راز کی بات

(Rana Amir Roy, Mianwali)
کہا جاتا ہے کہ راز کو راز ہی رکھنا چاہیے لیکن یہ ایک ایسا راز ہے جسے سب کو جاننا چاہیے

ايک دن صحابہ کرام رضی الله عنھم کی جماعت سے حضور نبی اکرم صلی الله عليہ وآلہٖ وسلم نے بڑا ايمان افروز سوال کيا:
اَيُّ الْخَلْقِ اَعْجَبُ اِلَيْکُمْ يْمَانًا؟
’’تمہارے نزديک کس مخلوق کا ايمان عجيب ترين ہے؟ ‘‘
صحابہ کرام رضی الله عنھم نے عرض کيا:
’’يا رسول الله! فرشتوں کا‘‘
آپ صلی الله عليہ وآلہٖ وسلم نے فرمايا:
وَمَالَهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ وَهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ؟
’’وہ کيسے ايمان نہ لائيں جبکہ وہ الله کی حضوری ميں ہوتے ہيں اور ہمہ وقت اُس کی تسبيح و تہليل ميں مشغول رہتے ہيں۔‘‘
صحابہ کرام رضی الله عنھم نے عرض کيا:
’’(يا رسول الله!) انبياء اکرام کا۔‘‘
آپ صلی الله عليہ وآلہٖ وسلم نے فرمايا:
وَمَالَهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ وَالْوَحْيُ يَنْزِلُ عَلَيْهِمْ ؟
’’وہ کيسے ايمان نہيں لائيں گے جبکہ اُن پر وحی اترتی ہے؟‘‘
صحابہ کرام رضی الله عنھم نے (معصوميت بھرے انداز سے) عرض کيا:
’’(يا رسول الله!) پھر ہمارا ايمان عجيب تر ہو گا۔‘‘
آپ صلی الله عليہ وآلہٖ وسلم نے فرمايا:
وَمَالَکُمْ لَا تُؤْمِنُوْنَ وَ اَنَابَيْنَ اَظْهُرِکُمْ؟
’’کيا تم (اب بھی) ايمان نہ لاؤ گے جبکہ تمہارے سامنے ہر وقت ميرا سراپا رہتا ہے؟‘‘
پھر آپ صلی الله عليہ وآلہٖ وسلم نے فرمايا:

اَلاَ! اِنَّ اَعْجَبَ الْخَلْقِ اِلَيَ يْمَانًا لَقَوْمٌ يَکُوْنُوْنَ مِنْ بَعْدِيْ يَجِدُوْنَ صُحُفًا فِيْهَا کِتَابٌ يُؤْمِنُوْنَ بِمَا فِيْهَا.
مشکوٰة المصابيح، باب ثواب هذه الامّه، 584

’’ميرے نزديک ساری کائنات ميں سب سے عجيب (قابل رشک) ايمان اُن لوگوں کا ہے جو تمہارے بعد ہوں گے۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ صرف اوراق پر لکھی ہوئی کتاب ديکھيں گے اور اُس پر ايمان لے آئيں گے۔‘‘

سرکار واصف علی واصف کہتے ہیں کہ۔۔۔

"محبوب صلی الله عليہ وآلہٖ وسلم کا نام سنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تعريف سنی اور محبت پيدا ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔۔ سُن کر محبت ہونا، يہ بڑے راز کی بات ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ يعنی کہ محبوب صلی الله عليہ وآلہٖ وسلم کا ذکر سنا اور محبت پيدا ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ يہ بڑے نصيب کی بات ہے اور جن کو نہيں ملتا، اُن کو ديکھنے کے بعد بھی نہيں ملا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابوجہل کے ابوجہل ہی رہے اور جن کو ديکھے بغیر ملا وہ اويس قرنیؒ ہو گئے۔"

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 186 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rana Amir Roy

Read More Articles by Rana Amir Roy: 20 Articles with 4279 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: