ نے خبر دی اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا‘ آپ منبر پر کھڑے فرما رہے تھے کہ تمہارا زمانہ گزشتہ امتوں کے مقابلہ میں ایسا ہے جیسے عصر سے سورج ڈوبنے تک کا وقت ہوتا ہے۔ توریت والوں کو توریت دی گئی اور انہوں نے اس پر عمل کیا‘ یہاں تک کہ دن آدھا ہو گیا۔ پھر وہ عاجز ہو گئے تو انہیں اس کے بدلے میں ایک قیراط دیا گیا۔ پھر اہل انجیل کو انجیل دی گئی تو انہوں نے اس پر عصر کی نماز کے وقت تک عمل کیا اور پھر وہ عمل سے عاجز آ گئے تو انہیں بھی ایک ایک قیراط دیا گیا۔ پھر تمہیں قرآن دیا گیا اور تم نے اس پر سورج ڈوبنے تک عمل کیا اور تمہیں اس کے بدلے میں دو دو قیراط دئیے گئے۔ اہل توریت نے اس پر کہا کہ اے ہمارے رب! یہ لوگ مسلمان سب سے کم کام کرنے والے اور سب سے زیادہ اجر پانے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر فرمایا کہ کیا میں تمہیں اجر دینے میں کوئی نا انصافی کی ہے؟ وہ بولے کہ نہیں! تو اللہ تعالیٰ فرمایا کہ یہ تو میرا فضل ہے‘ میں جس پر چاہتا ہوں کرتا ہوں۔


• حدثنا محمد،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا عبد الوهاب الثقفي،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا خالد الحذاء،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن عكرمة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن ابن عباس ـ رضى الله عنهما ـ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل على أعرابي يعوده فقال ‏"‏ لا بأس عليك طهور،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ إن شاء الله ‏"‏‏.‏ قال قال الأعرابي طهور،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ بل هي حمى تفور على شيخ كبير،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ تزيره القبور‏.‏ قال النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فنعم إذا ‏"‏‏.‏
ہم سے محمد نے بیان کیا‘ انہوں نے کہا ہم سے عبدالوہاب ثقفی نے بیان کیا‘ انہوں نے کہا ہم سے خالد حذاء نے بیان کیا‘ ان سے عکرمہ نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک اعرابی کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے اور اس سے کہا کہ کوئی مضائقہ نہیں یہ (بیماری) تمہارے لیے پاکی کا باعث ہے۔ اس پر اس نے کہا کہ جناب یہ وہ بخار ہے جو ایک بڈھے پر جوش مار رہا ہے اور اسے قبر تک پہنچا کے رہے گا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر یونہی ہو گا۔

• حدثنا إسحاق بن أبي عيسى،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ أخبرنا يزيد بن هارون،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ أخبرنا شعبة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن قتادة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن أنس بن مالك ـ رضى الله عنه ـ قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏"‏ المدينة يأتيها الدجال فيجد الملائكة يحرسونها فلا يقربها الدجال ولا الطاعون إن شاء الله ‏"‏‏.
ہم سے اسحاق بن ابی عیسیٰ نے بیان کیا‘ انہوں نے کہا ہم کو یزید بن ہارون نے خبر دی‘ انہیں شعبہ نے خبر دی‘ انہیں قتادہ نے اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دجال مدینہ تک آئے گا لیکن دیکھے گا کہ فرشتہ اس کی حفاظت کر رہے ہیں پس نہ تو دجال اس سے قریب ہو سکے گا اور نہ طاعون‘ اگر اللہ نے چاہا۔

• حدثنا عبد الله بن محمد،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا ابن عيينة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن عمرو،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن أبي العباس،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن عبد الله بن عمر،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قال حاصر النبي صلى الله عليه وسلم أهل الطائف فلم يفتحها فقال ‏"‏ إنا قافلون إن شاء الله ‏"‏‏.‏ فقال المسلمون نقفل ولم نفتح‏.‏ قال ‏"‏ فاغدوا على القتال ‏"‏‏.‏ فغدوا فأصابتهم جراحات‏.‏ قال النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إنا قافلون غدا إن شاء الله ‏"‏،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فكأن ذلك أعجبهم فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم‏.‏
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے‘ انہوں نے عمرو بن دینار سے‘ انہوں نے ابو العاس (سائب بن فروخ) سے‘ انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے‘ انہوں نے کہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف والوں کو گھیر لیا‘ اس کو فتح نہیں کیا۔ آخر آپ نے فرمایا کل خدا نے چاہا تو ہم مدینہ کو لوٹ چلیں گے۔ اس پر مسلمان بولے واہ ہم فتح کئے بغیر لوٹ جائیں۔ آپ نے فرمایا ایسا ہے تو پھر کل سویرے لڑائی شروع کرو۔ صبح کو مسلمان لڑنے لگے لیکن (قلع فتح نہیں ہوا) مسلمان زخمی ہوئے۔ پھر آپ نے فرمایا صبح کو اللہ نے چاہا تو ہم مدینہ لوٹ چلیں گے۔ اس پر مسلمان خوش ہوئے۔ مسلمانوں کا یہ حال دیکھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے۔
(ماخذ بخاری شریف)
اللہ کی چاہت ہی وہ مقام ہے جس کو پاکر صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم ورضوا عنہ کے درجے پر فائز ہوئے یہ ہی وہ مقام ہے جس کو پاکر اولیاء اللہ مقام ولایت پر فائز ہوئے۔۔ اپنی چاہت کو اسکی چاہت میں ڈھالنا ہی بندگی ہے۔۔وجود کو خواہشات سے خالی کرنا اور خالص اسی کا ہوجانا ہی بندگی ہے۔۔ہم دنیا میں آئے ہی اللہ کے لیے ہیں ہم یہاں موجود ہی اللہ کے لیے ہیں۔۔ یہی الله کی چاہت ہے کہ ہم اپنے وجود کی نفی کریں اورصرف اسکی اتباع اور اسکے حبیبﷺ کی اتباع کریں۔ محبت کریں تو اللہ اور اسکے رسولﷺ کے خاطر نفرت کریں تو اللہ اور اسکے رسولﷺکے خاطر۔۔ آئیے خود کو مع چاہت کے اسکے سپرد کردیں کہ یہی اصل مقصد حیات ہے ۔۔
 
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 570 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aalima Rabia Fatima

Read More Articles by Aalima Rabia Fatima: 43 Articles with 17711 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ