محبت میں ٹوئسٹ اور ہیپی اینڈنگ

(Ainee Niazi, Karachi)

اور پھر اس کے بعد شہزادے اور شہزادی کی شادی ہو گئی عوام خوشحال تھی سب مل کر ہنسی خوشی محبت سے رہنے لگے ۔بادشاہ شہزادے اور پر یوں کی کہانیو ں میں ہمیشہ ایسا ہی ہو تا ہے ان کہا نیوں میں ٹو ئسٹ نہیں آتا کبھی آپ نے سوچا ان کہا نیوں میں اپنا ئے جا نے وا لے ہیپی اینڈنگ کہاں تک سچ ہو تا ہو گا عشق کے امتحان میں کامیاب ہو نے کے بعد مسا ئل ختم ہو جاتے ہو ں گے کسی قسم کی کو ئی ڈپلو میسی کو ئی سا زش جنم نہیں لیتی ہوگی ۔شا ہی محلا ت کی غلا م گر دشیں ہو ں اورسازشیں نہ ہو ایساہو نہیں سکتا تا ریخ کی سبھی کتا بو ں میں شا ہی محلات کے اند رہنے والوں کے گرد خطرات ہمیشہ منڈلا تے رہے ہیں کوئی نہیں کہ سکتا کون سا تیر کو ئی ھتیار یا پھر کو ئی بغاوت آپ پر حملہ آورہو جائے اور شا ہی بساط پر چھا ئے تمام مہرے آپ کے خلاف ہو ں جائیں باد مخالف کی تمام لہریں سب کچھ بہا کر لے جا ئیں یہ سب پچھلے ادوار میں بھی ہو تا رہا ہے اور آج بھی رائج ہے کبھی کو ئی شہزادہ سب کچھ دا ؤپر لگا کر اپنی محبت جیت لیتا ہے عشق کی دا ستانوں میں تو عام سا فرہاد بھی شیریں کو حاصل کر لیتا ہے ۔عشق میں اتنی طا قت ہو تی ہے کہ تخت و تا ج کوٹھکرایاجاسکے جیسے 1936ء میں موجودہ بر طا نوی ملکہ الزبتھ کے چچا کنگ ایڈورڈ نے طلاق یا فتہ امریکی خاتون سے محبت کی شاہی محل کے رسم ورواج حائل ہوئے بلکل فلمی سین کی طرح یا تو اس لڑکی کو چھوڑ دو یا پھر ان آسائشوں سے عاق کر دیئے جا ؤ گے کنگ نے شاہی تخت وتاج کو ٹھکراکر اپنی محبت کو عزت واحترام کا رنگ دیا شادی کی لیکن اس جر م میں سلطنت کو خیر آبا د کہنا پڑا انھوں نے اپنی محبت کے سا تھ بن پاس لے لی۔
 
تاریخ نے اپنے آپکو پھردہرایا اسی بکنگھم پیلس میں2018ء میں ایک شہزادے نے محبت کی لیکن اب زمانہ بدل گیا ہے شہزادہ ہیری نے ایک عام امریکی سیا ہ فام طلاق یا فتہ اپنے سے تین سال بڑی خاتون سے شادی کی تو اسے شاہی محل اور ملکہ نے قبول کر لیا ۔بر طا نوی شہزادے پرنس ہیری اور میگھن مارکل کی داستان محبت 2016ء اکتوبرمیں ایک مشترکہ دوست کی پارٹی میں شروع ہو ئی پہلی نظر میں پیار کی یہ کہانی جس میں دونوں نے سمجھا یہی تو ہے جس کی مجھے تلاش تھی میں اپنی تما م زندگی کا سفر اسی کے ساتھ بسر کر نا چا ہتی تھی دونوں نے اپنے رشتے کو دنیا والوں سے چھپا کر رکھا اورڈیڑھ سال تک اسے بچا کر رکھنے کے بعد شا دی کا اعلان کر دیا دونوں کے بیک گراونڈ میں بہت فرق تھا رنگ نسل شہریت اور شعبے سب ہی مختلف تھے شہزادہ ہیری نے فوج سے تربیت حاصل کی تھی تومیگھن مارکل نے شو بز میڈیا کو چنا تھا محبت عمر رنگ و نسل کے فرق کو بھی نہیں سچی محبت ان قیود سے آزاد ہو تی ہے عزت واحترام کروانا جا نتی ہے تا حیات ساتھ نبھا نا پسند کرتی ہے سو اس کہانی میں بھی شہزادے نے عام سی لڑکی سے شادی کر لی شادی میں شاہی خاندان نے شرکت کی پورے شان و شوکت کے ساتھ یہ رسم ادا ہو ئی تمام دنیاکے اخبارات و شوبز میڈیانے اسے سراہا کو ریج دی اور پھر سب ہنسی خوشی رہنے لگے ۔

لیکن ! چو نکہ یہ ایک حقیقی دنیا کی کہانی تھی اس لئے اس قصے میں ایک ٹوئسٹ آگیا ایک چونکا دینے والی خبر آئی شا دی کے بیس ما ہ بعد اس جو ڑے نے اعلان کیا کہ ہم شاہی خاندان سے الگ رہ کر زندگی گزارنا چا ہتے ہیں جہاں وہ سکون سے رہیں گے ہمیں یہ محل آرام آسا ئشیں نہیں چا ہئے ساری زندگی بیٹھ کر انجوائے نہیں کر نا چا ہتے کسی پروٹوکول کی خواہش نہیں اب ایسی آسان زندگی کو ن نہیں چا ہے گا مگر شہزادے نے سب کچھ چھوڑ کر دوسرے ملک میں بسنے کا فیصلہ کر لیا اور ان کی فیملی اس پر عمل درآمد بھی کر رہی ہے اب ہم سب عوام نے ہمیشہ کہا نی یہی تک سنی تھی کہ شادی ہو گئی سب ہنسی خوشی رہنے لگے۔

کہا نیوں میں ہمیں یہ نہیں بتایا جا تا کہ شاہی محل میں زندگی گزارنے کے کچھ اصول وضوابط ہو تے ہیں جنھیں فا لو کر نا بہت ضروری ہو تے ہیں۔ اٹھنے بیٹھنے کے طور طریقے کھانے پینے کا سلیقہ بات چیت میں حفظ مراتب کا خیال رکھنا عوام سے ملنے کے آداب اور سب سے بڑھ کر سفا رت کا ری کے اصول وغیرہ فالو کرنے پڑتے ہیں یہ وہ مائیز ہو تی ہیں جن پر ساری عمر پھونک پھونک کر قدم رکھنا پڑتا ہے اگر کو ئی ان سے انحراف کر ئے تو موت ان کامقدر بن جاتی ہے جس کا ادارک کرتے ہو ئے شاہی جو ڑے نے عوامی زندگی کو تر جیح دی ہے۔ اب دیکھتے ہیں وہ کہاں تک اپنے فیصلوں اور تر جیحا ت پر قا ئم رہ پا تے ہیں ۔

ہم عام انسان کی زندگی بہت کھٹن ہے۔ امتحان عشق سے آگے بھی ایک طویل زندگی ہے جس کے بڑے چینلجز ہیں، زندگی محض ویلنٹائن ڈے کا ایک دن نہیں کئی دھا ئیوں پر مبنی زندگی کا نا م ہے جہاں ہما رے آس پا س ہما رے قریبی رشتے ہیں معاشرہ ملک ہے جس نے ہمیں اس قابل بنا یا کہ ہم سر اٹھا کر دنیا کا مقابلہ کر سکیں ان کے ہم پر حقوق ہیں قرض ہے اور سب سے بڑھ کر آنے وا لی نسلوں کو ایک صاف پر امن دنیا لوٹا نی بھی تو ہے کہ جس بچپن کو ہم نے انجوائے کیا یہ نو مولود بھی لطف اٹھا سکیں ۔یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے جہاں اﷲ نے اسے بھی نواز دیا ہے جو اس کا اہل نہیں سینکڑوں مثا لیں ایسی ہیں جہاں سا ری زندگی محنت کے بعد بھی انسان لاحاصل رہتا ہے۔ عجیب دا ستان ہے زندگی! ہم کھوجتے سمجھتے بوڑھے ہو جا تے ہیں اور پھر مر جا تے ہیں لیکن یہ محبت بھی تو ضروری ہے کہ یہ زندگی کا حصہ ہے تمام رشتوں کی بنیاد ہے۔ گارسیا مارکیز کہتا ہے کہ میں لو گوں کو بتا ؤں گا غلط سمجھتے ہیں کہ وہ بوڑھے ہو گئے ہیں تومحبت نہیں کر سکتے انہیں نہیں معلوم وہ جب محبت کرنا چھوڑدیتے ہیں تو بوڑھے ہو جا تے ہیں۔ اب پڑھنے والے اسے کسی اور معنوں میں نہیں لے لیجئے گا ورنہ آپ کے زندگی میں محبت ٹوئسٹ تو آسکتا ہے ہیپی اینڈنگ نہیں ۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 82 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ainee Niazi

Read More Articles by Ainee Niazi: 147 Articles with 84246 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: