اختلاف رائے کا اظہار۔ مگر کیسے؟

(Ibnul Hussain Abidi, )

یہ 2003ء کی بات ہے۔ جامعۃ الرشید نے طلبہ کااجلاس بلوایا۔ مفتی محمد صاحب نے حاضرین کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہوئے کہنا شروع کیا: علماء وعوام میں بتدریج خلیج بڑھتی چلی جارہی ہے۔ یہ خلیج اگر یوں ہی بڑھتی رہی تو خاکم بدہن عوام کالانعام دین سے مزید دور ہوتے چلے جائیں گے اور اس کی ساری ذمہ داری ہم دین سے نتھی افراد پہ عائد ہوگی۔ نئی نسل ہماری عربی، فارسی اور اردو کے گاڑھے الفاظ سے مقفع ومسجع زبان سمجھنے سے عاری ہوتی ہے اور ہم مدارس والے ان کی مکسچر انگلش زبان سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ اب ہمارے پاس دو آپشن ہیں۔ہم عوام سے مستغنی ہوکر اپنے آپ کو اسی حالت پر رہنے دیں۔ دوسرا آپشن یہ ہے کہ ہم ان کی زبان سیکھ کر افہام وتفہیم کے در وا کریں۔ پہلے آپشن پہ عمل کرنے کی صورت میں علما ء وعوام کے درمیان مزید خلیج پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔ اس لیے ہمیں دوسرا آپشن چننا ہوگا۔ یعنی انگلش اور عصری علو م سے مرصع ہوکر اعلاء کلمۃ اﷲ بطریق احسن انداز میں کرسکیں۔

اس دن کے بعد سے جامعۃ الرشید نے معاشرہ کی ہر ضرورت محسوس کرتے ہوئے اپناسفر تیز سے تیز تر کردیا۔ اب 2020ء میں جہاں جامعۃ الرشید ایک طرف دینی مدرسہ ہے وہاں وہ ایک کام یاب اسکول ، کالج اور یونیورسٹی کی صورت بھی اختیار کرچکا ہے۔ عوام اس کی طرف کھنچتے چلے آرہے ہیں۔ دیگر مدارس اسے اپنے لیے رول ماڈل سمجھنے لگ گئے ہیں۔یہ یقینا جامعۃ الرشید کی بڑی کام یابی ہے۔ مفتی رشید احمد لدھیانویؒ کا لگایا ہوا پودا تناور درخت سے قدم بڑھاکر ایک تحریک کی صورت اختیار کرچکا ہے۔مفتی صاحب کے شاگرد مفتی عبدالرحیم صاحب اجتہادی اقدامات کی ذریعے جہاں کام یابیاں سمیٹ رہے ہیں وہاں انھیں اپنوں اور غیروں کی طرف سے تنقید کے نشتر بھی سہنے پڑتے ہیں، جنہیں مفتی صاحب ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرکے اور اس پہ غور وخوض کرکے جامعۃ الرشید کو مزید چمکاتے ہیں۔

گزشتہ روز چھبیس دسمبر بروز جمعرات جامعۃ الرشید نے اپنے فضلاء کا چار روزہ اجتماع منعقد کیا۔ جامعہ ہرسال یہ اجتماع منعقد کرتا ہے۔ جامعہ کا یہ اقدام بھی اس کے دیگر اقدامات کی طرح اجتہادی ہے۔ اس سے پہلے کسی جامعہ نے اس نوع کا اجتماع منعقد نہیں کیا۔ اس اجتماع میں جامعہ نے جہاں علماء کرام کو خطاب کے لیے مدعو کیا تھا وہاں ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل آصف غفور کو بھی خطاب کی دعوت دی تھی۔ جنرل صاحب تشریف لائے۔ علماء وطلبہ سے خطاب کیا۔ خطاب کے بعد وہ خوش گوار موڈ میں مجمع کے اندر حاضرین میں گھل مل گئے۔ اس دوران ان کے کسی چاہنے والے نے ان کے ماتھے کا بوسہ لے لیا۔ اس ایشو کو لے کر سوشل میڈیا پہ وہ ہاہاکار مچی کہ الامان والحفیظ۔

آپ سمیت مجھے بھی جامعۃ الرشید کی بعض پالیسیوں سے اختلاف ہے۔ اختلاف کا مطلب مگر یہ ہرگز نہیں کہ آپ فریق مخالف کی تذلیل پر اتر آئے۔ اختلاف، معاشرہ کا حسن ہوا کرتا ہے۔ اگر افراد کے درمیان اختلاف نہ ہوتااورسب کے رجحانات، پسند ، ناپسند، مرضی ومنشایکسا ہوتے تو یہ رنگ وآہنگ ، خوب صورتی اور جمال نہ ہوتا جومعاشروں کا خاصہ ہے۔ سب ایک ہی ادارے میں کام کرنے کا سوچتے، ایک ہی جگہ پڑھنے کی کرتے تو جہان رنگ وبو کا حسن ماند ہوتا۔ دو فریق کسی مختلف فیہ مسئلہ میں ضد، عناد اور ہٹ دھرمی کو پرے پھینک کے دلائل سے مزین انتہائی شائستگی سے ایک دوسرے کی بات سن کرکسی نکتہ پر متفق ہوتو یہ اختلاف احسن کہلاتا ہے۔ آج ہمارا معاشرہ اس اختلاف سے نا آشنا ہوتا جارہا ہے۔ کسی ایشو پر اختلاف رائے کا اظہاراس انداز سے کیا جاتا ہے کہ مخالف خواہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہواس کی عزت نفس کی دھجیاں بکھیرنا کمال سمجھا جاتا ہے۔ ہم دوسروں کو تو تمیز کے دائرہ میں رہ کر اختلاف کا درس دیتے ہیں لیکن عمل ہمارا اس کے برعکس ہوتا ہے۔ ہمارا اختلاف بھی کالا دھواں چھوڑ کر معاشرہ میں مزید آلودگی کا باعث بنتا ہے۔

ہمیں اختلاف کرنا ترکی کے شیخ محمود آفندی نقشبندی، جمعیت علماء اسلام کے مولانا فضل الرحمان اور جامعۃ الرشید کے مفتی عبد الرحیم سے سیکھنا ہوگا۔ جو اختلاف کرنے والے کی بات پوری توجہ سے سن کرپھر انتہائی شائستگی سے اپنادلائل سے مزین نکتہ نظر پیش کرتے ہیں۔ مذہبی افراد کی ذمہ داری اس باب میں دوچند ہوجاتی ہے، وہ رسول اﷲ ﷺ کا اسوہ حسنہ اپنے کردار سے پیش کریں۔ اس میدان میں بھی جامعۃ الرشید کے فضلاء وفیض یافتگان کو قدم آگے بڑھانا ہوگا۔ معاشرہ کو اختلاف رائے پیش کرنے کا ڈھنگ سکھانا ہوگا، مسلمہ قائدین، اکابرین اور سیاست دانوں کے بارے میں اپنا لب ولہجہ احتیاط سے استعمال کرنا ہوگا۔ اگر ہم اپنی اصلاح سے صرف نظر کرتے ہوئے دوسروں کو ہی اخلاق کا بھاشن دیتے رہیں تو معاشرہ یوں ہی ہر معاملہ میں اختلاف قبیح سے مزید نفرتوں، رنجشوں اور عداوتوں سے مکدرہوگا۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 170 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ibnul Hussain Abidi

Read More Articles by Ibnul Hussain Abidi: 56 Articles with 27351 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: