آل سٹوڈنٹس پارٹیز کا مشترکہ بیانیہ

(Tanveer Ahmed, Islamabad)

 مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان نے ہرغیر معمولی ایشو پر ہمیشہ قائدانہ کردار ادا کیا ہے،طلبہ کو درپیش مسائل کے حوالے سے آواز بلند کرنی ہو یا ملکی اور بین الاقوامی سطح پررونما ہونے والے واقعات پر طلبہ کا مؤقف پیش کرنا ہوہر موقع پر ایم ایس او پاکستان نے طلبہ کی نمائندگی کی اورقائدانہ کردار ادا کیا ہے،یہی وجہ ہے کہ طلبہ یونینز کی بحالی کے حوالے نے نئی پیش رفت پر طلبہ تنظیموں کا اپنے اپنے پلیٹ پر مؤقف پیش کررہی ہیں لیکن ایک توانا اور مشترکہ بیانیہ کی ضرورت کوشدت سے محسوس کیاجارہاتھا جسے مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کی قیادت نے محسوس کیا اور18دسمبر 2019کو اٰل سٹوڈنٹس پارٹیزمشاورتی اجلاس اسلام آبادمیں منعقد کیا ۔

ال سٹوڈنٹس پارٹیز مشاورتی اجلاس کے ایجنڈا میں سب سے نمایا ں شق" طلبہ یونینز کی بحالی سے توقعات و خدشات "تھی،جب کہ اجلاس میں شریک طلبہ تنظیموں اور ان کے قائدین میں سے سربراہ سٹیٹ یوتھ پارلیمنٹ شہیر سیالوی،سربراہ تحریک جوانان پاکستان محمد عبد اﷲ حمید گل،انجمن طلبہ اسلام کے مرکزی نائب صدر محمد حسنین مصطفائی،ایم۔ایس۔ایف(نون) کے صدر عبید عباسی،کشمیر یوتھ الائنس کے ڈاکٹر اسامہ،اسلامی جمعیت طلبہ کے سردار تفہیم اعظم،آئی ایس ایف کے شہباز بھٹی،ختم نبوت یوتھ کے محسن خان،مصطفوی سٹوڈنٹس کے قاضی احسن، مجلس طلبہ اسلام کے محمد معاویہ،شہزاد عباسی ،سردار مظہر،تنویراحمداعوان،اعزاز الحق ،حنیف خان ،بلال ربانی ،بلال عباسی اور دلاور ملک سمیت دیگر راہنما شامل تھے ،مشاورتی اجلاس کی میزبانی اور صدارت کے فرائض ناظم اعلیٰ مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان رانا محمد ذیشان نے ادا کئے،اجلاس کے اختتام پرصدر مشاورت، مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے ناظم اعلی رانا ذیشان نے میڈیا کے سامنے مشاورتی اجلاس کا اعلامیہ پڑھ کر سنایا،جس کے اہم نکات مندرجہ ذیل ہیں کہ آج کایہ نمائندہ اجلاس ختم نبوت پر غیرمتزلزل یقین رکھتے ہوئے حکومت پاکستان سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ قادیانی لابی اور این جی اوز زدہ طلبہ تنظیموں کے ذریعے ختم نبوت صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے قانون پر نقب زنی کرنے والوں کے خلاف فوری کاروائی عمل میں لائی جائے۔ہم طلبہ کے مسائل کے حل اور طلبہ یونین کی بحالی کے لیے مشترکہ جدوجہد کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔ طلبہ کایہ نمائندہ اجلاس حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے فی الفور طلبہ یونینز کی بحالی کا اعلان کرکے پورے ملک میں آزادانہ الیکشن کروائے جائیں۔طلبہ کایہ نمائندہ اجلاس حکومت وقت سے یہ مطالبہ بھی کرتا ہے کہ طلبہ یونینز کی بحالی سے پہلے ایک قانونی ضابطہ اخلاق بنایا جائے اور انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے ایک اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جائے۔طلبہ کایہ نمائندہ اجلاس یہ مطالبہ کرتا ہے کہ دینی مدارس کے طلباء کی اسناد کو اور قانونی طور پر پرعصری تعلیم کے مساوی حیثیت میں تسلیم کیا جائے۔طلبہ کایہ نمائندہ اجلاس سندھ حکومت اور آزاد کشمیر حکومت کی طرف سے طلبہ یونینز کی بحالی کے اعلان کا خیر مقدم کرتا ہے۔ طلبہ کایہ مشاورتی اجلاس یونیورسٹیز میں نشے کے بڑھتے ہوئے رجحان کو تعلیمی ماحول کے لئے زہر قاتل سمجھتا ہے اور یہ مطالبہ کرتا ہے کہ ایسے تعلیم دشمن عناصر کے خلاف حکومت وقت فی الفور کاروائی عمل میں لائے۔میزبان طلبہ تنظیم مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان اس مشاورتی تسلسل کو جاری رکھتے رکھتے ہوئے طلبہ یونینز کی بحالی،فیسوں میں اضافے اور تعلیمی بجٹ میں اضافے سمیت یکساں نظام تعلیم اور یکساں نصاب تعلیم کے لیے ملک گیر تحریک کا اعلان کرتی ہے جس میں تمام برادرطلبہ تنظیموں کو مدعو کیا جائے گا اور اس تحریک کا آغاز 10 جنوری کو ایوان اقبال لاہور سے کیا جائے گا ان شائاﷲ

اس سلسلے کا دوسرا پروگرام 11 جنوری کو نشتر ہال پشاور، تیسرا پروگرام 17جنوری 2020 کو کمیونٹی سینٹر کراچی جب کہ چوتھا پروگرام 25جنوری کو بلدیہ ہال مظفرآباد میں منعقد ہو گا۔طلبہ کایہ نمائندہ اجلاس طفیل الرحمٰن شہید کی بلندی درجات کے لئے دعا گوہ ہے اور برادر طلبہ تنظیم اسلامی جمیعت طلبہ کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہوئے یہ مطالبہ کرتا ہے ہے کہ وقوعہ کے ذمہ داروں کا تعین کرکے فوری قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے۔آج کایہ نمائندہ اجلاس اس بات کا عہد کرتا ہے کہ مستقبل قریب میں باہمی مشاورت کے ساتھ ایک فورم کا قیام عمل میں لایا جائے گا جس کے نام اور ضابطہ اخلاق کا اعلان باہمی مشاورت سے کیا جائے گا۔آج کا یہ نمائندہ اجلاس طلباء یونینز بحالی کی آڑ میں تعلیمی اداروں میں مغربی فکری یلغار, فحاشی، عریانی کے فروغ اور قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف نعرے بازی کی پر زور مذمت کرتا ہے اؤر اس کو آئین پاکستان کی کھلی خلاف ورزی تصور کرتے ہوئے ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کامطالبہ کرتا ہے۔اﷲ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

بلاشبہ اس مشاورتی اجلاس میں طلبہ حقوق اور یونینز کی بحالی کے لیے تمام طلبہ تنظیموں کامشترکہ جدوجہد پر متفق ہونا قابل تحسین ہے، اوریہ مشترکہ بیانیہ اور جدوجہدطلبہ یونینز کی بحالی کی کوششوں میں اساسی اہمیت کا حامل ہوگا ، اس میں دو رائے نہیں کہ طلبہ یونینز کی جدوجہد کے حوالے سے ماضی میں تلخ حقائق ہیں ،لیکن ان تلخ حقیقتوں کو مدنظر رکھ کر ایک موقف اپنانے اورطلبہ یونینز کی بحالی اور اس حوالے سے حکومتی پالیسی کا جائزہ لے کر تیزی سے بدلتے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے مستقبل میں درپیش چیلنجز سے نبردآزماہونے کی منصوبہ بندی ،گزرتے وقت کے ساتھ اُسے مربوط اور منظم کرنا وقت کی اہم ضرورت تھی ،طلبہ کا یہ مشاورتی اجلاس اور اس کا مشترکہ بیانیہ ان تمام مفروضوں اور پروپیگنڈوں کا عملی توڑ ثابت ہواہے کہ تمام مؤقرطلبہ تنظیموں نے باہم مل بیٹھ کر اپنے مسائل پر گفتگو اور مکالمہ کیا اور مشترکہ لائحہ عمل طے کیا،یقینا یہ مشترکہ بیانیہ تعلیمی اداروں اورطلبہ کے ماحول میں خوشگوار اضافہ ہے ۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت طلبہ یونینز کی بحالی ،انتخابات اور طلبہ کے مسائل کے حل کے حوالے سے کوئی اقدام کرنے سے پہلے ال سٹوڈنٹس پارٹیز کے اس مشترکہ بیانیہ کو مدنظر رکھ پر لائحہ عمل طے کرے بلکہ بہتر ہے کہ ملک کے طول وعرض میں اپنا فعال وجود رکھنے والی ان تمام طلبہ تنظیموں کا ال پارٹیز کنونشن کا انعقاد کرکے براہ راست ان کی گزارشات ،سفارشات اورمطالبات سن کر مرتب کرکے طلبہ یونینز کی بحالی کے اقدامات کئے جائیں ،تاکہ طلبہ میں پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کرکے باصلاحیت،پرجوش ،نوجوان ،ہنر مند اورمستحق قیادت ملک کے ہر شعبہ کو میسر ہو سکے۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 465 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Molana Tanveer Ahmad Awan

Read More Articles by Molana Tanveer Ahmad Awan: 202 Articles with 114545 views »
writter in national news pepers ,teacher,wellfare and social worker... View More

Comments

آپ کی رائے
Language: