شجر کب سائے میں

(گل زیب انجم, کھوئی رٹہ سیری)
پروفیسر خلیل انجم

بیٹھنے والوں سے شجرہ پوچھتے ہیں بلکہ ان کا شجرہ انہی کے اوصاف یعنی ٹھنڈی گھنی چھاؤں اور یکسانیت سے ظاہر ہوتا ہے. انہیں کچھ لکھنے یا کہنے کی ضرورت نہیں ہوتی جس طرح ابن آدم اپنا حسب نسب لکھ کر پیش کرتے ہیں . اہل علم پھر بھی لکھے گئے شجرہ کو کب مانتے ہیں بلکہ وہ یوں کہتے ہیں کہ انسان کا اخلاق ہی درحقیقت شجرہ ہوتا ہے بلکہ زبان سے ادا کیے ہوئے چند الفاظ ہی نسلوں کا پتہ بتا دیتے ہیں. سایہ انسانوں کا بھی ہوتا ہے لیکن اس میں اشجار والی یکسانیت نہیں ہوتی کیونکہ حضرت انسان میں کسوٹی کی عادت ہے اور شجر بے چارے اس عادت سے پاک ہوتے ہیں، بہت ہی کم ایسے انسان ہیں جن کو یکسانیت میسر ہوتی ہے اور جنھیں یہ یکسانیت حاصل ہو دراصل وہی انسان ہوتے ہیں. محبت اور درخت کی نہ صرف "ت" ہی ملتی ہے بلکہ یہ دونوں اپنے پاس آنے والوں کو بلا امتیاز اپنی رفاقت عطا کرتے ہیں. درخت جس طرح کبھی یہ نہیں َسوچتے کے سائے میں بیٹھنے والا اچھا ہے یا برا اسی طرح محبت ذات پات رنگ و نسل کے امتیاز سے مبرا ہوتی ہے....! ہمیں سیری اسکول سے فارغ التحصیل ہوئے کچھ ہی سال ہوئے تھے کہ ایک نوجوان ماسٹر بہت ہی مشہور ہوئے. مشہوری بھی کس وجہ سے تھی کہ ماسٹر ہور بڈا سوہنا لیخنے ہن. یہ خوبی بیان کرنے والوں سے جان چھوٹتی تو دوسرے شروع ہو جاتے ماسٹر ہور بہوں چنگے ہن. یہ وہ دور تھا جس میں چنگا اس کو کہا جاتا تھا جو غلطی پر بھی سرزنش نہ کرے ان ماسٹر صاحب کا شمار بھی انہی چنگوں میں تھا. اس دور میں مولابخش ( اساتذہ کرام کی چھڑی) کے بڑے چرچے ہوا کرتے تھے جس کو سبق نہ آتا اس کی مرمت مولا بخش سے کی جاتی ویسے بھی اساتذہ اکرام ہاتھ میں مولا بخش رکھ کر کلاس میں گھومتے ہوئے اتنا ہی فخر محسوس کیا کرتے تھے جتنا ملٹری آفیسرز وزٹ کے دوران کرتے ہیں. یہ ماسٹر جن کو ماسٹر خلیل ہور کہا جاتا تھا اس دور کے تقریباً پہلے ماسٹر تھے جو مولا بخش کے بجائے مولا کی مخلوق سے محبت کرتے تھے. اس محبت کے دھیرے دھیرے چرچے ہونے لگے تو یہ ماسٹر جی اسکول کے بچوں یا محبت کی وساطت سے بڑوں تک پہنچ گئے اب ہونے یوں لگا کے وہ لوگ بھی خلیل انجم کو جاننے لگے جن کو خود خلیل انجم نہیں جانتے تھے. اساتذہ اکرام کو یہ اعزاز قدرتی طور پر حاصل ہوتا ہے کہ ان کا نام مع تخلص یا عرف کے لیا جاتا ہے. یہی بات تھی کہ انجم مع میرے تو بہت ہوئے لیکن وہ لکھے یا پکارے کم ہی گے جب کہ خلیل صاحب کے ساتھ انجم یوں لگا جسے بلائے بغیر نام مکمل ہی نہ ہوا. پھر ان کا انجم جس طرح سے چمکا اس کی بھی مثال نہیں ملتی. آپ ماسٹر سے پروفیسر ہو کر کالج چلے گئے تو چمک کچھ اور ہی زیادہ ہو گئی. یہ علاقے بھر کے پہلے ینگ، پکلین شیو اور ویل سوٹڈ بوٹڈ پروفیسر تھے جو ہر دینی محفل میں بھی مدعو کیے جاتے تھے. گرے کلر کے تھری پیس میں جب محفل میں پہنچتے تو تقریباً سبھی نظروں کا محور آپ ہی ہوتے. محفل کا ادب ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کوٹ کی جیب سے سفید ٹوپی نکالتے اور سر پر رکھ لیتے کبھی ٹوپی نہ ہوتی تو رومال سر پر باندھ لیتے. جب آپ کو محافل میں صدرات کی مسند پر بیٹھنا پڑھا تب آپ نے داڑھی مبارکہ کے کچھ بال چہرے پر رکھ لیے کچھ سے یہاں مراد کھودی ( ایسے بال جو کہیں کہیں نکلے ہوں) داڑھی کی سی ہے. شاید کافی عرصہ تک کلین شیو رہنے کی وجہ بھی یہی ہو. البتہ راقم کی آنکھوں نے اپنے علاقے میں کوئی ایسی مذہبی کانفرنس نہیں دیکھی جس میں خلیل انجم مدعو نہ ہوئے ہوں. سبجیکٹ ایکسپرٹ کے علاوہ آپ نے کچھ انتظامی امور کے کورس بھی کر رکھے تھے اس لیے جب ہائی اسکولز میں ہیڈ ماسٹر کی ضرورت پڑی تو آپ کو محکمہ کی طرف سے ہیڈ ماسٹر بنا دیا گیا. بہت عرصہ تک ہیڈ ماسٹر رہنے کے بعد ہائیر سیکنڈری میں آپ پرنسپل تعینات ہو گئے. آپ نے مختلف نصابی و غیر نصابی ورکشاپس میں حصہ لیا کہیں بطور انسٹرکٹر اور کہیں کنڈیٹ لیکن جیسے بھی شامل ہوئے اپنی قابلیت کا لوہا منوایا. تعلیمی قابلیت کے ساتھ ساتھ ہر ادارے میں آپ کے اخلاق کے چرچے رہے. کہیں بھی کورس یا ورکشاپ ہوئی امتیازی سند تو آپ کی ہوتی ہی رہی لیکن آپ ہمیشہ کی طرح بہت سارے دلوں میں اپنی یادوں کی کسک بھی چھوڑ آتے رہے. آپ کو خدا تعالیٰ نے جہاں بہت سی خوبیوں سے نوازا وہی ایک خوبی آپ میں دوسروں کی حوصلہ افزائی بھی کرنا ہے. آپ کجلانی سیکنڈری اسکول میں بطور پرنسپل خدمات سرانجام دے رہے تھے میرے فیس بک فرینڈ ہونے کی وجہ سے اکثر میری کہانیوں پر کمنٹس کر دیا کرتے تھے لیکن کمنٹس بھی اس طرح کے جنھوں نے مجھے بار بار کچھ لکھنے کی جلا بخشی. بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو کسی کی کسی خوبی کو سراہتے ہیں خلیل انجم صاحب میں یہ وصف آتم درجہ موجود ہے. وہ اپنے شاگردوں اپنے ماتحت یا کسی بھی فیلڈ کے نمایاں افراد کی کارکردگی کا تذکرہ بڑے فخر سے کرتے ہیں. بلکہ آپ کی جو خوبی زد عام ہوئی وہ یہ کہ آپ نے کبھی کسی کو شارٹ کٹ نام سے نہیں بلایا بلکہ جب بھی بلاتے اس کے رجسٹرڈ نام سے بلاتے. طالب علموں کو پورے نام سے بلانے کی شروعات محکمہ تعلیم میں تقریباً انہی کے دور سے ہوئی تھی. ہمارے دور کے اساتذہ ہمارے نام اپنی منشاء کے مطابق رکھا کرتے تھے. ہمارا ایک کلاس فیلو ہوا کرتا تھا جس کو یہ عادت تھی کہ بات کرتے ہوئے ایک آنکھ بند یا چھوٹی کر لیا کرتا تھا ماسٹر جی نے اس کے نام کے ساتھ نوٹہی لگا لیا تھا اب حاضری لگاتے ہوئے بھی اسے نوٹہی کہا کرتے تھے. دوسرا جاوید نامی تھا جو بات کرنے سے پہلے ہونٹوں کو یوں لٹکایا کرتا تھا جیسے مرچی لگی ہوئی ہو اسے فارم ٹیچر نے ٹھوٹھی کہنا شروع کر دیا ہمارا تیسرا کلاس فیلو کچھ ہکلا ہکلا کر بولتا تھا اسے تھتہا کہا جاتا تھا، تھتہے سے ایک واقعہ یاد آیا کہ ہم نئے نئے چھٹی کلاس میں لگے تھے اس وقت انگریزی بھی چھٹی سے شروع ہوا کرتی ہمیں انگریزی ماسٹر زبیر چودھری پڑھایا کرتے تھے انگریزی کی نئی نئی شروعات تھی اس لیے ہمیں نیم آف ڈیز اور ون ٹو تھری پڑھایا جاتا تھا تقریباً دو ہفتے گزر گئے ہمیں سنڈے منڈے یاد نہیں ہو پا رہے تھے. زبیر صاحب جو ینگ اور جوشیلے سے ٹیچر تھے ہمیں ہر طریقہ تدریس سے پڑھا پڑھا کر تھک گئے تھے ایک دن آتے ہی کہنے لگے جنھیں پچاس تک گنتی اور دنوں کے نام یاد نہیں وہ کھڑے ہو جائیں ایک دو لڑکوں کو چھوڑ کر ساری کلاس ہی کھڑی ہو گئی تو زبیر صاحب نے پہلے تو زبان باہر نکال کر تاسف کا اظہار کیا پھر کہنے لگے کوئی بات نہیں سب بیٹھ جاؤ ہم بیٹھ گئے تو کہنے لگے آخر وجہ کیا ہے کہ تم لوگ یاد نہیں کر پا رہے ہم سب نے ایک ایک عذر پیش کیا زیادہ تر یہی تھا کہ انگریزی ہے جس کو سیکھنے میں تھوڑی مشکل ہے. ماسٹر جی نے کہا چلو مان لیتے ہیں لیکن میں جو دو ہفتے سے پڑھا رہا ہوں اس کا مقصد آپ کو سیکھلانا ہے پھر تھوڑی دیر خاموش رہ کر موضوع بدل دیا کہنے لگے انگریزی بڑی دلچسپ زبان ہے ہم جو بات اردو میں بہت لمبی کرتے ہیں انگریزی میں مختصر ہو جاتی ہے جیسے ہم کسی کو اردو میں کہتے ہیں میں تجھ سے پیار کرتا ہوں تو یہ انگریزی میں صرف تین الفاظ میں کہہ سکتے ہیں، اتنا کہہ کر کلاس پر نگاہ پھیرتے ہوئے پوچھنے لگے کسی کو پتہ ہے وہ تین الفاظ کیا ہیں. زاھد تھتہے نے ہاتھ کھڑا کر کے ہکلاتے ہوئے کہا سا__سا ____سر مم ___، میں دساں، ماسٹر جی نے کہا ہاں تُو دس. اس نے کہا آ آ __ آئی لو یو. ابھی اس نے اتنا کہا ہی تھا کہ ماسٹر جی نے ایک زناٹے دار تھپڑ رسید کرتے ہوئے کہا میں قسم کری تے آخناں آں کے اے لفظ اک دیہاڑے وی نہی پڑھایا فیر اے کسطرح یاد ہوئی گیا. بس ہمارے دور میں ایسے ہی نام ہوتے تھے گورے چٹے کو رتا موٹے کو چہڑیا حد تھی اس ستم ظریفی یا ظرافت آمیزی کی کے ایک کمزور سا لڑکا تھا جس کو پونڈی کہا کرتے تھے. ہم بھی کب کم تھے ہم نے بھی اساتذہ کے نام ان کی عادات کے مطابق رکھ لیے تھے جو نسوار رکھا کرتے تھے ان کو ماسٹر نسواری ہور اور جو کاندھے وغیرہ پر کپڑا رکھتے ان کو ماسٹر پرنہ ہور کہا کرتے تھے. لیکن ان سب خرافات کا سدباب خلیل انجم جیسے اساتذہ نے اپنے اعلی اخلاق اور عملی نمونے سے کیا بلکہ یوں دیکھنے میں آیا جس کو گھر میں جاجو کہا جاتا تھا وہ اسکول میں اعجاز اور پیجی وغیرہ کو پرویز احمد کہا جانے لگا. خلیل انجم صاحب سے فیس بُک میسنجر پر تبادلہ خیال ہوتا رہتا تھا اور اکثر یہ وقت صبح صادق کا ہوتا تھا ہمارے تبادلہ خیالات کا تانتا تب ٹوٹتا جب آپ کہتے اچھا جی میں نماز ادا کر لوں. ہم ایک دوسرے کو اللہ حافظ کہتے اور پھر چوبیس گھنٹے کے لئے پکے اللہ حافظ ہو جاتے. میں نے اکثر سوچا کہ یہ صاحب بھی کتنے عظیم ہیں اٹھارہ انیس گریڈ کے آفیسر ہیں شبانہ روز مصروف رہنے والی ایسی شخصیت جس کی روز کسی نہ کسی سیمنار میں شمولیت یقینی ہوتی ہے پھر رات کے اس پہر کیوں جاگ رہے ہوتے ہیں کئی بار پوچھنے کا سوچا لیکن اس سوچ کے تحت نہ پوچھ پایا کہ شاید یہ وہ راز ہو جسے صیغہ راز رکھنا ہی مطلوب ہو، پھر خود ہی سوچتا یہ وقت صلوۃ تہجد کا ہوتا ہے شاید تہجد کی فراغت کے بعد ______ یہ سوچ آتے ہی آپ کی صورت آنکھوں کے سامنے آ جاتی مکتب فکر کی محافل میں براجمان ہونا شائستگی سے بھرپور گفتار، لب و لہجہ میں بلاکا سکوت سب کچھ ہی تو سامنے آ جاتا. آخر سوچ کے گھڑیال کی سوئیاں یہاں آ کر رک جاتی کہ سارا کمال ہی صبح صادق کی ان ساعتوں کا ہے. آپ چونکہ ہر انجمن کے درخشندہ انجم ہیں اس لیے زمانہ آپ کو جانتا ہے ویسے بھی اس مسند پر فائز ہیں جہاں سال میں کئی لوگ آتے اور جاتے ہیں، کیا آپ بھی کسی کو یاد رکھ پاتے ہوں گے، یعنی آپ مانند نخل بند ہیں جسے ہر برگ گل جانے لیکن ہر برگ گل کو نخل بند جانے ضروری نہیں, یہ سوچتے ہی ذہن میں آیا شاید مجھے صرف میرے قلمی نام سے جانتے ہوں گے، اگر کئی سامنا ہو جائے تو کب پہچان پائیں گے. لیکن اس دن میری حیرت کی انتہا نہ رہی جس دن انہوں نے ایک نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد مجھے آواز دے کر کہا گل زیب جی آج آپ کو ایک اور کہانی لکھنے کو مل گئی ہو گی. آپ سیری ہائیر سیکنڈری میں پرنسپل کے فرائض انجام دے رہے ہیں یہ وہی اسکول ہے جس میں آپ بھی طالب علم کی حیثیت سے رہ چکے تھے آپ نے نہ جانے دوران طالب علمی کیا کیا سوچا ہو گا لیکن آپ کی وہ ساری سوچیں آپ کی عملی کاوشوں سے سامنے آ گئی ہیں آج اگر کوئی دس گیارہ سال پہلے کا طالب علم یا استاد اس اسکول کو دیکھے تو یقیناً آپ کی کارکردگی کو سراہے بغیر نہیں رہ سکے گا. اسکول کی تعمیراتی ترقی کا زیادہ کریڈٹ ہیڈ ماسٹر محفوظ صاحب کو جاتا ہے جنھوں نے اسکول کے بناؤ سنگار میں بہت زیادہ دلچسپی لی اور بہت کم وقت میں اسکول کا حلیہ بدل دیا لیکن نظم و نسق کا سہرا خلیل انجم صاحب کے سر ہی جاتا ہے. راقم نے ایک ملاقات میں پوچھ لیا کہ کیا آپ نے کبھی سوچا تھا کہ میں کبھی بطور پرنسپل اس کرسی پر بیٹھوں گا. کہنے لگے اسکی تساں اک حادثہ سمجھو، میری منزل یہ نہ تھی لے___کن،،،،، ،، لیکن کو کچھ طول دینے کے بعد کہا شاید والد صاحب کی خواہشات کا ثمر تھا کہ میں محکمہ تعلیم میں آ گیا جبکہ میں نے کئی دوسری جگہ انٹرویو دے رکھے تھے اور حقیقت میں میری چوائس میڈیکل تھی اتنا کہہ کر ایک مسکراہٹ ہونٹوں پر لاتے ہوئے کہنے لگے...... لیکن آج میں بہت خوش ہوں کہ میں ایک معلم ہوں. آپ کی یہ مسکراہٹ متکبرانہ نہیں بلکہ تشکر آمیز تھی جس کا مطلب یہ تھا کہ اللہ نے مجھے پیشہ پیغمبری عطا فرمایا. مسکراہٹ تشکرانہ کو سمجھتے ہوئے میں نے کہا بے شک آپ پر اللہ نے انعام کیا ہے اگر آپ میڈیکل میں ہوتے تو آپ کا علم آپ تک ہی محدود رہتا جب کہ مثلِ شمع آج آپ سے ہزاروں لاکھوں قندیلیں روشن ہوئیں. پوچھا ایسا کوئی شاگرد جس سے مل کر آپ کو خوشی ہوئی ہو. کہنے لگے یوں تو سارے ہی ہیں، ہر کسی سے مل کر خوشی ہی ہوتی ہے لیکن جن باتوں سے اپنے شعبے سے پیار ہوا اور خوشی بھی ہوئی وہ دو ہیں پھر ان کی تفصیل بتاتے ہوئے کہنے لگے میں کوٹلی کالج میں تھا کہ بریگیڈ ہیڈ کوارٹر سے اسٹنو کا فون آیا جس پر اس نے بتایا کہ جی تھری صاحب بات کرنا چاہتے ہیں، میں فوج کے تقریباً سارے عہدے جانتا تھا لیکن جی تھری پہلی بار سنا تو پوچھا جی تھری کیا ہوتا ہے جی، تب اس نے کہا کیپٹن صاحب آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں، میں نے کہا کرائیں. لائن ملنے پر دوسری طرف سے مخاطب نے سر کہہ کر السلام علیکم کہا ساتھ ہی اس نے اپنا تعارف کرانا شروع کیا تو معلوم ہوا کہ میرا شاگرد ہے، تب میں نے خوش ہوتے ہوئے اسے مبارک باد دی تو اس نے کہا میری سب سے بڑی خواہش تھی کہ آپ تک رسائی پاؤں وہ پوری ہوئی تو، ساتھ ہی استدعا ہے اگر مزاج کے خلاف نہ ہو تو کل میرے ہاں آپ کی دعوت ہے. خیر دعوت میں نے رسمی حیل و حجت کے بعد قبول کر لی دوسرے دن فوجی جیپ آئی جس میں دو فوجی تھے پیغام رسان کی وساطت سے مجھے ملے اور لے کر چلے گے جب بنگلے پر پہنچے تو کیپٹن صاحب کو اپنا منتظر پایا، اس دن مجھے احساس ہوا کہ میرے شعبے کی کتنی عزت ہے، یہ کہہ کر انہوں نے کسی ٹیچر کی بات کا جواب دیا اور کچھ توقف فرمایا. میں نے سوچا شاید دوسرے شاگرد کو بھول گئے ہیں تو لب کشائی کرنے ہی والا تھا کہ آپ نے کہا ہن دوی گل دساں. کہا ارشاد ہو. کہنے لگے دو تین دن پہلے میں کسی جگہ فاتحہ خوانی کے لیے جا رہا تھا کہ راستے میں بائیک کا ٹائر پنکچر ہو گیا میرے ساتھ ایک اور بھی ساتھی تھے ہم دونوں نے بائیک آگے پیچھے سے پکڑ کر چلنا شروع کر دیا کچھ ہی قدم چلے تھے کہ دو موٹر سائیکل سواروں نے پاس آکر بریک لگائی. بریک لگاتے ہی موٹر سائیکل سے نیچے اتر آئے اور بڑے مودبانہ سے انداز میں کہنے لگے سر آپ ہمارا موٹر سائیکل لے لیں اور اپنا ہمیں دے دیں. .
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 85 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Gulzaib Anjum

Read More Articles by Gulzaib Anjum: 61 Articles with 31926 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: