مسلمانوں کو مرتد بنانے کے کیمپ ۔۱

(Ghulam Ullah Kiyani, Islamabad)

بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوؤں، کمیونسٹ اور بدھسٹوں سمیت دیگر غیر ہندوؤں کے لئے کیمپس کام کر رہے ہیں۔ اب کشمیریوں کے لئے بھی یہ کیمپ قائم کئے جا رہے ہیں۔ جہاں بندوق کی نوک پر تشدد، جادوگری اور دیگر سرکاری وسائل کے استعمال سے ان کے عقائد و نظریات تبدیل کئے جائیں گے۔بھارت کے پہلے چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن راوت نے بھارت میں پہلے سے چل رہے ان مراکزکا اعتراف کرتے ہوئے کشمیریوں کے لئے یہ کیمپ قائم کرنے کی بات کی۔ وہ ان کیمپوں کو ’’ڈی ریڈیکلائزیشن‘‘ کیمپ کا نام دے رہے ہیں۔ جو نازی جرمنی کے کیمپوں کے طرز پر قائم ہوں گے۔ بھارت کے اعلی فوجی کمانڈر کے اس انکشاف نے تشویش پید کی ہے کیوں کہ بھارت نے کشمیریوں کے لئے سیکڑوں کی تعداد میں ٹارچر سنٹرز قائم کر رکھے ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں کشمیریوں کو مقبوضہ ریاست سے باہر بھارتی شہروں کے ٹارچر سنٹرز پر رکھا گیا ہے۔

جنرل راوت کو 31 دسمبر، 2019 سے جب وہ آرمی چیف کے بطور سبکدوش ہوئے، کو سی ڈی ایس کے طور پر تقررکیا گیا۔ وائس چیف آف آرمی لیفٹیننٹ جنرل ایم ایم ناراوانے 28 ویں چیف آف آرمی اسٹاف کا عہدہ سنبھالا۔دسمبر 2015 میں، مودی سرکار نے دو سینئر افسران لیفٹیننٹ جنرل پروین بخشی اور لیفٹیننٹ جنرل پی ایم حارث کو نظر اندازکرتے ہوئے جنرل راوت کو آرمی چیف مقرر کیا ، اور دونوں اس کے بعد ہی ریٹائر ہو چکے ہیں۔ جنرل راوت چیف آف ڈیفنس سٹاف کے طور پر فور اسٹار جنرل ہیں اور بھارتی وزیر دفاع کے پرنسپل ملٹری ایڈوائزر کے علاوہ مستقل چیئرمین، چیف آف اسٹاف کمیٹی کے عہدے پر بھی کام کررہے ہیں۔ سی ڈی ایس وزارت دفاع میں فوجی امور کے نئے محکمہ کی سربراہی کرے گی اور نئی دہلی حکومت کے سکریٹری کی حیثیت سے بھی کام کرے گی۔اس لئے جنرل راوت کا بیان تشویش کا باعث بن رہا ہے۔

گزشتہ روز بھارتی وزارت خارجہ اورایک تھنک ٹینک کے زیر اہتمام جاری ڈائیلاگ کے موقع پر جنرل بپن راوت نے کہا کہ 10 سے 12 سال تک کم عمرکے کشمیری بچوں اور بچیوں کو ان کیمپوں میں ڈالنے کی ضرورت ہے۔ جنرل نے جارحیت اور تشدد میں ملوث بھارتی فوج اور اس کی جانب سے پیلٹ کے استعمال سے ہزاروں کشمیریوں کو بینائی سے محروم کرنے کا بھی دفاع کیا اور کہا کہ پیلٹ گنوں سے ہونے والی ہلاکتوں اور کشمیریوں کو اندھا بنانے کے لئے بھارتی فورسز کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔بظاہر بھارت اپنی سرکاری ریاستہ دہشتگردی پر پردہ ڈالنے کے لئے بنیاد پرستی کا نام استعمال کر رہا ہے۔کم عمر لڑکیوں اور لڑکوں پربنیاد پرستی کا الزام لگا رہاہے۔ جب کہ وہ بھارتی مظالم اور قتل عام کے جواب میں فورسز پر کنکر پھینک کر اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے ہیں۔ جنرل نے آرمی کی طرف سے اس طرح کے کیمپوں کے بارے میں پہلے تبصرے میں مزید کہا، ''ہمارے ملک میں یہ کیمپ چل رہے ہیں۔''

بھارت کے سرکاری نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن میں فرقہ وارانہ فسادات اور اقلیتوں سے متعلق معاملات کو دیکھنے کے ذمہ دار خصوصی مبصر ہرش مینڈرنے بھی اعتراف کیا ہے کہ شمال مشرقی ریاست آسام میں ''مشکوک شہریوں'' کے لئے یہ کیمپ کام کر رہے ہیں۔ حراستی کیمپوں کی شرائط سے متعلق اپنی رپورٹ پر رائٹس پینل کی طرف سے کوئی ردعمل نہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے حال ہی میں اس عہدے سے استعفیٰ دیا تھا۔منڈرنے نئے شہریت کے قانون کے خلاف ایک بڑی آواز کو جنم دیا ، کہ مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جاتا ہے۔ جیسے ہی پارلیمنٹ کے ذریعہ اس قانون کو اپنایا گیا، اس نے بڑے پیمانے پر سول نافرمانی کرنے کا مطالبہ کیا، اور خود کو مسلمان ہونے کا اندراج کرنے اور قومی شہریوں کے مجوزہ قومی رجسٹر (این آر سی) کے لئے صفر دستاویزات فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔ منڈیر، جو اس وقت نئی دہلی میں واقع ایک ریسرچ آرگنائزیشن سنٹر فار ایکویٹی اسٹڈیز کے ڈائریکٹر ہیں، کا کہنا ہے کہ شہریت کا بحران بھارت میں آئینی بحران کا باعث بنے گا۔انھوں نے آسام میں حراستی مراکز کی موجودگی کا انکشاف کیا تھا اور سوال کیا کہ کیابھارت جرمن حراستی کیمپوں کی طرح سیکڑوں ہزاروں افراد کو ان میں ڈالنے جارہا ہے؟انھوں نے کہا کہ یہ حراستی مراکز جہنم نما مقامات ہیں کیونکہ جیلوں کے اندر ہی جیلیں ہیں اور انھیں کوئی حقوق تک نہیں ہیں۔ انہیں پیرول نہیں ملتا ہے، انہیں صحن میں گھومنے کی اجازت نہیں ہے، اور کنبے الگ ہوجاتے ہیں لہذا بیوی کو ایک حراستی مرکز میں رکھا جاتا ہے اور شوہر کودوسرے میں۔ یہاں تک کہ انہیں ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔جاری۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 596 Articles with 236520 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
22 Jan, 2020 Views: 450

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ