خلاصہ سورۂ ابراهیم

(Aalima Rabia Fatima, )

• آیت نمبر 1 تا 5 میں قرآن کے نازل ہونے کی حکمت اور اسکے نزول کا مقصد بیان کیا گیا ہے۔۔پھر رسولوں کو بھیجنے کی حکمت بیان کی گئی کہ ہر قوم کے درمیان سے جو رسول مبعوث ہوئے، وہ اس وجہ سے کہ وہ اللہ کے احکام کو واضح طور پر بیان کرسکے۔۔
• آیت نمبر 6 تا 13 میں حضرت موسی علیہ السلام اور انکی قوم کا ذکر ہے۔۔آگے بتایا گیا ہے کہ ہر دور کے کفار بے بنیاد ابحاث اپنے دور کے رسولوں کرتے رہے ہیں اور بےجا فرمائشوں کے مطالبات میں مبتلا رہے ہیں۔۔ اور جب کفار چارو شانے چت ہوجاتے تو انبیاء کرام علیھم السلام کو جلا وطن کردینے کی دھمکی دیتے تھے۔۔۔
• آیت نمبر 14 تا 21 میں بتایا گیا ہے کفار کے اعمال مثل راکھ ہیں جسے سخت آندھی اڑا لے جاتی ہے۔۔پھر کفار کے اس مکالمہ کا ذکر کیا گیا ہے جو جہنم میں ایک دوسرے سے کریں گے ۔۔
• آیت نمبر 22 تا 31 میں حق اور ایمان کے کلمہ کو شجرہ طیبہ مثال کے ذریعے بیان فرمایا اور باطل اور کفر کے کلمہ کو شجرہء خبیثہ کی مثال کے ذریعے بیان کیا گیا ۔۔۔ آگے مشرکین کے لیے جہنم کی وعید کا ذکر کیا گیا ہے۔
• آیت نمبر32 تا 41 میں اللہ کی قدرت کی نشانیوں کو بیان فرمایا گیا ہے۔۔۔ اور آگے فرمایا کہ تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرو تو شمار نہ کرسکو گے، بیشک انسان ظالم ، بہت ناشکرا ہے۔۔اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعائیں مذکور ہے۔۔۔
• آیت نمبر42 تا 58 میں قیامت کی منظر کشی کی گئی ہے اور جہنم میں دیے جانے والے عذابوں کا ذکر کیا گیا ہے اور یہ بھی بتایا گیا کہ یہ قرآن عقل والوں کے لیے نصیحت ہے۔

• وجہ تسمیہ:
اس سورت کی آیت 35 تا 41 میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ اور آپ کی مانگی ہوئی دعاؤں کو بیان کیا گیا ہے، اسی مناسبت سے اس سورت کا نام ’’سورۂ ابراہیم‘‘ رکھا گیا۔

• تعداد رکوع، آیات، کلمات، اور حروف :
7رکوع، 52 آیات، 831 کلمات ، 3461 حروف۔

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 219 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aalima Rabia Fatima

Read More Articles by Aalima Rabia Fatima: 43 Articles with 17607 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ