شکم پرستی کا بڑھتا ہوا رجحان

(Tahir Ayub, Jehlum)

ویسے تو ہمارے اس لولے لنگڑے معاشرے کی ہر ادا ہی نرالی ہے، اس کے ہر رنگ اور ہر آھنگ سے انفرادیت جھلکتی ہے ،جب کہ اس کے اجتماعی وجود کو ڈھانپنے والے کپڑے بھی کچھ زیادہ ہی پھٹے پرانے ہو چکے ہیں،بلکہ اب تو یہ اجتماعی بدن اس حد تک عریاں اور ننگا ہو چکا ہے کہ رنگ برنگی ٹاکیاں اور پیوند بھی اسے چھپانے سے عاری ہیں... لیکن بحرحال حوصلہ سینوں میں چھپے ایمان اور مسلمانیت کا ہے ،اور ایک مبہم سی امید ہے کہ اس کی بدولت ضمیر کی موہوم سی چنگاری کبھی نہ کبھی شعلۂ جوالہ ضرور بنے گی-

انسانی زندگی کی بقا و دوام کے لئے ضروری اشیاء میں انسانی خوراک انتہائی اہم اور لازمی جزو ہے،یہی وجہ ہے کہ ایک زندہ انسان کے مقاصدِ زندگی میں سرفہرست اس کا پیٹ ہے، اور اگر ایک حد میں رہتے ہوئے اس شکم سیری کی ضروریات کو پورا کرنے کا فریضہ سر انجام دیا جائے تو بلاشبہ یہ ایک عبادت کا درجہ بھی رکھتا ہے، لیکن ہمارے ہاں جس طرح سے شکم پروری کے عادات و اطوار رائج ہیں، اور جس طرح ضرورت سے زائد خوراک کو پیٹوں میں ٹھونسنے کے عجیب و غریب مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں ،اس سے یہ بات پایہ ثبوت تک پہنچتی ہے کہ معاشرتی سطح پر جہاں ہم اور بڑے اخلاقی المیات کا شکار ہیں،وہیں ایک اہم اور بڑا سماجی مسئلہ بسیار خوری اور کثرتِ شکم سیری کا بھی ہے، جو نہ صرف صحت مندانہ طرزِ معاشرت کی راہ میں بڑی ایک رکاوٹ ہے، بلکہ غذائی ضروریات کے نظام میں بے اعتدالی اور ناہمواری کا باعث بھی ہے ، جسے بلاشبہ تہی دستوں اور فاقہ کشوں کی حق تلفی کی ایک وجہ قرار دیا جائے تو غلط نہ ہو گا-

بسیار خوری یا شکم پرستی کو ہمارے ہاں قابل فخر کارنامہ سمجھا جاتا ہے، شادی بیاہ، غمی خوشی کی تقریبات، دعوتیں،فوڈ پارٹیز اور اس طرح کے دوسرے مشاغل سے فراغت کے بعد سیر شکمی کی بے رحم داستان گوئی بڑے فخر اور طمطراق سے بیان کی جاتی ہیں- سیاسی جلسے جلوسوں، مختلف تہواروں، مذھبی تقریبات اور اس طرح کے دوسرے فنکشنز میں نان روٹی اور بریانی کی دیگوں پر جھپٹنا پلٹنا اور پلٹ کر جھپٹنا کے مصداق نوچاکھسوٹی، اور باہمی کش مکش کی مناظر تو اب ہماری تہذیب و ثقافت کا ایک حصہ بن چکے ہیں،اور صرف یہی نہیں طعام گاہوں میں ڈونگوں کی کھڑکھڑاہٹ ،چمچوں کی کڑکڑاہٹ اور بوٹیوں کے بوجھ سے لدی پلیٹوں کی لڑکھڑاہٹ کے بعد پھولے ہوئے پیٹوں کی گڑگڑاہٹ کی آوازیں ہماری اخلاقی پستی، ناشائستگی اور بدتہذیبی کی منفرد داستانیں الگ ہیں-

اس شکم پرستی کے آج کل بڑے خوف ناک نتائج دیکھنے کو مل رہے ہیں،ہم اپنے اردگرد کے لوگوں پر نظر دوڑائیں اکثر لوگ سینے کی جلن اور گیس کے مرض کا شکار نظر آئیں گے، یقین نہیں تو کسی بھی ھسپتال کا چکر لگا کر دیکھ لیجئیے، سب سے زیادہ مریض معدے کی خرابی والے ہی ملیں گے، بلکہ اب تو نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اکثر لوگ گولیاں اور اینٹا سڈ سیرپ جیبوں میں رکھے پھرتے ہیں-روزنامہ جنگ کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ رمضان میں پہلی افطاری کے بعد صرف اسلام باد کے تین ہزار سے زیادہ لوگ کثرتِ شکم سیری کے باعث ہسپتال کے بستروں پر تھے، پھر بسیار خوری کی اس خصلت کا بڑا نقصان موٹاپا ہے، اور اس موٹاپے سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے کبھی دم درود،جھاڑ جھنکار ،ویسٹ لوز بیلٹ اور چائنیز گرین ٹی کا سہارا ،اور کبھی جم جیسے مشاغل اختیار کئیے جاتے ہیں،پھر کبھی ڈائیٹنگ پلان مرتب کئیے جاتے ہیں اور کبھی رنگ برنگی ادویات پر پیسہ پانی کی طرح بہایا جاتا ہے ہے-

2013 میں یونیورسٹی آف واشنگٹن کے شعبہ ہیلتھ میٹرکس اینڈ ایویلوئیشن کے ’لانسیٹ‘ نامی جریدے میں ایک رپورٹ شائع ہوئی ،اس تحقیق کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ موٹاپے کے شکار افراد والے ممالک میں پاکستان کو نویں پوزیشن حاصل تھی، اس رپورٹ کے اعداد و شمار 1980ء سے 2013ء کے درمیان 188 ممالک سے حاصل کیے گئے-موٹاپے اور ڈھبوس جثوں میں صف اول کے ممالک میں ہمارا شمار بحیثیت مجموعی ہمارے شکم پروری کے حریص ہونے کی ایک بڑی مثال ہے-

زندگی جیسی یہ عظیم نعمت اللہ تعالیٰ کا انعام ہے اور اس کے مقاصد میں سے اہم مقصد اللہ تعالیٰ کی بندگی ہے۔ لیکن شائد حقیقی طور پر ہم زندگی کا سب سے اہم مقصد شکم سیری کو ہی سمجھ بیٹھے ہیں، خالق کائنات کے اس بارے بہت واضح فرامین موجود ہیں ، ایک جگہ فرمایا:-
"جو رزق تمہیں دیا گیا ہے اس میں سے کھاﺅ پیو مگر حد سے نہ بڑھو"۔
نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں بھی کئی بار شکم پروری میں اعتدال کی روش کا ذکر ہے- ایک جگہ فرمایا:- " کھانا تب کھاﺅ جب تمہیں بھوک لگےاور بھوک ابھی باقی ہو تو کھانا چھوڑ دو"

اس کے علاوہ اب تو طبّی سطح پر بھی یہ بات مستند حوالوں سے ثابت ہو چکی ہے کہ کثرتِ شکم سیری انسانی صحت پر انتہائی برے اثرات مرتب کرتی ہے، اور یہ کہ معمول سے زیادہ کھانے والا شخص ہمیشہ اندرونی خلفشار یا ڈپریشن میں مبتلا رہتا ہے یا دوسرے الفاظ میں اپنا غم غلط کرنے کے لیے کھانے کا سہارا لیتا ہے-

اس اہم اخلاقی و سماجی مسئلے سے ارباب اختیار اور دوسرے مذھبی سماجی حلقوں کی بے اعتنائی اور لاپرواہی بھی ایک لمحہ فکریہ ہے ، مہذب معاشروں میں ایسے اخلاقیاتی پہلوؤں پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے ،انسانیت اور انسانی وقار کے پودے کو پھلنے پھولنے کے مواقع فراہم کئیے جاتے ہیں،اور اجتماعی اخلاقی معیار کو بطورِ سبجیکٹ نصاب تعلیم میں شامل کیا جاتا ہے-

آج ضرورت اس امر کی ہے بسیار خوری جیسے دوسرے کئی اور امراض سے بچنے بارے شعوری مہم چلائی جائے یا اس سلسلے میں سماجی سطح پر عمومی آگاہی دی جائے ، کیونکہ یہ ایک فطری امر ہے کہ صحت مند قومیں ، صحت مند افراد ہی کی بدولت منزل مقصود پر پہنچتی ہیں، اور یقیناً صحت مند افراد کے پیٹ چھوٹے اور دماغ بڑے ہوا کرتے ہیں،لہذا کوئی ایسی منظم منصوبہ بندی کی جائے کہ یہ پیٹوں اور پلیٹوں میں ضائع ہونے والا فالتو طعام کسی بھوکے ننگے کے کام آ سکے..

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 77 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tahir Ayub

Read More Articles by Tahir Ayub: 8 Articles with 1854 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: