ویلنٹائن نہیں بلیک ڈے

(Ali Jan, Lahore)

سیاست ہویاکوئی انقلاب لاناہوتونوجوانوں کو ہی ترجیح دی جاتی ہے اس کی مثال اگرپاکستان تحریک انصاف کی جنرل الیکشن میں جیت کی دی جائے توغلط نہ ہوگی اسی طرح جب کوئی غلط کام کوپرموٹ کرناہوتوپھربھی نوجوانوں کو ہی ٹارگٹ کیاجاتاہے جیسے کہ سوشل میڈیاپوری دنیامیں نوجوانواں کی ۹۰فیصدتعدادسوشل میڈیااستعمال نہیں بلکہ اسے نشہ بناچکی ہے نشہ جیسے آہستہ آہستہ انسان کوختم کرتاہے اسی طرح سوشل میڈیا بھی نوجوانون نسل کوآہستہ آہستہ ختم کررہاہے عنوان میں میں نےلکھاکہ ویلنٹائن نہیں بلیک ڈے کیونکہ کچھ بھی ہوکالک کسی کوپسندنہیں کوئی لڑکی گھرچھوڑکے جائے توماں باپ کہتاہے کہ ہمارے منہ پرکالک لگاکے چل دی کچھ وقت سے اسلامی ممالک کوبھی ویلنٹائن ڈے منانے پرمجبورکیاجارہاہے ویلنٹائن ڈے کیا ہے اور اس کی ابتدا کس طرح ہوئی اس کے بارے میں کئی روایات ملتی ہیں ویلنٹائن ڈے کے بارے میں یقین یہ کیا جاتا ہے کہ اس کا آغاز ایک رومی تہوار لوپر کالیا ) Luper Calia ( کی صورت میں ہوا . قدیم رومی مرد اس تہوار کے موقع پر اپنی دوست لڑکیوں کے نام اپنی قمیضوں کی آستینوں پر لگا کر چلتے تھے بعض اوقات یہ جوڑے تحائف کا تبادلہ بھی کرتے تھے بعد میں جب اس تہوار کو سینٹ ویلن ٹائن کے نام سے منایا جانے لگا تو اس کی بعض روایات کو برقرار رکھا گیا اسے ہر اس فرد کے لئے اہم دن سمجھا جانے لگا جو رفیق یا رفیقہ حیات کی تلاش میں تھا سترہویں صدی کی ایک پر اُمید دوشیزہ سے یہ بات منسوب ہے کہ اس نے ویلن ٹائن ڈے والی شام کو سونے سے پہلے اپنے تکیہ کے ساتھ پانچ پتے ٹانکے اس کا خیال تھا کہ ایسا کرنے سے وہ خواب میں اپنے ہونے والے خاوند کو دیکھ سکے گی بعد ازاں لوگوں نے تحائف کی جگہ ویلنٹائن کارڈز کا سلسلہ شروع کر دیا .ویلنٹائن ڈے کے متعلق کوئی مستند حوالہ تو موجود نہیں البتہ ایک غیر مستند خیالی داستان پائی جاتی ہے کہ تیسری صدی عیسوی میں ویلنٹائن نام کے ایک پادری تھے جو ایک راہبہ ) Nun (کی زلف گرہ گیر کے اسیر ہوئے . چونکہ عیسائیت میں راہبوں اور راہبات کے لئے (نکاح) ممنوع تھا مطلب جو آنکے عقیدہ رسم میں شادی کا طریقہ کار ہے . اس لئے ایک دن ویلن ٹائن نے اپنی معشوقہ کی تشفی کے لئے اسے بتایا کہ اسے خواب میں بتایا گیا ہے کہ 14 فروری کا دن ایسا ہے اس میں اگر کوئی راہب یا راہبہ صنفی ملاپ بھی کر لیں تو اسے گناہ نہیں سمجھا جائے گا . راہبہ نے ان پر یقین کیا اور دونوں جوشِ عشق میں یہ سب کچھ کر گزرے . کلیسا کی روایات کی یوں دھجیاں اُڑانے پر انہیں قتل کر دیا گیا بعد میں کچھ منچلوں نے ویلن ٹائن کو شہید محبت کے درجہ پر فائز کرتے ہوئے ان کی یاد میں دن منانا شروع کر دیا زناجیساکہ حرام ہے اسے شہادت کادرجہ دیناچاہ تو چرچ نے آوازبلندکی پھروہی ہواجوہوتاآیاہے کہ ہم انسان کوجس چیزسے روکاجائے ہم اس میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں ۔اگرہم کہیں کہ دنیاچھوٹی سی ہوچکی ہے لیکن اسکے باوجود ہر خطے و علاقہ کے اپنے رسم و رواج اور ثقافت ہے . ہم دنیا کے سینے پر شتر بے مہار نہیں ہیں ہمارے خطے کی اپنی ثقافت بھی ہے اور ہم اسلام کی قیود و حدود کے بھی پابند ہیں . اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دین فطرت ہے .دنیامیں کچھ بھی بدل جائے فطرت نہیں بدل سکتی جیساکہ پہاڑ کاٹھہرنافطرت ہے وہ چل پھرنہیں سکتا اگرپہاڑچلناپھرناشروع کردے تو دنیاتباہ ہوجائے ہواکاچلنافطرت ہے اگرہواچلنابندہوجائے پھربھی دنیامیں کچھ باقی نہ رہے گا۔کھانا پینا انسان کی فطرت ہے اس کے بغیر روح و جسم کا ناطہ بحال رکھنا محال ہے اسی لئیے اسلام نے کھانے پینے پر پابندی نہیں لگائی ہاں البتہ حرام خوراک پر پابندی لگائی ہے .اسی طرح صنف مخالف سے جنسی تعلق استوار کرنا فطرت انسانی اور بشری ضرورت بھی ہے ، اس فطرت پر بھی دین فطرت نے پابندی نہیں لگائی البتہ حرام سے روکا ہے کہ نکاح کرو مگر زنا کے قریب مت جاؤ . اسی طرح جذبہ محبت کے اظہار کے مواقع اور طریقہ کا بھی اسلام نے بتلایا ہے جو کہ مغربی ثقافت و رسم و رواج سے بالکل مختلف ہے اسلام نے ہر اس فعل سے منع کیا ہے جو کہ معاشرتی فساد کا باعث بنتا ہے . ویلنٹائین ڈے پر اظہار محبت ہمارے جیسے معاشرے میں ایک بہت بڑے فساد کا پیش خیمہ بن سکتا ہے . ثقافت و رسوم اپنی ہی اپنانی چاہئیں ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم ذہنی محکوم ہیں ہمارے پڑوسی کا چہرہ لال ہو تو ہم اپنا پیٹ کر لال کرنے کی کوشیش کرتے ہیں بعد میں آنے والے نتائج کی پرواہ کیے بغیر ہم نے اپنی ثقافت کوبھلا دیا اور مغرب اور دیگر ممالک کی ثقافت کو اپنانا شروع کر دیا ہے ہماری آنے والی نوجوان نسل کو اس دن کہ متعلق آگاہی ہونا لازم ہے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس غلط اور غیر مسلم روایت کے خاتمہ کےلیے نوجوان نسل کو آگاہ کریں تاکہ معاشرہ میں روایت بننے سے پہلے ہی نست و نبوت ہو جائے یہ معاشری میں آگاہی ہر فرد کی زمہ داری ہیں غلط ایسے رسم و رواج جو کہ غیر مسلم یا دیگر مواصلات کہ ذریعے سے ہماری ثقافت کا حصہ بنناچاہتے ہیں ہم سب کا حق ہے کہ ایسے روایت کو دفنا دیا جائے تاکہ ہماری آنے والے نسلیں ایسی روایت کا شکار نہ ہو جائے مغرب کی تہذیب مغرب تک ہی رہے تو اچھا ہے کیونکہ جوجس کے ساتھ رہے گااسی کے ساتھ ہی اٹھے اسی لیے ہم نے آخرت کے روز اپنے نبی کریم ﷺ کے ساتھ ہی اٹھنا ہے ۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 99 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ali Jan

Read More Articles by Ali Jan: 170 Articles with 40187 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: