قصہ ایک دم توڑتی روایت کا

(Ibn e Yousuf, )

تحریر: عشرت صدیق، ملتان
انسان نے کب لکھنا شروع کیا؟ اس بارے میں وثوق سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ لکھنے کے لیے علامتوں کی ضرورت پڑتی ہے یہی علامت ابجد کہلاتی ہیں۔ مذہبی علما کا نظریہ ہے کہ ابجد حضرت آدم علیہ السلام پر منکشف ہوئی جو حضرت نوح تک چلتی رہی۔ موجودہ دیدہ زیب رسم الخط نے ایک بہت بڑا سفر طے کیا ہے۔ اس کی تاریخ ہزاروں سالوں پر محیط ہے۔ ابتداء میں اردو’’خط نسخ‘‘ میں لکھی جاتی تھی یہ سلسلہ شاہ جہاں کے وقت تک جاری رہا لیکن اس نے نسخ کی جگہ ’’نستعلیق‘‘کو رواج دیا۔

نستعلیق کے معنی صفت تربیت یافتہ خوش گفتار ہیں۔ نستعلیق رفتہ رفتہ فروغ پایا اور کئی نامور خوش نویسوں نے اس کی تابناکی اور خوبصورتی میں اپنا حصہ ڈالا۔ استادانِ نستعلیق میں: میر علی تبریزی، میر عماد، مرزا بزرگ ثوری، مرزا جعفر طبریزی، محمد شفیع ھروی شامل ہیں۔ نستعلیق اسلامی خطاطی کا ایک انداز ہے جو عموماً اردو زبان کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

اولیاء کے شہر ملتان میں بھی بہت سے اعلیٰ پائے کے مشہور خطاط گزرے ہیں جنہوں نے نستعلیق کو فروغ دیا۔ حضرت زکریا ملتانی رحمۃ اﷲ کے دور میں خط نستعلیق کو بڑا عروج حاصل ہوا حضرت نے جو مدرسہ قائم کیا اس میں دینی علوم کے علاوہ خطاطی اور جلد سازی جیسے فنون سکھائے جاتے تھے۔ محمد بن قاسم نے بھی اس فن کی داغ بیل ڈالی۔ اس سلسلے میں عبیدین احمد بغدادی نے سب سے پہلے ملتان میں فن خطاطی کا آغاز کیا۔ تاریخی کتب کے مطابق عہد جہانگیر میں ملتان میں ایک مشہور خطاط عبدالعزیز ملتانی اور میر ملا قیوم قندھاروی گزرے جن کی خطاطی نے بادشاہ جہانگیر کو بے حد متاثر کیا۔ فی زمانہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے فن خطاطی کا حسن ماند پڑگیا ہے کیونکہ کمپیوٹر میں خطاطی کا فونٹ شامل کردیا گیا ہے ۔ اس وجہ سے اب کوئی خطاطی کی طرف توجہ نہیں دیتا.

گزشتہ چند برسوں سے شعبہ تدریس سے وابستہ ہوں ہر جاننے والا یہی شکوہ کرتا نظر آتا ہے کہ ہمارے بچوں کی لکھائی صحیح نہیں ہے اور میرے مشاہدے میں بھی یہی بات سامنے آئی ہے کہ نئی نسل کی لکھائی میں کافی بگاڑ پیدا ہوگیا ہے۔ جس کی وجہ سے امتحانات کے رزلٹ پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے۔ خوش نویسی کے لیے کچھ سال پہلے تک اسکولوں میں تختی اور سلیٹ کا استعمال لازمی ہوتا تھا مگر صدیوں پرانی یہ روایت اب دم توڑتی نظر آرہی ہے۔ جب تلک تعلیمی اداروں میں تختی اور سلیٹ کا رواج رہا لکھائی اور تحریر میں جاذبیت رہی لیکن آج خوش خطی اور خوش نویسی کا فقدان نظر آرہا ہے۔

ماہرین تعلیم کا بھی یہی کہنا ہے کہ آج کل سکولوں میں تختی اور سلیٹ کا استعمال ترک کرنے سے نہ صرف طلباء میں املاء اور خوش خطی کے مسائل نے جنم لیا بلکہ بچوں کے سیکھنے کی صلاحیت بھی متاثر ہورہی ہے۔ تختی اور سلیٹ ایسی بنیادی چیز ہے جو بچے کے ذہن پر ساری زندگی کے لیے نقش بنادیتی ہے۔ گویا کہ خوش خطی تختی کی مرہون منت تھی۔

آج ہم ڈاکٹر،وکیل یا محکمہ پولیس کے ملازمین کی لکھائی کو دیکھیں ان میں سے زیادہ تر کی لکھائی پر رونا آتا ہے۔ ڈاکٹر حضرات کی بھدی لکھائی میں لکھی ادویات کو میڈیکل سٹور والے پڑھنے سے قاصر ہوتے ہیں جس کی وجہ سے مریض کو غلط دوائی دینے کے واقعات بھی اکثر رونما ہوتے رہتے ہیں۔
خوش خطی کی افادیت کا اندازہ اس بات سے بخوبی ہوسکتا ہے کہ ایران میں طالب علم کو میٹرک کی سند اس وقت تک جاری نہیں کی جاتی جب تک کہ طالب علم خوش نویسی کی سند حاصل نہ کرلے۔ چائنا میں2004 میں اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ ججز کی تقرری اس وقت تک نہیں ہوسکتی جب تک اس کے پاس خوش خطی کی کوئی سند نہ ہو۔

خوش خط تحریر سب کو پسند آتی ہے اور آسانی سے پڑھی جاسکتی ہے اچھے خط کی لوگ تعریف بھی کرتے ہیں اور امتحان میں اچھی تحریر کا خوشگوار اثر ہوتا ہے جبکہ خراب اور بھدی تحریر کو پڑھنے میں کافی دقت آتی ہے۔بہرحال خوش خطی اس طرح ہی حاصل ہوسکتی ہے کہ تختی کی قدیم روایت کو دوبارہ زندہ کیا جائے اور تسلسل کے ساتھ مشق کی جائے۔ تاہم بعض روایتیں، مہارتیں اتنی اہم ہوتی ہیں جن کو ہمیں کھونا نہیں چاہیے۔

ایک نجی سکول نے اساتذہ کی خوش خطی کے لیے ورکشاپ کا انعقاد کیا جس میں’’راقمۃ الحروف‘‘ کو بھی سیکھنے کے لیے شرکت کا موقع ملا۔ اس تربیتی ورکشاپ میں کہنہ مشق خطاط نے اپنے اپنے طریقے سے بہت بہترین انداز میں ہمیں نستعلیق کے اصولوں سے روشناس کروایا۔ ان اساتذہ کو دیکھ کر دل خوش ہوتا ہے کہ آج جہاں ٹیکنالوجی کا دور ہے وہاں ایسے عظیم انسان بھی موجود ہیں جو نستعلیق کو فروغ دینے کے لیے اپنی خدمات پیش کرتے ہیں دور دراز شہروں سے سفر کر کے آنا پھر اپنے طلبا کو بہترین انداز میں سمجھانا، سکھانا اور ان کی حوصلہ افزائی کرنا بلاشبہ ایک بہترین خدمت ہے ادارے کے ڈائریکٹر صاحب داد کے مستحق ہیں جنہوں نے سوچا اور جنون کی حد تک شوق ہونے کی وجہ سے یہ ورکشاپ منعقد کروائی اور ہمیں اس عظیم روایت کو سیکھنے کا موقع فراہم کیا۔ بلاشبہ فن خطاطی ایک فن تحریر ہے۔یہ فن دنیا کے ہر گوشے میں اور ہر زبان میں پایا جاتا ہے یہ فن خوش خطی کے لیے ہے رومن، لاطینی اور عربی زبانوں میں فن کافی مقبول ہے۔ اکثر اپنیاستاد محترم کو یہ کہتے سنا کہ ’’لکھائی جاندا ر تو نتیجہ شاندار‘‘
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 210 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ibn e Yousuf

Read More Articles by Ibn e Yousuf: 6 Articles with 1226 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: