غربت کی تیز آگ، دنیا ئے دولت کو راکھ کر دے گی

(Muhammad Idress Jami, )

دنیا میں جو بھوک وافلاس ہے وہ کسی طور پر وسائل کی کمی کا شاخسانہ نہیں، بلکہ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کا ہے۔ غریبی دولت کی غیر منصفانہ تقسیم اور ذرائع پیداوار پر بالادست طبقے کے قبضے کا نتیجہ ہے۔ معاشرے میں وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہی طبقاتی عدم مساوات اور باہمی نفرت وعداوت کو جنم دیتی ہے۔ ذر اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم سے امیر امیر ترین اور غریب غریب تر ہوتاگیاہے ۔ اس تناظر میں مندرجہ ذیل رپورٹیں اسی غیر منصفانہ تقسیم کی تشریح کرتی ہیں۔

عالمی ادارہ آکسفیم کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا کے محض ایک فیصد امیر ترین افراد کے پاس 98فیصد افراد سے دگنی دولت موجود ہے جس کہ محض 22امیر ترین مرد حضرات براعظم افریقہ کی مجموعی خواتین سے زیادہ امیر ہیں۔برطانیہ کے مالیاتی واقتصادی ادارے ـ’’آکسفیم‘‘ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق سال 2019ء میں دنیا بھر میں ارب پتی افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور گزشتہ ایک دہائی میں ارب پتی لوگوں کی تعداد میں دگنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ 2019ء کے اختتام تک دنیا بھر میں 2150افراد ارب پتی اور کھرب پتی تھے جن کی مجموعی دولت دنیا کے 6ارب 90کروڑ افراد سے دگنی تھی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ارب پتی افراد سمیت مجموعی طور پر دنیا کے ایک فیصد امیر ہی دنیا کی زیادہ تر دولت پر قابض ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں کاروبار، دولت اور کمائی کا غیر منصفانہ نظام رائج ہے اور دولت و کمائی کی صنفی بنیادوں پر بہت زیادہ تفریق پائی جاتی ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق دنیا بھر میں محض 18فیصد خواتین حکومتی وزارتوں کے قلمدان سنبھالتی ہیں جبکہ صرف 24فیصد خواتین ہی پارلیمنٹ کا حصہ ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جن ممالک نے رپورٹ کی تیاری کے وقت ادارے سے ڈیٹا شئیر کیان ممالک میں صرف 34فیصد خواتین ہی منیجرز کے عہدوں پر تعینات ہیں تاہم رپورٹ میں معلومات فراہم کرنے والے ممالک کا تذکرہ نہیں کیاگیا۔ رپورٹ کے مطابق براعظم افریقہ میں خواتین کی تعداد تین کروڑ 62لاکھ ہے اور ان کے پاس اتنی دولت بھی نہیں یہ وہ تمام مل کر بھی دنیا کے امیر ترین بائیس مردوں کا مقابلہ کر سکیں۔ رپورٹ میں دولت و کمائی میں صنفی تفریق کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دنیا بھر کی خواتین یومیہ 12ارب گھنٹے تک مفت کام کرتی ہیں اور کئی دیہی علاقوں کی خواتین مسلسل 14گھنٹے تک اجرت کے بغیر کام کرتی رہتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں15سال سے لے کر اس سے زائدعمر کی خواتین کی جانب سے معاوضے اور اجرت کے بغیر کام کرنے سے سالانہ 10اعشاریہ 8ٹریلین یعنی تقریباً110 کھرب ڈالرز جتنی رقم سے خواتین محروم ہورہی ہیں۔ عالمی ادارہ آکسفیم کی رپورٹ کہتی ہے کہ خواتین کی جانب سے کام کا معاوضہ نہ ملنے والی رقم سالانہ ٹیکنالوجی کے اداروں سے ہونے والی کمائی سے 5گنازیادہ ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق دنیا بھر کے مرد مجموعی طور پر خواتین سے 50 فیصد زیادہ دولت رکھتے ہیں اور عالمی سطح پر کام کرنے والی 42 فیصد خواتین اجرت کے بغیر ہی کام کرتی ہیں جبکہ معاوضے کے بغیر کام کرنے والے مرد حضرات کی تعداد محض 6فیصدہے۔رپورٹ میں گھریلو ملازمین کے حوالے سے بھی اعداد وشمار بتائے گئے ہیں جن کے مطابق دنیا بھرمیں تقریباً 7 کروڑگھریلوملازمین ہیں جن میں سے 80 فیصد خواتین ہیں اور گھریلو ملازمین میں سے 50فیصد ملازم اپنی کم سے کم تنخواہ جب کہ 50 فیصد ملازمین قانونی، انسانی حقوق و طبی سہولیات سے محروم ہیں۔ اس رپورٹ میں ایک فیصد امیر افراد کے پاس 98 فیصد افراد سے دگنی دولت موجود ہے۔ اس کے برعکس دنیا میں بے روزگاری پر اقوام متحدہ کی رپورٹ پڑھیں۔

اقوام متحدہ نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ دنیا بھر میں تقریباً 50 کروڑ افراد بے روزگار ہیں یا انہیں جزوی بے روزگاری کا سامنا ہے جس کے باعث معاشرتی ، معاشی بدامنی میں اضافہ ہو رہاہے۔ رپورٹ کے م طابق سال2009سے 2019 تک دنیا بھر میں ہڑتالوں اور احتجاجی تحریکوں کی تعداد میں اضافہ نوٹ کیا گیا جن کی وجوہات میں یہ امر بھی شال تھا کہ زیادہ تر بے روزگار افراد ان تحریکوں اور ہڑتالوں کا حصہ بنے۔ فرانس کے خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ نے اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیم انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ گزشتہ سال بے روزگاری کی شرح پانچ اعشاریہ چار فیصد تھی جس میں تبدیلی کی توقع نہیں کی جا رہی تھی لیکن رواں سال کے اختتام تک بے روزگاری کی مجموعی تعداد میں اضافے کا امکان ہے۔ رپورٹ میں معاشی سست روی اور آبادی میں اضافے کی اہم وجہ قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ 15 سے 24 سال کی عمر کے 26 کروڑ 70 لاکھ نوجوان روزگار تعلیم یا تربیت حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔ آئی ایل او نے اپنی سالانہ ورلڈ ایمپلائمنٹ اینڈ سوشل آؤٹ لک رپورٹ میں کہاہے کہ سال 2019 میں رجسٹرڈ بے روزگار افراد کی تعداد 18 کروڑ 80 لاکھ تھی جو رواں سال کے اختتام تک 19 کروڑ 50 لاکھ ہونے کی توقع ہے۔ آئی ایل او کے سربراہ گائے رئڈر کے مطابق عالمی سطح پر روزگار کی شرح میں گزشتہ دس سالوں کے دوران اضافہ نہیں ہوا جس سے لاکھوں محنت کش افراد کے لئے بہتر زندگی گزارنا مشکل تر ہو گیا ہے۔ سربراہ کا کہنا ہے کہ دنیا میں بڑھتا ہوا عدم مساوات لوگوں کو بہتر روزگار اور بہتر مستقبل کے حصول سے روک رہا ہے۔ یہ صورتحال اندازے سے بھی کہیں زیادہ خراب ہے۔ ان کے بقول مناسب روزگارتک رسائی نہ ہونا پوری دنیا میں بڑھتی ہوئی احتجاجی تحریکوں اور بدامنی کو ہوا دے رہاہے۔ اس رپورٹ کا ماحصل یہ ہے کہ کرہ ارض پر پچاس کروڑ سے زائد افراد بے روزگار ہیں دوسری طرف بھوک پر بھی ایک رپورٹ پڑھیں۔

بھوک کے تازہ ترین عالمی انڈیکس کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں82 کروڑ سے زائد انسان بھوک اور کم خوراکی کا شکار ہیں اس انڈکس کے مطابق اس وقت کرہ ارض پر 821 ملین انسانوں کو زندہ رہنے کے لئے یا تو کوئی خوراک دستیاب نہیں یا پھر وہ تشویش ناک حد تک کم خوراکی کا شکار ہیں۔ ان میں وہ 124ملین یا قریب ساڑھے بارہ کروڑ انسان بھی شامل ہیں، جن کا بھوک کا مسئلہ انتہائی شدید ہو کر فاقہ کشی بن چکا ہے۔ دنیا کے 191ممالک ایسے ہیں جہاں بھوک مری کے مسائل ہیں۔ دنیا میں ہر 9 میں سے ایک انسان بھوکا ہے۔

دنیا کے ممتاز ماہر طبقات اسٹیفن ہاکنگ نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ دولت کی غیر منصفانہ تقسیم اس وقت سب سے بڑا چیلنج ہے اور انسانی لالچ پوری دنیا کو تباہ کردے گی۔ کائنات کی گتھیاں سلجھانے والے کیمبرج یونیورسٹی میں ریاضی کے پرفیسر رہے ۔ اسٹیفن نے دنیا کو خبردارکرتے ہوئے کہا تھا کہ انفرادی اور ملکی سطح پر دولت کی غیر ہموار تقسیم ہمارے عہد کا سب سے خوفناک مسئلہ ہے، دولت سے پیدا ہونے والی اجنبیت نے ہی برطانیہ کو یورپی یونین سے باہر کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر روز دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح امراض ، غذائی قلت اور بڑھتی ہوئی آبادی ایک بڑا چیلنج ہے عین اسی طرح دولت کا چند ہاتھوں میں اکٹھا ہونا بھی ایک بہت بڑا چیلنج ہے کیونکہ دنیا دولت کو ہموار انداز میں تقسیم کرنے میں ناکام ہوچکی ہے انہوں نے کہا کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو میں انسان کے طویل مستقبل کے بارے میں کچھ زیادہ پر امید نہیں ۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ آلودگی، لالچ ، احمقانہ رویے اور آبادی کی بہتات اس سیارے کے لئے بڑے خطرات ہیں تو کہا جاسکتا ہے کہ غربت کی تیز آگ دنیائے دولت کو راکھ کر سکتی ہے۔۔۔۔۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 244 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Idress Jami

Read More Articles by Muhammad Idress Jami: 23 Articles with 4793 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: