سچ تو یہ ہے (۱۲واں حصہ)

(Muhammad Siddique Prihar, Layyah)

 منظر ۱۰۱
راشدہ چنے کی دال پلیٹ میں صاف کررہی ہے۔سلطانہ سے کہتی ہے سلطانہ بیٹی گلاس میں پانی لے آؤ میں دال میں ڈال دوں سلطانہ پانی لینے چلی جاتی ہے۔اسی دوران عبدالمجیدآجاتاہے۔اورکہتاہے احمدبخش واپس آیاہے یانہیں
راشدہ۔۔۔۔ابھی تک تونہیں آیا میں توخودپریشان ہورہی ہوں
عبدالمجید۔۔۔۔اب دیکھو وہ کب سے گیاہواہے اتنی دیرمیں چارباردکان سے ہوکرآسکتے ہیں
راشدہ۔۔۔۔آپ کی طرح میری پریشانی بڑھ رہی ہے نہ جانے میرابیٹا اتنی دیرکیوں لگارہاہے
عبدالمجید۔۔۔اسے کھیلنے کاموقع نہیں ملتا آج اسے موقع مل گیا ہے کھیل رہاہوگا راستے میں
راشدہ۔۔۔۔میں نہیں مان سکتی کہ وہ کھیل رہاہوگا وہ یہ بھی جانتا ہے کہ ذراسی دیرپراسے کتنی بڑی سزاملے گی
عبدالمجید۔۔۔۔اگروہ کھیل نہیں رہاتوکیاکررہاہے
راشدہ۔۔۔۔وہ آجائے توپتہ چلے گا کہ دیرکیوں ہوگئی ہے
عبدالمجید۔۔۔۔وہ کوئی نہ کوئی جھوٹ بول دے گا
راشدہ۔۔۔۔دال میں پانی ڈالتے ہوئے۔۔۔آپ کوتومیرے بیٹے کی ہربات جھوٹی لگتی ہے کبھی آپ نے اس کی بات پریقین نہیں کیا
عبدالمجید۔۔۔۔میں کیسے اس کی بات پریقین کرلوں وہ جھوٹ ہی توبولتاہے
راشدہ۔۔۔۔کبھی آپ نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ وہ جوکہہ رہاہے وہ سچ ہے یاجھوٹ
عبدالمجید۔۔۔۔میں اچھی طرح جانتاہوں وہ سچ نہیں بولتا اس لیے جاننے کی ضرورت ہی نہیں
راشدہ۔۔۔۔آپ ازخودیہ فیصلہ کیسے کرلیتے ہیں کہ احمدبخش جھوٹ بول رہاہے
عبدالمجید۔۔۔۔میں اس کاباپ ہوں اس کی آوازسے پتہ چل جاتاہے کہ سچ کہہ رہاہے یاجھوٹ
راشدہ۔۔۔۔آپ کوتوتفتیشی ہوناچاہیے تھا ملزم کی آوازسن کرپہچان جاتے کہ وہ سچاہے یاجھوٹا
عبدالمجید۔۔۔۔تیرابیٹا ابھی تک نہیں آیا پھرتم کہتی ہو میں بلاوجہ غصہ کرتاہوں
راشدہ۔۔۔۔وہ تومیں اب بھی کہہ رہی ہوں
اسی دوران دروازے پردستک ہوتی ہے
راشدہ۔۔۔آوازدے کر۔۔۔۔۔عبدالرحیم دروازے پرجاؤ
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
منظر۱۰۲
سمیراکپڑے سے چارپائیاں جھاڑ رہی ہے۔اس نے چارپائیوں کی چٹائیاں اوربسترلپیٹ رکھے ہیں ۔فیاض اس کے ساتھ خاموشی سے کھڑا ہوجاتاہے۔سمیراچارپائیاں جھاڑنے میں مصروف ہے۔فیاض خاموشی سے دائیں بائیں دیکھتاہے ۔اپنے دونوں ہاتھ اپنے چہرے پرپھیرتاہے۔
سمیرا۔۔۔فیاض کی طرف دیکھ کر۔۔۔۔کوئی کام ہے کیا
فیاض۔۔۔۔میں مددکردوں
سمیرا۔۔۔۔تومیری کیامددکرے گا
فیاض۔۔۔۔آج ہی نہیں روزانہ بھی مددکرسکتاہوں
سمیرا۔۔۔۔اچھابتاؤ کیامددکروگے
فیاض۔۔۔۔بسترلپیٹ دیاکروں گا چارپائیاں جھاڑ دیاکروں گا ناشتے کے برتن اکٹھے کردیاکروں گا
سمیرا۔۔۔۔تم لڑکے ہو یہ کام تولڑکیاں کرتی ہیں
فیاض۔۔۔۔گھرمیں کون دیکھے گا جواعتراض کرے گا کہ لڑکیوں والے کام لڑکاکررہاہے
سمیرا۔۔۔۔میں خودکرلیاکروں گی تم صرف اپناکام کیاکرو
فیاض۔۔۔۔توسارادن گھرکے کام کرتی ہے
سمیرا۔۔۔توبھی تودکان پرکام سیکھنے جاتا ہے اوروہاں سارادن کام کرتاہے
اسی دوران اریبہ آجاتی ہے اورسمیراسے کہتی ہے توکام کررہی ہے یابھائی سے باتیں
فیاض۔۔۔۔باجی کام بھی کررہی ہیں اورمیرے ساتھ باتیں بھی میں صرف باتیں کررہاہوں
اریبہ۔۔۔۔میں سمیراسے بات کررہی ہوں تجھ سے نہیں
فیاض۔۔۔۔میں بتاؤں یاسمیرابتائے بات توایک ہی ہے جومیں نے بتادی
اریبہ۔۔۔سمیرا سمیرا
سمیرا۔۔۔۔جی امی میں سن رہی ہوں
اریبہ۔۔۔میں کب سے کوئی بات پوچھ رہی ہوں
سمیرا۔۔۔۔بھائی نے آپ کوبتاتودیاہے
اریبہ۔۔۔۔میں تم سے سنناچاہتی ہوں
سمیرا۔۔۔۔میں تواپناکام کررہی تھی یہ آکرمجھ سے باتیں کرنے لگا ہے
اریبہ۔۔۔۔کام کرتے وقت کام پرتوجہ دیاکر باتیں نہیں
اریبہ۔۔۔فیاض سے۔۔۔آج دکان پرنہیں جانا
فیاض۔۔۔۔جانا ہے کیوں نہیں جانا
میں جارہاہوں دکان پر یہ کہہ کروہ چلاجاتاہے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
منظر ۱۰۳
جاوید۔۔۔۔ایسانہیں ہوگا
صابراں کاپھوپھا۔۔۔۔کیاتم نے بچیوں سے پہلے پوچھا ہے جواتنے یقین سے کہہ رہے ہو
رحمتاں۔۔۔۔ہم نے اپنی بچیوں کی تربیت ہی ایسی کی ہے کہ ایک دوسری کی پسندناپسندکااحترام کرتی ہیں
راشدہ۔۔۔۔میرا خیال ہے اب بچیوں سے پوچھ ہی لیناچاہیے
جاوید۔۔۔۔پوچھو جس نے پوچھنا ہے ہماری طرف سے اجازت ہے
بشیراحمد۔۔۔۔پہلے صابراں سے پوچھ لیتے ہیں
صابراں۔۔۔شادیاں ہم تین بہنوں کی ہورہی ہیں جوپوچھناہم تینوں بہنوں سے پوچھیں
صابراں کی پھوپھی۔۔۔۔تم کس سے شادی کروگی میرامطلب ہے رشتہ داروں میں یارشتہ داروں سے باہر
عبدالمجید۔۔۔۔رشتہ داروں سے باہرکیوں
اریبہ۔۔۔سلطانہ کے ابوٹھیک کہہ رہے ہیں صابراں اوراس کی بہنیں رشتہ داروں میں سے جس کے ساتھ کہیں اسی کے ساتھ شادی کرادیں گے
صابراں کاخالو۔۔۔جاویدسے۔۔۔۔تم ان کے باپ ہو تم ہی بتاؤ بچیاں رشتہ داروں میں سے ہی بتائیں کہ وہ کس سے شادی کرناچاہتی ہیں
جاوید۔۔۔۔ہم اپنی بچیوں پرپابندی نہیں لگاتے جب ان سے پوچھنا ہے تویہ پابندی کیسی کہ وہ رشتہ داروں میں شاد ی کریں یارشتہ داروں سے باہر
صابراں کی پھوپھی۔۔۔۔یہ کیابات ہوئی بچیاں رشتہ داروں کوہی جانتی ہیں
بشیراحمد۔۔۔۔ہم نے بچیوں سے پوچھنا ہے ہم آپس میں بحث کرنے لگ گئے ہیں
راشدہ۔۔۔۔جب ماں باپ کواس پراعتراض نہیں کہ ان کی بچیاں رشتہ داروں میں شادیاں کرناچاہتی ہیں یارشتہ داروں سے باہر
صابراں کاخالو۔۔۔۔یہ بات توسوفیصددرست ہے ہم میں سے بھی کسی کواعتراض نہیں ہوجاچاہیے
اریبہ۔۔۔۔بچیوں پررشتہ داروں کی پابندیاں ختم کریں ان سے پوچھیں یہ کس کس سے شادی کرناچاہتی ہیں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
منظر ۱۰۴
فیاض شاپروں میں سلے ہوئے سوٹ پیک کررہاہے۔
سجاداحمد۔۔۔ان پربڑے مارکرسے نام بھی لکھتے جاؤ
فیاض۔۔۔۔جی استادجی
فیاض ایک سوٹ کوشاپرمیں پیک کرکے اس پرنام لکھ رہاہے۔
سجاداحمد۔۔۔ہمارے پلان کاوقت ہوگیاہے
فیاض۔۔۔استادجی میں بھی تیارہوں
اسی دوران دوافراددکان میں آتے ہیں اوربیٹھ جاتے ہیں۔ان میں سے ایک تھرماس اوراس کے ساتھ رکھے ہوئے دھلے ہوئے کپ دیکھ لیتا ہے۔سجادنیچے گراہواکپڑا اٹھانے لگتا ہے جس نے تھرماس اورکپ دیکھے ہیں وہ دوسرے شخص سے کہنی مارکراشارے سے کہتا ہے وہ دیکھ تھرماس میں چائے اورکپ پڑے ہیں نعیم اورفیاض یہ سب کچھ دیکھ رہے ہیں ۔سجاداحمدکپڑے کاٹکڑا اپنے سامنے رکھتا ہے اورفیاض سے کہتا ہے فیاض چائے کپوں میں ڈال دو فیاض ایسے بیٹھا ہے جیسے اس نے سناہی نہیں اوراسی طرح سوٹ پیک کررہاہے
سجاد۔۔۔تھوڑی دیرکے بعد۔۔۔۔فیاض کپوں میں چائے ڈال دو
فیاض اب بھی ایسے بیٹھا ہے جیسے اس نے سناہی نہیں
نعیم۔۔۔آہستہ سے ۔۔۔فیاض سے۔۔۔۔استادجی کہہ رہے ہیں
فیاض نعیم کواشارہ کرتاہے توخاموش ہوجا
سجاداحمد۔۔۔۔تیزآوازاورمعمولی غصہ سے۔۔۔۔فیاض چائے کپوں میں ڈال دو
فیاض ادھرادھردیکھتا ہے اورپیک کیے گئے سوٹ پرنام لکھنے لگ جاتاہے
سجاداحمد۔۔۔آہستہ سے۔۔۔۔یہ شاگرد ہے میں کب سے کہہ رہاہوں یہ سنتاہی نہیں ہے
سجاداحمد۔۔۔تیزآوازاورغصہ سے۔۔۔۔فیاض چائے دے دو
فیاض۔۔۔۔میں چائے نہیں دیتا
سجاداحمد۔۔۔تھکاوٹ ہورہی ہے چائے کپوں میں ڈال دے
فیاض۔۔۔۔پہلے میں اپناکام کروں گا پھرجب چاہوں گا چائے کپوں میں ڈال دوں گا
سجاد۔۔۔۔تھرماس اورکپ مجھے دے دے میں خودپی لیتاہوں
فیاض۔۔۔۔نہیں استادجی یہ میراکام ہے میں ہی کروں گا
دکان پرآیاہوایک شخص ۔۔۔دوسرے شخص سے۔۔۔۔اشارہ کرکے۔۔۔۔یہ کیاہورہاہے
دوسراشخص۔۔۔۔میری سمجھ میں نہیں آرہا
سجاداحمد۔۔۔فیاض سے۔۔۔۔تجھے تویہ کام کرتے ہوئے گھنٹہ لگ سکتاہے تب تک چائے ٹھنڈی ہوجائے گی
فیاض۔۔۔۔کوئی بات نہیں آج ٹھنڈی چائے پی لیں گے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
منظر۱۰۵
ایک کمرے میں بیس بائیس کرسیاں رکھی ہیں۔ اسٹیج کے طورپرآٹھ کرسیاں رکھی ہیں ان کرسیوں پرشخصیات بیٹھی ہیں قرآن پاک کی تلاوت کی جاتی ہے۔اس کے بعدصائم چشتی کالکھاہوانعتیہ کلام سنایاجاتاہے
ارشدجمال۔۔۔اپنی کرسی سے کھڑے ہوکر۔۔۔۔اجتماعی شادیوں کے لیے ہماراابتدائی سروے اورلوگوں کی رائے لینے کاپروگرام ترتیب دے دیاگیاہے
عمیرنواز۔۔۔خواتین ہمارے ساتھ بھرپورتعاون کررہی ہیں ان کے دواجلاس ہوچکے ہیں
ظفراقبال۔۔۔۔ان کے دوسرے اجلاس میں پہلے اجلاس سے زیادہ خواتین تھیں
رشیداحمد۔۔۔۔خواتین نے ابتدائی سروے کے لیے گھرگھرجانے کافیصلہ کیاہے
عبدالغفور۔۔۔انہوں نے اس وقت گھروں میں جانے کافیصلہ کیاہے جب مردنہ ہوں تاکہ وہ اطمینان سے بات کرسکیں
ناصراقبال۔۔۔۔خواتین تومردوں سے بھی نمبرلے گئی ہیں
خترحسین۔۔۔دوستو ہمارے لیے یہ خوشی کی بات ہے کہ خواتین نہ صرف ہمارے مشن کوسمجھتی ہیں بلکہ وہ ہمارے ساتھ تعاون بھی کررہی ہیں خواتین توخواتین سے ملیں گی ہمیں مردوں سے ملناچاہیے
رشیداحمد۔۔۔مردوں سے بات ان کی اپنی عورتیں کریں گی
عبدالغفور۔۔۔۔میں بھی اسی بات سے اتفاق کرتاہوں
اخترحسین۔۔۔۔ہم اپناآئندہ اجلاس خواتین کی طرف سے گھرگھرجانے کی رپورٹ دینے کے بعدہی بلائیں گے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 183 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Siddique Prihar

Read More Articles by Muhammad Siddique Prihar: 307 Articles with 122855 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: