بیٹا! پیر گھسیٹ کر مت چلیں۔۔۔بچوں کو کچھ باتوں پر بار بار ٹوکنا ضروری ہے


معاشرے میں اس وقت سب سے بڑا فقدان بچوں کی اچھی تربیت ہے۔۔۔آج کل کے ماں باپ بظاہر ہر وقت پریشان نظر آتے ہیں کہ ہمارا بچہ بات نہیں مانتا، ہمارا بچہ ضدی ہے، ہمارا بچہ ہر وقت موبائل دیکھتا ہے۔۔۔لیکن سچ تو یہ ہے کہ والدین نے خود کو کافی مجبور اور بے بس بنالیا ہے آج کل کے بچوں کے سامنے۔۔۔وہ اپنی عادات بدلنے سے قاصر ہیں اور بچوں کو بار بار ٹوکنے سے گھبراتے ہیں۔۔۔لیکن کچھ باتوں پر اگر بر وقت اور ہمہ وقت نا ٹوکا جائے تو وہ پختہ ہوجاتی ہیں۔۔۔مثال کے طور پر کسی کے بھی منہ کی طرف ٹانگیں کر کے بیٹھ جانا، محفل میں چیونگ گم چبانا، زور سے ڈکارنا، جمائی آئے تو باقاعدہ آواز نکالنا، پیر گھسیٹ کر چلنا، بڑوں کو سلام نا کرنا وغیرہ وغیرہ۔۔۔لیکن کچھ باتوں پر بار بار ٹوکنا ضروری ہے۔۔

سلام کی عادت ڈالیں
آج کل کے بچے اگر سلام نا کریں تو ماں باپ یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ مہمانوں کے آگے شرما جاتا ہے، یا نظر انداز کردیتے ہیں۔۔۔لیکن یہ وہ عادت ہے جو بچے کی تربیت میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔۔۔آپ ہمیشہ ہر آنے والے کو بچے کے سامنے پرتپاک سلام کریں اور بچے کو کم سے کم تین بار زور دے کر یہ عمل کرنے کے لئے کہیں۔۔۔ضروری نہیں کہ کوئی آپ کے گھر آئے تو ہی یہ عمل ہو۔۔۔بچے کو سکھانے کی غرض سے ہی سہی آپ اپنے گھر کے راستے میں ملنے والے ہر بڑے بزرگ کو سلام کریں اور بچے سے بھی کروائیں۔۔۔اس عمل پر زور دیں۔۔۔
 


بڑوں کو بیٹھنے کے لئے جگہ دینا
عموماً یہ دیکھا گیا ہے کہ بڑے کھڑے ہوتے ہیں لیکن بچے کرسی خالی نہیں کرتے بلکہ جم کر بیٹھ جاتے ہیں تاکہ کوئی انہیں ہٹا نا سکے۔۔۔بچے کو پیار سے سمجھائیں کہ یہ جو آپ کر رہے ہو یہ بدتمیزی ہے۔۔۔بغیر کہے کسی بڑے کے آنے پر فوراً جگہ خالی کرنی چاہئے۔۔۔چاہے وہ والدین ہوں یا کوئی مہمان۔۔۔اس معاملے میں بار بار ٹوکنا اور سمجھانا بہت ضروری عمل ہے۔

ناک میں انگلی دینا
بچوں کو بہت سارے والدین ناک میں انگلی دیتے وقت بالکل بھی نہیں ٹوکتے۔۔۔ان کا ذاتی خیال ہے کہ یہ تو معصوم بچے ہیں اور ان کے اس عمل میں گندگی کا کیا خیال۔۔۔بالکل غلط۔۔۔بچوں کو ان بنیادی باتوں کا اچھی طرح پتہ ہونا چاہئے کہ ناک صاف کرنے کے لئے رومال یا ٹشو کا استعمال ہو اور یہ عمل واش روم میں ہی کیا جائے تو بہتر ہے۔۔۔اس عمل کو روکنے کے لئے ٹوکنا بہت ضروری ہے۔۔۔

پیر گھسیٹ کر چلنا
بچے تو بچے بعض بڑے بھی پیر گھسیٹ کر چلتے ہیں جو انتہائی غیر مناسب اور غیر مہذبانہ ہے۔۔۔بچے کو بتائیں کہ پیر کو ہمیشہ ہلکے سے اٹھا کر چلیں اور چلنے وقت جوتوں کی آواز بھی نا آئے ۔۔۔اگر وہ پھر بھی نا سمجھے تو اسے بار بار ٹوکیں کیونکہ اس کا یہ عمل اسی کے لئے نقصان دہ ہے۔۔۔
 


مہمانوں کے سامنے کھانے پینے کی چیزوں پر حملے کرنا
یہ وہ بہت اہم معاملہ ہے جسے والدین نظر انداز کردیتے ہیں، لیکن یقین جانیں اگر بر وقت آپ نے اس معاملے پر بچے کی سر زنش نہیں کی تو یہ عادت اور بھی کئی بڑی غلطیوں کو ہوا دیتی ہے جیسے لحاظ ختم ہوجانا، کسی دوسرے کی پرواہ نا ہونا، بدتمیز ہوجانا وغیرہ۔۔۔عموماً مہمانوں کے سامنے کوئی بھی لوازمات رکھتے ہی میزبان کے اپنے بچے اس میں ہاتھ مارنا شروع کردیتے ہیں۔۔۔ماں باپ اگر ٹوکنے لگیں تو کوئی نا کوئی روکنا شروع کردیتا ہے۔۔۔بچہ ہے کھانے دو ٹوکو مت۔۔۔مگر نہیں۔۔۔آپ نے لازمی ٹوکنا ہے اور اسے پہلے سے سمجھانا ہے کہ اگر مہمانوں کے سامنے یا کسی بڑے کے سامنے آپ نے یہ حرکت کی تو آپ اس سے سخت خفا ہوجائیں گے۔۔۔

بڑوں کے بیچ میں بیٹھ کر باتیں سننا اور بولنا
یہ وہ غلطی ہے جو اکثر مائیں کرتی ہیں اور بچوں کے ہاتھ میں موبائل پکڑا کر انہیں اپنی ہی محفل میں بٹھا لیتی ہیں اور ہر طرح کی برائی اور باتیں بچوں کے سامنے کرتی ہیں۔۔۔یا کبھی کبھی بچے کو خود بھی شوق ہوجاتا ہے بڑوں میں بیٹھنے کا۔۔۔اسے فوراً بڑوں کی محفل سے نکال کر کسی ایسے کھیل میں مگن کریں جو اس کے لئے دلچسپی کا باعث بنے۔۔۔

یاد رکھئے! بچوں کی تربیت کرنا اگر اتنا ہی آسان ہوتا تو پھر اﷲ کی طرف سے ماں باپ کے لئے اتنے انعامات کا اعلان کیوں ہوتا۔۔۔بچے بہت بڑی ذمہ داری ہیں اور والدین کو اسے بھرپور انداز سے نبھانا ہے-

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 20015 Print Article Print
 Previous
NEXT 

YOU MAY ALSO LIKE:

Most Viewed (Last 30 Days | All Time)

Comments

آپ کی رائے
Language: