بولنے والے گونگے !!(قسط 1)

(Dr Zahoor Ahmed Danish, Karachi)

اردو زبان جو ہماری پہچان بھی ہے اور باہمی رابطے کی زبان بھی ہے ۔لیکن عدم دلچسپی اور انگریزی زبان کے فروغ نے اردو کو پھلنے پھولنے سے روکنے میں کسی زہر سے کم کام نہیں کیا۔برطانیہ سے چھٹکارے کے باوجود آج بھی ہمارے ملک پر انگریز کی غلامی کی چھاپ نظر آتی ہے ۔لوگ انگریزی بولنے کو رابطے سے زیادہ فخراور عزت کا باعث سمجھتے ہیں جوکہ کسی غلامانہ فکر کی غمازی ہے ۔انگریزی کسی طورپر بھی کامیابی کی ضمانت نہیں ۔ہرملک کا جداجداتشخص اور زبان ہے اور وہ اسی کے تحت اپنی کوششوں کو ترتیب دیتاہے ۔

قارئین :بات بہت سخت ہوجائے گی۔چھوڑیں ۔زبان کا حق ادااور اس سے وفا کا کفارہ ادا کرنے کے لیے آئیے ہم اس کی باریکیوں کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں ۔

مجھے یوں لگتاہے گویا ہم بولنے والے گونگے ہیں ۔یعنی بولناکی صلاحیت ہے لیکن انگریزی کے تکلفات نے مروتا ہمیں گونگا کردیا۔کسی محفل ،پروگرام ،ایونٹ ،تہوار میں گفتگو کا غالب حصہ انگریزی نہ ہوتو ہم خود کوکوسنے لگتے ہیں ۔پھر جب ٹھیک سے انگریزی پر گرفت نہیں ہوتی تو ہم اردو میں وہ بتانے پر قدرت رکھنے کے باوجود اپنی علمیت اور قابلیت کے جوہردکھانے کے لیے انگریزی نہ آنے پر نادم و پشیمان ہوتے ہیں ۔آپ ہی بتائیں بول سکتے تھے بولے نہیں تو میں کیا کہوں ؟یہی کہوں گانہ بولنے والے گونگے !!!

دنیا میں کسی بھی بولی جانے والی زبان پر غور کریں تو اس کا کوئی نہ کوئی پس منظر کوئی نہ کوئی تاریخی پہلو ہوتاہے ۔ایسے ہی اردو کا بھی اپنا تاریخی پس منظر ہے جو ہم وقتا فوقتا آپ کو بتاتے رہیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اردو ایک وسیع زبان ہے ۔اس زبان کی تاریخ پر آپ قارئین تک دلچسپ اور مفید معلومات ہم گاہے گاہے پہنچاتے رہیں گے ۔ہم جو زبان بولتے ہیں ۔جس زبان میں خط و کتابت کرتے ہیں اس کے متعلق ہمیں معلوم بھی تو ہوناچاہیے۔آئیے چند اہم باتیں ہم جانتے ہیں ۔

زبان اردو کی ابتداء و آغاز کے بارے میں کئی مختلف و متضاد نظریات ملتے ہیں ۔لیکن ان مشہور نظریات میں ایک بات مشترک ہے کہ ان میں اردو کی ابتداءکی بنیاد برصغیر و ہند پاک میں مسلمان فاتحین کی آمد پر رکھی گئی ہے۔ اور بنیادی استدلال یہ ہے کہ اردو زبان کا آغاز مسلمان فاتحین کی ہند میں آمد اور مقامی لوگوں سے میل جول اور مقامی زبان پر اثرات و تاثر سے ہوا۔ اور ایک نئی زبان معرض وجود میں آئی جو بعد میں اردو کہلائی ۔ کچھ ماہرین لسانیات نے اردو کی ابتدا ءکا سراغ قدیم آریائو ں کے زمانے میں لگانے کی کوشش کی ہے۔ بہرحال اردو زبان کی ابتداءکے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا ذرا قدرے مشکل ہوگا ۔
محترم قارئین :کتب کے متعلق اور تاریخ پڑھنے کے بعد مختلف چیزیں پڑھنے اور سننے کو ملتی ہیں ۔کہا جاتاہے کہ طلوع اسلام سے بہت پہلے عرب ہندوستان میں مالا بار کے ساحلوں پر بغرض تجارت آتے تھے۔ تجارت کے ضمن میں ان کے تعلقات مقامی لوگوں سے یقینا ہوتے تھے روزمرہ کی گفتگو اور لین دین کے معاملات میں یقیناانہیں زبان کا مسئلہ درپیش آتا ہوگا۔ اسی میل میلاپ اور اختلاط کی بنیاد پریہ نظریہ ترتیب دیا کہ اس قدیم زمانے میں جو زبان عربوں اور دکن کے مقامی لوگوں کے مابین مشترک و سیلہ اظہار قرار پائی وہ اردو کی ابتدائی صورت ہے۔اس حوالے سے بہت سی باتیں بہت سی مفید اور دلچسپ معلومات بھی ہم پیش کرتے رہیں گے ۔

قارئین:آپ نے لفظ ’’ن ‘‘پڑھا ہوگا اس میں نقطہ ہوتا ہے ۔لیکن یادرہے نون کی دو حالتیں ہوتی ہیں ۔آپ بھی سوال کریں گے وہ کیسے تو آئیے ۔ہم آپ کو بتاتے ہیں ۔

حرف ن کی دو حالتیں ہیں۔ بعض الفاظ میں اس کی پوری آواز نکلتی ہے مثلاً کسان، دھان، وغیرہ لیکن بعض الفاظ میں اس کی آواز پوری ادا نہیں ہوتی، مثلاً دھواں، کنواں، سانپ، اینٹ وغیرہ۔ اس قسم کے نون کو "نون غنہ" کہتے ہیں۔

ہے نا پتے کی بات !!!!!ایسے ہی دلچسپ معلومات ہم تک پہنچاتے رہیں گے ۔لیکن اس کے لیے آپ ہماری تحریر !!بولنے والے گونگے ضرور پڑھتے رہنا ہے ۔

نوٹ:قارئین :ہم نے ریسرچ کے حوالے سے ایک کتاب فن تحقیق کے حوالے سے تحریر کی ہے ۔ریسرچ کے لیے ایک بہترین کتاب ہے ۔آپ ہم سے طلب کرسکتے ہیں ۔۔۔کتاب کے لیے آپ
وٹس ایپ:03112268353
ای میل :[email protected]


 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 365 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: DR ZAHOOR AHMED DANISH

Read More Articles by DR ZAHOOR AHMED DANISH: 254 Articles with 242240 views »
i am scholar.serve the humainbeing... View More

Comments

آپ کی رائے
Language: