زمین وآسمان کا مالک اور سارے جہان کا بادشاہ اﷲ ہے

(Maqbool Ahmed, Saudi Arab)

پاک ہے وہ اﷲ جس کی بادشاہت ہمیشہ سے زمین وآسمان پر قائم ہے ، اسی کے لئے اعلی صفات اور بلندی وپاکیزگی ہیں۔ وہ ہرعیب سے پاک اور تمام قسم کی خوبیوں کا مالک ہے۔جس طرح وہ ساتوں آسمان اس کے اختیار وقدرت میں ہیں ،ان میں جس طرح چاہتا تصرف کرتا ہے اسی طرح ساتوں زمیں پر بھی اسی کی بادشاہت ہے ۔ بظاہرزمین پر ہمیں انسانوں میں بھی ملکوں کے بادشاہ وحاکم نظر آتے ہیں مگر وہ وقتی بادشاہ ہیں حقیقی بادشاہ تو زمین وآسمان کا خالق اﷲ رب العالمین ہی ہے ،وہی خالق کائنات زمین پر جسے چاہتا ہے بادشاہت عطا کرتا ہے اور جس سے چاہتا ہے حکومت چھین لیتا ہے ۔ اﷲ کا فرمان ہے :
قُلِ اللَّہُمَّ مَالِکَ الْمُلْکِ تُؤْتِی الْمُلْکَ مَن تَشَاء ُ وَتَنزِعُ الْمُلْکَ مِمَّن تَشَاء ُ وَتُعِزُّ مَن تَشَاء ُ وَتُذِلُّ مَن تَشَاء ُ بِیَدِکَ الْخَیْرُ إِنَّکَ عَلَیٰ کُلِّ شَیْء ٍ قَدِیرٌ (آل عمران:26)
ترجمہ:آپ کہہ دیجئے اے اﷲ! اے تمام جہان کے مالک! تو جسے چاہے بادشاہی دے جس سے چاہے سلطنت چھین لے اور تو جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے ، تیرے ہی ہاتھ میں سب بھلائیاں ہیں بیشک تو ہرچیز پر قادر ہے۔
یہ آیت بتلاتی ہے کہ لوگوں کی بادشاہت زائل ہونے والی ہے ،آج کسی کو اﷲ بادشاہ ہونے کا موقع دیتا ہے تو کل اس کی جگہ کسی اور کو مقررکردیتاہے جبکہ خود ہمیشہ سے بادشاہ ہے ۔ وہ زمین وآسمان میں جس طرح چاہتا ہے تصرف کرتا ہے اور اپنی تدبیرسے سارے جہان کا نظام چلاتا ہے ۔
تواریخ اور مشاہدے سے معلوم ہوتا ہے کہ جب سے دنیا بنی اس وقت سے لیکرآج تک کوئی ایسا انسان نہیں گزراجو ازآدم تاایں بادشاہ بنابیٹھا ہو، اس کی بادشاہت ختم نہ ہوئی ہو۔بہت بڑی سچائی یہ ہے کہ انسان کی زندگی محدود ہے ، وہ اپنے حصے کی دنیا کاٹ کر اﷲ کے حکم سے مرجاتا ہے ، موت کی وجہ سے پھر اس انسان کا دنیاوی رشتہ کٹ جاتا ہے ، وہ بادشاہ رہا ہوتو اس کی بادشاہت ختم ، زمین وجائیداد کا مالک رہا ہو تو اس کی ملکیت ختم بلکہ مال ومنال کے ساتھ تمام انسانوں سے اس کا رشتہ منقطع ہوجاتا ہے بھلا اس حقیقت کا انسان دنیا کا حقیقی بادشاہ کیسے ہوسکتا ہے ؟
اس بات کو ایک مثال سے یوں بھی سمجھیں کہ سلمان کو سعودی عرب کی بادشاہت نصیب ہوئی تو اس کے دو احوال ہوسکتے ہیں ۔ ایک حال تو یہ ہوسکتا ہے کہ اس کی زندگی میں ہی اس کی بادشاہت ختم ہوجائیگی یا دوسرا حال یہ ہوگا کہ موت سے اس کی بادشاہت ختم ہوجائے ۔ یہ دوحالت دنیا کے تمام گزشتہ حاکم وبادشاہ کی رہی ہے اور آئندہ بھی یہی حالت سارے دنیاوی بادشاہ وحاکم کی رہے گی ۔
قرآن میں اﷲ کے لئے مُلْک (بادشاہت) اور مَالِک، مَلِک ، ملیک بادشاہ کے معنی میں آیا ہے ،آپ کی خدمت میں قرآن مجید سے چند آیات پیش کرتا ہوں جن میں اﷲ تعالی بیان کرتا ہے کہ زمین وآسمان کا بادشاہ وہی ہے ، فرمان الہی ہے :أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّہَ لَہُ مُلْکُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا لَکُم مِّن دُونِ اللَّہِ مِن وَلِیٍّ وَلَا نَصِیرٍ (البقرۃ:107)
ترجمہ: کیا تجھے علم نہیں کہ زمین اور آسمان کی بادشاہت اﷲ ہی کے لئے ہے اور اﷲ کے سوا تمہارا کوئی ولی اور مددگار نہیں ۔
اﷲ تعالی فرماتا ہے:وَلِلَّہِ مُلْکُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاللَّہُ عَلَیٰ کُلِّ شَیْء ٍ قَدِیرٌ (آل عمران:189)
ترجمہ:اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اﷲ ہی کے لئے ہے اور اﷲ تعالٰی ہرچیز پر قادر ہے ۔
اﷲ تعالی فرماتا ہے:وَلِلَّہِ مُلْکُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَیْنَہُمَا وَإِلَیْہِ الْمَصِیرُ (المائدۃ:18)
ترجمہ:اور زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی ہرچیز اﷲ تعالٰی کی ملکیت ہے اور اسی کی طرف لوٹنا ہے۔
اﷲ تعالی فرماتا ہے:تَبَارَکَ الَّذِی بِیَدِہِ الْمُلْکُ وَہُوَ عَلَیٰ کُلِّ شَیْء ٍ قَدِیرٌ (الملک:1)
ترجمہ: بہت بابرکت ہے وہ (اﷲ) جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے اور ہرچیز پر قدرت رکھنے والا ہے ۔
فرعون لوگوں سے کہتا تھا "الیس لی ملک مصر" کیا مصرپر میری بادشاہت نہیں ہے ؟ذرا سوچیں کہ کیا مصر پر آج بھی فرعون کی بادشاہت قائم ہے ؟ موسی علیہ السلام کے زمانے میں ہی اﷲ نے فرعون کو ڈبوکر موت دیدی اور اس کی حکومت کا خاتمہ کردیا ، اس وقت سے لیکر آج تک مصر پر نہ جانے کتنے لوگوں نے حکومت کی ؟ لوگ آتے رہے اور جاتے رہے ، کسی کی بادشاہت ہمیشہ نہیں چلی اور نہ ہی چل سکتی ہے۔ کہاں گئے؟نمرودوشدادوہامان، سب دنیا سے مٹ گئے۔اﷲ کا فرمان ہے : إِنِ الْحُکْمُ إِلَّا لِلَّہِ (یوسف:40) یعنی فرمانروائی صرف اﷲ تعالی کی ہے۔
اﷲ تعالی دنیا کے بادشاہوں کو آسمان پر بادشاہت کرنے کا اختیار نہیں دیتا ، ان کو زمین پر ہی محدوداختیار دیتا ہیاور اختیار کی مدت بھی محدودہوتی ہییعنی چند دنوں کے لئیمعمولی اختیاردیا جاتاہے۔
زمین کے بادشاہ چلتی ہوا ،برستے پانی ، گرجتی بجلی اوررونماہونے والا زلزلہ وطوفان نہیں روک سکتا کیونکہ ان سب چیزوں پر بادشاہت اﷲ کی ہے۔ اﷲ ہی آدم علیہ السلام کے زمانے میں بارش برساتا تھا، آفتاب کو طلوع وغروب کرتا تھا، رات ودن کو لاتا تھا، زندگی و موت دیتا تھااور آج بھی وہی بارش لاتا ہے ، سورج طلوع وغروب کرتا ہے ، رات ودن کو لاتا ہے اور زندگی وموت دیتا ہے ،اس لئے تو وہی دنیا کا حقیقی بادشاہ ہے۔
زمین وآسمان کے سارے خزانے بھی اسی کے ہیں ،انسان کی نہ زمین اپنی ہے، نہ سونے چاندی اپنے ہیں حتی کہ اس کا اپنا جسم وبدن بھی اپنا نہیں ۔ذرا غور کریں اور اﷲ کی بادشاہت پر ایمان پختہ کریں۔ انسان کاپورا جسم اﷲ کا دیا ہوا ہے پھر اس جسم کے تمام عضو اور تمام حرکات وسکنات پر اﷲ کی بادشاہت ہے۔ آنکھوں سے دیکھنے پر اﷲ کی بادشاہت ہے، کانوں سے سننے پر اﷲ کی بادشاہت ہے، ناک سے سونگھنے اور سانس لینے پر اﷲ کی بادشاہت ہے ، ہاتھ وپیر سے حرکت کرنے ، دل ودماغ سے سوچنے اور سونے جاگنے تمام چیزوں پر اﷲ کی بادشاہت ہے۔ انسان بادشاہ کیا مجبور محض ہے۔ اس کو ہرلمحہ اپنے خالق ومالک کی مہربانی چاہئے ورنہ اس کے جسم کا کوئی کل پرزہ کسی کام کا نہیں ۔ اﷲ چند لمحوں کے لئے آنکھوں سے بصارت چھین لے اندھا بن جائے گا، کانوں سے سماعت لے لے بہرہ ہوجائے گا ، دل ودماغ سے سوچ وفکر سلب کرلے پاگل ہوجائے گا اور جسم سے روح نکال لے مردہ قرارپائے گا۔
پاک ہے وہ پروردگار جو ہمیں گوناگوں نعمتوں سے نوازاہے مگر کم ہی لوگ ہیں جو اپنے رب کی نعمتوں کی قدر کرتے ہیں اور اس کا کہا مانتے ہیں ۔
اﷲ تعالی فرماتا ہے : وَلِلَّہِ خَزَائِنُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَٰکِنَّ الْمُنَافِقِینَ لَا یَفْقَہُونَ(المنافقون:7)
ترجمہ: اور آسمان و زمین کے کل خزانے اﷲ تعالٰی کی ملکیت ہیں لیکن یہ منافق بے سمجھ ہیں۔
اور حدیث قدسی میں اﷲ تعالی فرماتا ہے :
یا عِبَادِی لو أنَّ أَوَّلَکُمْ وَآخِرَکُمْ وإنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ قَامُوا فی صَعِیدٍ وَاحِدٍ فَسَأَلُونِی فأعْطَیْتُ کُلَّ إنْسَانٍ مَسْأَلَتَہُ، ما نَقَصَ ذلکَ ممَّا عِندِی إلَّا کما یَنْقُصُ المِخْیَطُ إذَا أُدْخِلَ البَحْرَ( صحیح مسلم:2577)
ترجمہ: اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے اور پچھلے، آدمی اور جنات سب ایک میدان میں کھڑے ہوں، پھر مجھ سے مانگنا شروع کریں اور میں ہر ایک کو جو مانگے سو دوں تب بھی میرے پاس جو کچھ ہے وہ کم نہ ہو گا مگر اتنا جیسے دریا میں سوئی ڈبو کر نکال لو۔
سبحان اﷲ ،اﷲ سارے خزانوں کا مالک ہے اور جتنا چاہے کسی کو دے اس کے خزانے میں کچھ بھی کمی نہیں ہوتی پھربھی مسلمانوں کی اکثریت غیراﷲ سے مانگنی ہے۔ ایسے میں اﷲ کا عذاب ان پر نہیں آئے گا تو کیا آئے گا؟
آج اﷲ بادشاہ ہے ساتھ ہی انسانوں کو اچھائی اور برائی کرنے کی مہلت بھی دے رکھی ہے ، کل آخرت میں جب بادشاہ ہوگا تب اس کی طرف سے کوئی مہلت نہیں ہوگی ۔ نیکی کا بدلہ اچھا اور ظلم کا بدلہ برا ہوگا،غرض دنیا میں انسان نے جو کچھ کیا ہوگا ،مالک یوم الدین(قیامت کے دن کا بادشاہ )قیامت میں ذرہ ذرہ کا حساب لے گااوراﷲ پوچھے گاآج کس کی بادشاہت ہے؟
یَوْمَ ہُم بَارِزُونَ لَا یَخْفَیٰ عَلَی اللَّہِ مِنْہُمْ شَیْء ٌ لِّمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ لِلَّہِ الْوَاحِدِ الْقَہَّارِ (غافر:16)
ترجمہ: جس دن سب لوگ ظاہر ہوجائیں گے ان کی کوئی چیز اﷲ سے پوشیدہ نہ رہے گی۔ آج کس کی بادشاہی ہے؟ فقط اﷲ واحد و قہار کی ۔
ارشادباری تعالی ہے :الْمُلْکُ یَوْمَئِذٍ الْحَقُّ لِلرَّحْمَٰنِ وَکَانَ یَوْمًا عَلَی الْکَافِرِینَ عَسِیرًا(الفرقان:26)
ترجمہ: اور اس دن صحیح طور پر ملک صرف رحمٰن کا ہی ہوگا اور یہ دن کافروں پر بڑا بھاری ہوگا ۔
نبی ﷺفرماتے ہیں:یَطْوِی اللَّہُ عزَّ وجلَّ السَّمَواتِ یَومَ القِیامَۃِ، ثُمَّ یَأْخُذُہُنَّ بیَدِہِ الیُمْنَی، ثُمَّ یقولُ: أنا المَلِکُ، أیْنَ الجَبَّارُونَ؟ أیْنَ المُتَکَبِّرُونَ. ثُمَّ یَطْوِی الأرَضِینَ بشِمالِہِ، ثُمَّ یقولُ: أنا المَلِکُ أیْنَ الجَبَّارُونَ؟ أیْنَ المُتَکَبِّرُونَ؟(صحیح مسلم:2788)
ترجمہ:اﷲ تعالیٰ قیامت کے دن آسمانوں کو لپیٹ لے گا اور ان کو داہنے ہاتھ میں لے لے گا، پھر فرمائے گا میں بادشاہ ہوں، کہاں ہیں زور والے؟ کہاں ہیں غرور کرنے والے؟ پھر بائیں ہاتھ سے زمین کو لپیٹ لے گا (جو داہنے کے مثل ہے اور اسی واسطے دوسری حدیث میں ہے کہ پروردگار کے دونوں ہاتھ داہنے ہیں) پھر فرمائے گا: میں بادشاہ ہوں۔ کہاں ہیں زور والے؟ کہاں ہیں بڑائی کرنے والے؟
اس حدیث کی روشنی میں اﷲ کی بے مثال قدرت اور اس کی عظیم بادشاہت کے بارے میں غور فرمائیں کہ اﷲ قیامت والے دن اس قدربلندوبالا سات طبقوں والاآسمان (جس میں چاندزمین سے پچاس گنابڑا اور سورج زمین سے تیرہ لاکھ گنا بڑاہے)لپیٹ کر دائیں ہاتھ میں اور ساتھ طبقوں والی زمین خزانوں سمیت دوسرے ہاتھ میں لے لے گا۔ اس دن دنیا کے ظالم بادشاہوں کا کیا حال ہوگا؟ نبی ? اس بابت بیان فرماتے ہیں :
أشدُّ الناسِ یومَ القیامۃِ عذابًا إِمامٌ جائِرٌ(صحیح الجامع:1001)
ترجمہ: قیامت کے دن طالم بادشاہ کو سب سے زیادہ شدید عذاب دیا جائے گا۔
مذکورہ بالا تمام باتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ اﷲ ہی زمین وآسمان کا مالک اور سارے جہان کا بادشاہ ہے۔ اس کی بادشاہت ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی ۔ اسی نے ہمیں اور پوری کائنات کو پیدا کیا ہے لہذا ہمیں ہمیشہ اس سے ڈرنا چاہئے اور اس نے اپنی بندگی کی خاطر ہمیں پیدا کیا ہے سو خالص اس کی بندگی بجالانا چاہئے اور اس کے ساتھ کسی کو بھی ذرہ برابر شریک نہیں کرنا چاہئے ۔
دوسری بات یہ ہے کہ زمین وآسمان کے سارے خزانوں کا مالک اکیلا اﷲ ہیاور وہی اپنی تدبیر سے ساری مخلوق کی پرورش کرتا ہیاس لئے ہمیں جس چیز کی بھی حاجت پڑے اپنے رب سے مانگیں وہ اپنے محتاج ومانگنے والے بندوں کو محروم نہیں کرتا ۔
تیسری اور آخری بات یہ ہے کہ اگر ہم میں سے کسی کو اﷲ ملک کا حاکم بنائے یا گاؤں اور گھر کا سربراہ بنائے تو کبھی بھی اپنے ماتحتوں پر ظلم نہ کریں ، یاد رکھیں اﷲ کی نظروں سے کچھ بھی اوجھل نہیں ہے او ر ظلم وفساد کرنے والوں کووہ دنیا میں بھی سزا دیتا ہے اوریقینا آخرت میں بھی سزا دے گا۔ ساتھ ہی یہ بھی ہمیں شعور ہونا چاہئے کہ اﷲ کے فضل سے ہی کسی کو جاہ ومنصب اور دولت وسلطنت ملتی ہے لہذا نہ کبھی غرور کریں اور نہ ہی اپنے جاہ ومنصب اور دولت وسلطنت کا غلط استعمال کریں ، دنیا کی نعمت آنکھ کھلی رہنے تک ہے نگاہ بند ہوتے ہی سب کچھ چلا جاتا ہے اوراندھیرا چھا جاتا ہے۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 269 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maqbool Ahmed

Read More Articles by Maqbool Ahmed: 275 Articles with 128837 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ