حقِ مہر میں نمازِ فجر کا آخر کیا جواز؟

(Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas, USA)

اسلامی تاریخ میں ایک واقعہ موجود ہے کہ دور رسالت ﷺ میں ایک صاحب ( اس وقت نام یاد نہیں ہے ) نے اسلام قبول کیا اور ایک صحابیہ ؓ کو شادی کا پیغام بھیجا مگر وہ بہت نادار تھے قلیل ترین حق ِمہر کی بھی ادائیگی سے قاصر تھے مگر ان صحابیہ ؓ نے کہا کہ ان صاحب ؓ کا قبول ِ اسلام ہی میرا حق ِِمہر ہے ۔ رسول اللہﷺ کو اس بات کا علم ہؤا تو آپﷺ نے فرمایا میں نے اس سے زیادہ بہتر کسی کو حق ِمہر مقرر کراتے نہیں دیکھا ۔

دوسرا واقعہ یہ کہ ایک اور صحابیؓ اتنے نادار تھے کہ نکاح کے موقع پر حقِ مہر میں ایک لوہے کی انگوٹھی تک کا انتظام نہیں کر سکتے تھے تب حضور محمدﷺ نے انؓ سے دریافت فرمایا کہ تھوڑا سا قرآن کچھ سورتیں وغیرہ زبانی یاد ہیں؟ اور جواب اثبات میں پا کر اسی حفظِ کلام پاک کو انؓ کی منکوحہ کا حقِ مہر قرار دے دیا ۔ یہ دو استثنائی واقعات ہیں شاید کچھ اور بھی ہوں مگر خود رسول اللہﷺ کی صاحبزادی سیدہ فاطمة الزہرہؓ کی شادی کے موقع پر چونکہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ استطاعت رکھتے تھے تو آپﷺ نے بیٹی کا حقِ مہر سکہ رائج الوقت میں مقرر فرمایا جس کا انہوںؓ نے نکاح سے قبل بند و بست کر لیا تھا ۔

شریعت میں انعقادِ شادی کے جو اعمال بیان کئے گئے ہیں یعنی فرائض ، واجب اور سنتیں تو حقِ مہر واجب ہے جو کہ کسی بھی مالی و مادی شکل میں ہونا ضروری ہے مثلاً نقدی ، طلائی یا نقرئی زیورات یا کوئی جائیداد جیسے مکان دکان یا کوئی پلاٹ یا زرعی زمین وغیرہ اور یہ سب مرد کی مالی حیثیت اور استطاعت کے مطابق طے ہونا چاہیئے جسے وہ با آسانی ادا کر سکے ۔ مگر کوئی بھی فرض عبادت مہر کے قائم مقام نہیں ہو سکتی ۔ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے کہ اپنی بیویوں کے مہر خوش اسلوبی سے ادا کرو ہاں اگر وہ اپنی خوشی سے کچھ یا سارا حصہ چھوڑ دیں تو تم شوق سے کھا لو ۔ اب ذرا سوچیں کہ کیا وہ نماز ہو سکتی ہے؟ عورت اگر ضرورتمند یا خواہشمند نہ ہو تو وہ مہر کو ایک مناسب معمولی مقدار میں بھی مقرر کرا سکتی ہے تاکہ شریعت کا تقاضہ پورا ہو جائے اور وہ سوا بتیس روپے ہرگز بھی نہیں ہے ۔ اور ہونے والا شوہر اگر بے نمازی ہے تو وہ اس سے یہ بات اپنے طور پر کسی بھی مناسب موقع پر پیار دلار سے بھی منوا سکتی ہے کہ وہ نماز کی پابندی کرے کیونکہ یہ فرض ہے ۔ مگر ساری دنیا کے سامنے نکاح کے موقع پر حق ِمہر میں نمازِ فجر کا مطالبہ کر کے وہ کیا جتانا چاہ رہی ہے کہ میں تو کوئی بہت دودھ کی دھلی ہوں مگر یہ ناہنجار بے نمازی ہے اور مجھے شادی پھر بھی اسی سے کرنی ہے ۔ اور صرف نماز فجر کا مطالبہ کیوں ، کیا باقی کی چار نمازیں اسے معاف ہیں؟ اور اگر وہ باقی کی چاروں نمازیں پڑھتا ہے تو اللہ اسے فجر کی نماز بھی پڑھنے کی توفیق دے ہی دے گا بیوی کو نماز فجر کے لئے باقاعدگی سے اٹھتے اور پڑھتے دیکھے گا تو اسے بھی شرم آ ہی جائے گی اور پھر وہ بھی پڑھنے لگے گا ۔ دنیا کے سامنے اسے رسوا کرنا ضروری ہے کیا؟

تین برس قبل ٹی وی آرٹسٹ یاسرہ رضوی نے نکاح کے موقع پر ہونے والے شوہر سے نماز فجر کا مطالبہ کر کے دنیا کو یہی باور کرایا تھا کہ وہ یہ نماز نہیں پڑھتا ۔ لیکن خود اپنے لئے بھی انہوں نے کچھ طے کیا؟ شوبز کریئر تو بڑی بات ہے ان سے تو سلیو لیس تک کی قربانی نہ دی گئی کہ کم از کم اسے ہی ترک کر دیتیں ۔ کچھ عرصہ قبل دوبئی میں ہونے والے مشاعرے جشنِ اردو میں وہ بطور شاعرہ اس حلئے میں شریک ہوئیں جیسے وہ کوئی ادبی تقریب نہیں کوئی ایوارڈ شو ہو ۔ ان کی باری کے دوران اسٹیج پر ان کے پیچھے بیٹھے دو بڑے اور مشہور شعراء کے چہروں پر جو تمسخر تکبر اور حقارت آمیز تاثرات تھے معلوم نہیں اس کی وجہ ان کا غیر موزوں لباس تھا یا شاعری یا ان کی وہ نماز فجر والی بات کی یاد ۔ جسے اس بات کا یقین نا ہو وہ خود جا کر یوٹیوب پر اس پروگرام کی وڈیو دیکھ لے ۔

بلاشبہ نکاح کو آسان اور سادہ بنانے کی ضرورت ہے مگر اتنی ہی آسانی سے ہو جانے والی طلاق کی روک تھام بھی ضروری ہے ۔ عدالت کے ذریعے ہونے والی شادیاں بھی تمام خرافات اور غیر شرعی امور سے پاک ہوتی ہیں نہ مہندی نہ مایوں نہ بارات نا ہی بھاری جہیز اور نا ہی بھرکم حق مہر ۔ اور پھر ذرا سی نا اتفاقی اور نا چاقی پر تین بول صرف کھیل بن کر رہ جاتے ہیں ۔ عام حالات میں ہونے والی شادیوں میں بھی اگر حق مہر برائے نام ہی رکھا جاتا ہے تو آپس میں نبھاؤ نہ ہونے کی صورت میں طلاق عورت کو کسی حلوے کی طرح تھالی میں رکھ کر ملتی ہے ۔آج کل سوشل میڈیا پر حق مہر میں نماز فجر والے شوشے کا خوب چرچا ہے نوجوان اپنی ہونے والی بیوی کو مہر میں ایک دمڑی بھی نہیں دینا چاہتے اور نا ہی اس سے کچھ لینا چاہتے ہیں ۔ مگر خود لڑکیاں کیا چاہتی ہیں یہ کبھی کسی نے جاننے کی کوشش کی؟

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 1127 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rana Tabassum Pasha(Daur)

Read More Articles by Rana Tabassum Pasha(Daur): 125 Articles with 802388 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ