میکے کی آزادیاں شادی کے بعد یاد آتی ہیں۔۔۔شادی شدہ لڑکیوں کے دل کی بات


بیٹیاں تو ہوتی ہی پرایا دھن ہیں لیکن لڑکیاں جب شادی کر کے دوسرے گھر چلی جاتی ہیں تب ان کو یاد آتا ہے زندگی کے ہر موڑ، ہر قدم پر اپنے میکے کا سکھ، اپنے میکے کی محبتیں اور سب سے بڑھ کر میکے کی آزادیاں-

صبح دیر سے سو کر اٹھنا
شادی کے بعد بہت سارے گھروں میں بہو کو یہ آزادی نہیں ہوتی کہ وہ اپنی مرضی سے سو کر اٹھے بلکہ اسے سسرال کے قوانین اور وہاں کے نظام کے حساب سے چلنا ہوتا ہے۔۔پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ ذمہ داریاں بڑھتی ہیں اور بچوں کے بعد پھر اسے لازمی صبح چھے بجے سے ہی اپنے دن کا آغاز کرنا ہوتا ہے اور سونے کا وقت رات کے اس پہر ہوتا ہے جب سب سوجاتے ہیں۔۔۔لیکن میکے میں آرام کا وقت ہی وقت ہوتا ہے۔۔۔اپنی مرضی سے سو کر اٹھنا اور ذمہ داریوں کے احساس سے بری رہنا۔۔۔یہ لاڈ اور نخرے یاد آتے ہیں شادی کے بعد
 


دوستوں کے ساتھ آؤٹنگ پر چلے جانا
میکے میں پابندیاں صرف اسی حد تک ہوتی ہیں کہ وقت پر آؤ یا وقت پر جاؤ۔۔۔لیکن کوئی کسی بھی بات کو منفی انداز میں نہیں لیتا بلکہ ہر حال میں ساتھ کھڑا رہتا ہے۔۔۔لیکن اگر سسرال میں آپ نے دوستوں کے ساتھ پورا دن گزارا تو پھر ہر بات کا جواب دینے کے لئے تیار ہوجائیں۔۔۔کہاں گئی تھیں، وہاں اور کون کون تھا، کیوں جاتی ہو، آئندہ مت جانا وغیرہ وغیرہ۔۔۔یا اگر کوئی سوال نا بھی تو رویوں سے ہی پریشانی شروع ہوجاتی ہے۔۔۔

کام نا کرنے کی آزادی
یہ سچ ہے کہ امیاں اپنی بیٹیوں کو بار بار کام کرنے کی ہدایت ضرور دیتی ہیں لیکن ان پر ذمہ داری اک کوئی بوجھ نہیں ڈالا جاتا اور وہ اپنی مرضی سے جب دل چاہے کھانا بنائیں، مہمان داری کریں یا کوئی بھی کام کریں۔۔۔لیکن سسرال میں یہ سارے کام بغیر کوتاہی کے نا صرف کرنے ہیں بلکہ ان کی جواب دہی بھی ہوتی ہے۔۔شوہر کے آرام کا خیال سے لے کر سسرال کی ذمہ داریاں پورا کرنے کا احساس پھر یاد دلاتا ہے میکے کی۔۔۔
 



نخرے دکھانا
لڑکیاں اپنے ماں باپ کو جو نخرے دکھاتی ہیں چاہے وہ شاپنگ میں ہو یا کھانے میں، کوئی چیز پسند نا آنے پر یا پھر کسی مہمان کے سامنے نا آنے پر ۔۔۔یہ سارے نخرے میکے تک ہی محدود رہتے ہیں کیونکہ سسرال میں اگر دکھائے تو بہت امید ہے کہ آپ کو بد زبان، بدمزاج اور بد لحاظ کے ٹائٹل مل جائیں۔۔۔اس لئے ماں باپ اور بہن بھائیوں سے زیادہ نخرے اٹھانے والا سسرال میں مشکل سے ہی ملتا ہے

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 4730 Print Article Print
 Previous
NEXT 

YOU MAY ALSO LIKE:

Most Viewed (Last 30 Days | All Time)

Comments

آپ کی رائے
Language: