فتنوں کے دور میں مسلمانوں کا کردار

(Abdul Bari Shafique, Mumbra)

آج کا یہ دور فتنوں ،آزمائشوں اورامتحانات کا دور ہے نیز آج ہم جس ملک ،معاشرہ وسماج میں سانس لے رہے ہیں وہ نہایت ہی ابتر اور ناگفتہ بہ ہے ۔ہمارا ملک ہندوستان ایک سیکولر وجمہوری ملک ہونے کے باوجود بھی آج اپنے بدترین دور سے گذررہاہے ،یہاں اقلیتوں کےساتھ خصوصا اور عام شہریوں کے ساتھ عموماظلم وستم کے پہاڑڈھائے جارہے ہیں ،انھیں طرح طرح سے ذہنی وجسمانی ٹارچر کیا جارہاہے اور ان کے ظلم وستم کے خلاف اٹھائی جانے والی آواز کو دبانے کے لیے قسم قسم کے حربے استعمال کئے جارہے ہیں جسے دیکھ اور سن کر انسانیت شرمسارہورہی ہے۔ لیکن یہ ظالم ہیں کہ ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتے بلکہ اپنے ظلم پر پہاڑ کی طرح جمے ہوئے ہیں جس کے خلاف ملکی وعالمی پیمانے پربھی بائیکاٹ اور احتجاج کاسلسلہ جاری ہے لیکن حکومت ہے کہ اپنے عہدہ ومنصب کا غلط استعمال کرکے اپنی بات واپس لینے کو تیار نہیں ۔

لیکن سوال یہ ہے کہ ایسے ناگفتہ بہ اور پرآشوب حالات میں اس ملک کے باشندوں خصوصا مسلمانوں کا کیاکردارہونا چاہئے ،فتنوں اور آزمائشوں کے اس دور میں اقلیتوں کو کیا کرنا چاہئے ،اپنے جان ومال ،عزت وآبرونیز ایمان وعقیدہ کی حفاظت کے لیے کون کون سے اسباب وذرائع اور تدابیر اختیارکرنی چاہئے ؟

اس سلسلے میں ایک مومن وموحد کا یہ عقیدہ ہونا چاہئےیہ فتنے قرب قیامت کی نشانیاں ہیں،کیونکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے ہمیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ قیامت کے قریب طرح طرح کے فتنے رونماہوں گے ،قتل وخونریزی ،زناکاری،قماربازی،جنگ وجدل،لڑائی جھگڑا،فتنہ وفساد، لوٹ کھسوٹ اپنے شباب پرہوگا۔علماء کے ذریعہ علم کو اٹھایالیاجائے گا چنانچہ لوگ جہلاء کواپناامام وپیشوااور سردار وحاکم بنالیں گے پس وہ ظالم وجابر اور جاہل حکمراں اپنی جہالت ،ہٹ دھرمی اورنادانی سے خود بھی گمراہ ہوں گے اور اپنے متبعین وپیروکاروں نیزمقتدیوںورعایاکو بھی گمراہ کریں گے ۔عدل و انصاف کا جنازہ اٹھ جائےگا اوررب کی اس مقدس سرزمین پر قتل وخونریزی کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوجائےگا ۔ایسے پرفتن دور میں مسلمانوں کواپنا دین وایمان بچانامشکل ہوجائے گا ،لوگ دنیا کی حقیر دولت کے عوض اپنا ایمان وعقیدہ بیچ ڈالیں گے ۔وہ فتنےاتنےخطرناک ہوں گے کہ تاریک رات کے ٹکڑوں کی طرح آئیں گے جن میں کچھ دکھائی نہیں دےگا، اس وقت انسان کی بصیرت وبصارت چھن جائے گی ،غرض وہ فتنے اتنے شدید ہوں گے کہ ایک انسان صبح کے وقت مومن ہوگا تو شام کو کافر ہوجائے گا اور اگر شام کے وقت مومن ہوگا تو صبح تک کافر ہوجائے گا اور دنیا کے معمولی چیزکے بدلے اپنے ایمان کو بیچ دے گا۔جیساکہ اللہ کے حبیب ﷺ کا فرمان ہے کہ : ’’ بَادِرُوا بِالأَعْمَالِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِى كَافِرًا أَوْ يُمْسِى مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا يَبِيعُ دِينَهُ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا‘‘۔(مسلم :۱۱۸)

لہذا اس سے پہلے کہ ایسے خطرناک فتنے ظاہر ہوں ہمیں اس دارفانی کے اندرکثرت سے اعمال صالحہ کرلینا چاہئے ،حقوق اللہ کی ادائیگی -پنچوقتہ نمازوں کےاہتمام کے ساتھ کثرت سے نوافل ،ذکر واذکار،تسبیح وتہلیل ،صدقات وخیرات کے علاوہ حقوق العباد کی بھی ادائیگی کرلینی چاہئے ۔رب کی بارگاہ میں حاضرہوکر خلوص وللہیت کے ساتھ اس سے اپنےگناہوں کی معافی مانگ لینی چاہئے کہ وہی اللہ ہماری دعائوں کو سننے اورقبول کرنے والا ہے ،وہی ہمیں ان فتنوں ، آزمائشوں، پریشانیوں اور مصیبتوںسے بچانے ونجات دلانے ،ہمارے عظمت رفتہ کو بحال کرنے اور اچھے دن لانے والاہے۔

لیکن بسااوقات یہ دنیا کہ چھوٹی بڑی پریشانیاں ومصیبتیں ہمارے لیے باعث امتحان بھی ہوتی ہیں جن کے ذریعہ اللہ اپنے نیک وصالح اور فاسق وفاجر بندوں کے درمیان تمیز کرتاہے، ان کےایمان وکفرنیز اعمال حسنہ وافعال سیئہ کا امتحان لیتاہے ۔جیساکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :﴿ وَنَبْلُوكُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً وَإِلَيْنَا تُرْجَعُونَ﴾(انبیاء:۳۵)ترجمہ : ہم بطریق امتحان تم میں سے ہر ایک کو برائی وبھلائی میں مبتلاء کرتے ہیں اور تم سب ہماری طرف لوٹائے جائوگے ‘‘۔اوردوسری جگہ ارشادفرماتاہےکہ:﴿وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوفْ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الأَمَوَالِ وَالأنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ (155) الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُواْ إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعونَ﴾ (بقرۃ:۱۵۵؍۱۵۶) ترجمہ : اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کریں گے ،دشمن کے ڈر سے،بھوک پیاس سے ،مال وجان اور پھلوں کی کمی سی اور ان صبرکرنے والوں کو خوشخبری دے دیجئے ،جنہیں جب کوئی مصیبت آتی ہے توکہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم تو خود اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔

اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے مفسر قرآن علامہ حافظ صلاح الدین یوسف ؍حفظہ اللہ رقمطراز ہیں کہ :’’ کبھی مصائب ورنج وغم سے دوچارکرکے اور کبھی دنیا کے وسائل فراواں سے بہرور کرکے ،کبھی صحت وفراخی کے ذریعے سے ،کبھی تنگی وبیماری کے ذریعے سے ،کبھی تونگری دیکر اور کبھی فقروفاقہ میں مبتلاء کرکے ہم آزماتے ہیں،تاکہ ہم دیکھیں کہ شکر گزاری کون کرتاہے اور ناشکری کون ؟ صبر کون کرتاہے اور ناصبری کون ؟ شکر اور صبر ،یہ رضائے الہٰی کا اور کفران نعمت اور ناصبری غضب الہٰی کا موجب ہے ۔ اور وہاں تمہارےعملوں کے مطابق اچھی یابری جزادیں گے ۔اول الذکر کے لیے بھلائی اور دوسروں کے لیے برائی ‘‘۔اس طرح اہل ایمان کے ایمان وعقیدہ کا امتحان لینا رب العالمین کا پرانا طریقہ رہاہے ،اس نے ہم سے سابقہ امتوں کو طرح طرح سے آزمایا اور ان کے ایمان کو ٹٹولا وپرکھا کہ کون اپنے ایمان میں سچاہے اور کون جھوٹا۔جیساکہ اس کا ارشاد عالی ہے:﴿أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ ، وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِينَ﴾ یعنی کیالوگوں نے یہ گمان کررکھاہے کہ ان کے صرف اس دعوے پر کہ ہم ایمان لائے ہیں ہم انھیں بغیر آزمائے ہوئے ہی چھوڑ دیں گے ۔ان اگلوں کو بھی ہم نے خوب جانچایقینا اللہ تعالیٰ انھیں بھی جان لے گا جو سچ کہتے ہیں اور انھیں بھی معلوم کرلے گا جو جھوٹے ہیں۔(عنکبوت: ۳-۲)اوراس امتحان کا مقصدواضح کرتے ہوئے فرمایاکہ:﴿ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا ﴾تاکہ وہ دیکھے کہ تم میں سے کون اپنے ایمان وعقیدہ پر قائم رہ کر کثرت سے اعمال حسنہ کرتے ہیں اور کون لوگ ان چھوٹی بڑی دیناوی پریشانیوں ومصیبتوں پراپنے ایمان کا سودا کربیٹھتے اور اللہ کے ذکر واذکار سے غافل ہوجاتے ہیں ،اپنے مالک حقیقی کو بھول کر غیراللہ کی استھانوں پر جاکر نذر ونیاز اور جبین نیاز خم کرنے لگتے ہیں ،دنیاوی مال ومنال کے چکر ولالچ میں پھنس کر دین اسلام سے پھر (مرتد )جاتے ہیں ۔

لیکن افسوس کہ آج کے اس ناگفتہ بہ حالات کے بالمقابل جب ہم انبیائے کرام علیھم السلام نیزعہدرسالت مآب ﷺ ،صحابہ کرام اور سابقین اولین کی سیرت وسوانح کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتاہے کہ انبیائے کرام اور ان کے متبعین کو کس طرح کی اذیتیں دی جاتی تھیں ،ان کے ایمان کو خریدنےکے لیے انھیں خندقوں کے حوالے کردیاجاتاتھا،انھیں دین سے پھیرنے کے لیے نارنمرودمیں ڈالاگیا،عرب کی تپتی ہوئی ریت اور چلچاتی ہوئی دھوپ میں ننگے بدن لٹایاگیا،ان پرکوڑوں اور پتھروں کی بارش کی گئی ،گرم لوہوں سے ان کے جسموں کا استقبال کیاگیا ،آروں سے ان کے جسموں کو چیر دیا گیا ،مکہ میں آپ ﷺ اور آپ کے اصحاب کا جینا دوبھر کردیاگیا ،خانہ کعبہ میں نمازپڑھنا اور اس کا طواف کرنا آپ ﷺ کے لیے مشکل وممنوع ہوگیا ، ایک اللہ کی عبادت کے پاداش میں شعب ابی طالب میں محصور کردیاگیا ،جہاں درخت کے پتوں اور سوکھے چمڑوں کو بھگا کر کھانا پڑا ، اسی طرح طائف کی گلیوں میں نہایت ہی بے دردی کے ساتھ زدوکوب کیا گیا ، ہجرت مدینہ کے وقت جسم اطہر کو زندہ یامردہ لانے کے عوض سوسرخ اونٹوں کا قیمتی انعام رکھاگیا ۔ اسی طرح مدینہ منورہ میں یہودیوں نے آپ ﷺ کو جان سے مارنے اور زہر کھلانے کی ناپاک سعی کی ،غزوہ بدرواحد اور دیگر غزوات میں کفارومشرکین نے اسلام کی شمع کو ہمیشہ ہمیش کے لیے غُل کرنے اور آپ کے اصحاب کی مقدس جماعت کو اس صفحہ ہستی سے مٹادینے کی انتھک اور لاکھ کوششیں کیں ۔لیکن وہ ہمارے اسلاف تھے کہ اپنے مذہب اور دین پر ثابت قدم رہے ،لاکھ پریشانیوں اور مصیبتوں کے باوجود ان کے پائے ثبات میں ذرہ برابر بھی لغزش نہیں آئی بلکہ ان فتنوں اور آزمائشوں کے دور میں ان کا ایمان اور مضبوط ہوگیا اور آخری دم تک اپنے ایمان وعقیدہ پر پہاڑکی کی طرح ڈٹے وجمے رہے ۔ چنانچہ ہم بھی انھیں کے متبعین وپیروکاراور انہی کے نقش قدم پر چلنے والے ہیں انھیں کے دین ومذہب کو اختیار کرنے اور ماننےوالے ہیں لہذا ہمیں بھی آج ان دنیاوی مصائب وآلام پر صبراوراپنےرب پر توکل وبھروسہ کرتے ہوئےاسی سے مددطلب کرنی چاہئے کہ وہ مجیب الدعوات اورہماری پریشانیوں کو دور کرنے والا ہے ۔چنانچہ ایک مومن کاشیوہ وطریقہ یہی ہوتاہے کہ جب بھی اسے کوئی ذہنی وجسمانی مصیبت وپریشانی لاحق ہوتی ہے تو صبر کا دامن تھامے ہوئےاپنےرب پر توکل وبھروسہ کرتے ہوئے ﴿إنَّا لِلّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعونَ﴾ پڑھتاہے اور اس کا ثواب اپنے مالک حقیقی سے حاصل کرتاہے ،اپنے مصائب وحاجات کو اس کے سامنے پیش کرکے اس سے کثرت سے دعائیں نیز اپنے گناہوں پر نادم وشرمندہ ہوکر اس سے مزید قربت اختیار کرتاہے ،صوم و صلوٰۃ ،نوافل وتہجد نیز صدقات و خیرات کرکے اس کوراضی وخوش کرنے کا وسیلہ تلاش کرتاہے ۔اسلام وایمان کے تمام بنیادی ارکان پر ایمان لاتے ہوئے کتاب وسنت کے فرمودات پر اخلاص وللہیت کے ساتھ عمل پیراہوتاہے ۔رات کی تاریکی وتنہائی نیز دن کے اجالے میں اپنے مالک حقیقی کے سامنے گریہ و زاری ،توبہ و استغفار کرتے ہوئے اس کا خوف اپنے دلوں کے اندر پیداکرتاہے اور اسی میں ایک مومن کی دنیوی واخروی کامیابی وکامرانی نیز عزت وآبرو، مال ومنال اور ایمان وعقیدہ کی حفاظت کا راز مضمرہے ۔

دعاہے کہ اللہ فتنوں اور آزمائشوں کے اس دور میں ہمارا حامی وناصرہو۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 209 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abdul Bari Shafique

Read More Articles by Abdul Bari Shafique: 114 Articles with 55605 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: