فتح کیا ہوا علاقہ چھوڑ دیا - مسلم تاریخ میں وعدے کی پاسداری کی روشن مثال

(Al Ikhlas, Karachi)


حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ روم کے ساتھ جہاد میں گزارا ہے ۔ ایک دفعہ رومیوں کے ساتھ ایک مخصوص مدت تک جنگ بندی کا معاہدہ ہوگیا ۔ مدت پوری ہونے سے ہی کچھ ماہ پہلے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فوج کو روانگی کا حکم دے دیا ۔ انکی سوچ یہ تھی کہ اس ملک کے سرحد تک پہنچتے پہنچتے جنگ بندی کی مدت ختم ہوجائے گی تو ہم ان پر فوراً حملہ کردیں گے اور سفر میں وقت ضائع نہیں ہوگا ۔ چنانچہ آپ مسلمانوں کی فوج کے ساتھ اس ملک کی سرحد پر اس وقت پہنچ گئے جب مدت ختم ہونے کا دن تھا ، مدت ختم ہوتے ہی آپ نے ان پر حملہ کردیا ۔ یہ ایک جنگی چال تھی جس کا رومیوں کو اندازہ نہیں تھا اس لیے وہ آسانی سے شکست کھا جاتے لیکن جیسے ہی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے حملہ کے لیے لشکر بڑھایا پیچھے سے انہیں اللہ اکبر کی صدا سنائی دی اور کوئی بار بار یہ پکار رہا تھا " وَفَاءٌ لاَ غَدْرٌ " ( مسلمان کا شیوہ وفاداری ہے ،خیانت نہیں ہے)-

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ فوراً رک گئے اور پیچھے مڑ کر دیکھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معروف صحابی حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ ہیں ۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا بات ہے حضرت عمرو رضی اللہ عنہ فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کو یہ فرماتے سنا ہے کہ جس شخص یا قوم کا کسی دوسری قوم سے معاہدہ ہو تو اسے چاہیے کہ جب تک معاہدہ کی مدت گزر نہ جائے تو اختتامِ معاہدہ کا اعلان کیے بغیر نہ معاہدہ کو توڑے نہ اس کے خلاف کوچ کرے۔

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سنا تو لشکر کو فوراً واپسی کا حکم دے دیا اور فوجیں مفتوح علاقہ کو چھوڑ کر واپس آگئیں ۔(سنن ابی داؤد، کتاب الجھاد، حدیث ۲۷۵۹)

کیا دنیا کی کوئی قوم وفا عہد کی ایسی مثال پیش کرسکتی ہے کہ دشمن کے مطالبہ پر نہیں صرف اپنے ضمیر کی آواز پر فتح کیا ہوا علاقہ چھوڑ کر آگئی ہو ؟ اندازہ لگائیے کہ ایک فاتح لشکر ہے جو اپنے ازلی دشمن سے جنگی چال میں کامیاب ہوجائے پھر بھی وہ ایک آواز پر سر جھکائے واپس لوٹ آئے ، شکست خوردہ دشمن کو اسی سے جیتا ہوا مال و دولت تحفہ میں دے آئے، آخر کیوں!

کیونکہ اسلام میں بڑی تاکید کے ساتھ عہد کو پورا کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور عہد شکنی کی مذمت کی گئی ہے ، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : عہد کو پورا کرو ؛ کیونکہ قیامت کے دن عہد کے بارے میں انسان جواب دہ ہوگا : وَاَفُوْا بِالْعَہْدِ ، اِنَّ الْعَھْدَ کَانَ مَسْئُوْلاً‘(بنی اسرائیل : ۳۴) قرآن کریم نے ان لوگوں کی تعریف کی ہے جو اپنے وعدہ کا پاس و لحاظ رکھتے ہوں : وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِاَ مٰنٰتِھِمْ وَعَھْدِھِمْ رَاعُوْنَ ( المومنون: ۸ ) خود اللہ تعالیٰ نے اپنی اس صفت کا بار بار ذکر فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتے: وَلَن یَّخْلِفَ اﷲُ وَعْدَہٗ ( الحج : ۶) اللہ کے نبی حضرت اسماعیل علیہ السلام کی تعریف کرتے ہوئے خاص طور پر اس کا ذکر فرمایا گیا کہ وہ وعدہ کے سچ تھے، اِنَّہٗ کَانَ صَادِقَ الْوَعْد ۔(مریم : ۵۴)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارشادات کے ذریعہ بھی ایفائے عہد کی اہمیت اور وعدہ خلافی کی بُرائی کو بیان فرمایا ہے ؛ چنانچہ آپ نے فرمایا کہ جس میں تین باتیں پائی جاتی ہوں وہ منافق ہے، جب بات کرے تو جھوٹ بولے، وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے، اگر امانت رکھی جائے تو خیانت کرے ، ( صحیح بخاری ، کتاب الایمان ، حدیث نمبر : ۳۳) نفاق کفر کی ایک قسم ہے اور وعدہ خلافی کو آپ ا نے نفاق قرار دیا ، اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وعدہ خلافی کس قدر بری بیماری ہے، آپ نے اپنے عمل کے ذریعہ وعدے کی پابندی کی ایسی مثال قائم کی ہے کہ اس کی مثال ملنی دشوار ہے، عبد اللہ بن ابی الحمساء خود اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خرید و فروخت کی، آپ کی کچھ چیز باقی رہ گئی ، میں نے وعدہ کیا کہ میں یہ چیز یہاں لے کر آتا ہوں، میں بھول گیا، یہاں تک کہ دو دن دن گزر گئے، تیسرے دن میں حاضر ہوا تو آپ اسی جگہ پر تھے، آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے صرف اس قدر فرمایا : تم نے مجھے مشقت میں ڈال دیا، میں یہاں تین دنوں سے تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔ ( سنن ابی داؤد، کتاب الادب حدیث نمبر : ۴۹۹۶ )

عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ قرض وغیرہ کے لین دین ہی سے وعدہ کا تعلق ہے، حالانکہ ہم زندگی کے تمام مراحل میں عہد و پیماں سے گزرتے ہیں، معاملات و معاشرت کی اکثر صورتيں ، نکاح ، خرید و فروخت ، شرکت اور پاٹنر شپ ، دو طرفہ وعدہ ہی کا نام ہے ، ان میں جانے انجانے ہم کتنے ہی وعدے بھلا بیٹھتے ہیں۔

منگنی نکاح کا وعدہ ہی تو ہے لہٰذا حتی الامکان اس کو پورا کرنا واجب ہے، بغیر معتبر عذر کے نکاح سے انکار یا مقررہ وقت سے تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ شادی بیاہ یا کسی دوسری جائز تقریب میں شرکت کا وعدہ کرلیا تو ضرور جائیے، اگر کسی شرعی عذر مثلاً بے پردگی یا طبیعت کی خرابی کی وجہ سے آپ شرکت نہیں کرسکتے تو اطلاع اور معذرت ضرور کرلیں ۔ معاشرت سے متعلق وعدہ خلافی کی بدترین صورت دعوت نامے سے شروع ہوتی ہے جبکہ انسان کھانے کا وہ وقت لکھتا ہے جس میں عام طور تقریبات شروع بھی نہیں ہوتیں اور اس وعدہ کی خلاف ورزی کا عملی مظاہرہ اس طرح کیا جاتا ہے کہ مقررہ وقت سے دو تین گھنٹے مہمانوں کو انتظار کی کوفت میں مبتلا کرکے انہیں رات گئے مرغن و بھاری کھانے پیش کیے جاتے ہیں۔

حضرت کعب الاحبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
﴿ من نكث بيعَة كَانَت سترا بَينه وَبَين الْجنَّة قَالَ: وَإِنَّمَا تهْلك هَذِه الْأمة بنكثها عهودها ﴾(تفسير القرآن العظيم لابن أبي حاتم، قَوْلهُ تَعَالَى وَأَوْفُوا الْكَيْلَ إِذَا كِلْتُمْ، الرقم: 13279)
’’کسی نے اپنی خریداری کے معاہدہ کو توڑ دیا تو یہ اس کے اور جنت کے درمیان پردہ بن جائے گا ۔ یہ امت اپنے وعدوں کو توڑنے کی وجہ سے ہلاک ہوگی ‘-

اب بزنس تو انسان کا ذاتی معاملہ بھی ہو سکتا ہے لیکن ذاتی معاملات میں بھی وعدہ خلافی آپ کو اُخروی فلاح و نجات سے محروم رکھ رہی ہے- مثلاً مال خریدا اور قیمت کی ادائیگی کی مدت طے کرلی ، لیکن وقت پر پیمنٹ نہیں کی ، اسی طرح مال کی کوالٹی یا کوانٹٹی کے بارے میں ایگریمنٹ میں کچھ وعدہ کیا لیکن وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہوگیا؟

جب آپ کہیں ملازمت کرتے ہیں تو سرکاری یا غیر سرکاری ادارہ میں جو اوقات کار متعین ہوں، آپ ان اوقات میں اپنی ڈیوٹی پر حاضر رہنے کا عہد کرتے ہیں، اگر آپ ان اوقات کی پابندی نہ کریں ، دیر سے دفتر پہنچیں ، پہلے دفتر سے نکل جائیں، یا درمیان میں دفتر چھوڑ دیں، یا دفتر کے اوقات میں مقررہ کاموں کو انجام دینے کے بجائے اپنے ذاتی کام کرنے لگیں، تو یہ بھی وعدہ کی خلاف ورزی میں شامل ہے۔ بعض شعبوں میں ملازمین کو خصوصی الاؤنس دیا جاتا ہے کہ وہ پرائیوٹ طور پر کوئی اور کام نہ کریں ، خاص کر میڈیکل شعبہ میں گورنمنٹ چاہتی ہے کہ ڈاکٹر کی پوری صلاحیت سرکاری دواخانے میں آنے والے مریضوں پر خرچ ہو کیونکہ انسان کی قوت محدود ہے، اور جو شخص ہسپتال میں آنے سے پہلے اپنی قوت ڈھیر سارے مریضوں کو دیکھنے پر صرف کر چکا ہو، یقیناً اب جو مریض اس کے سامنے آئیں گے ، وہ صحیح طریقہ سے، اس کی تشخیص نہیں کر سکے گا۔ اب اگر کوئی شخص گورنمنٹ سے الاؤنس بھی حاصل کرے اور پرائیوٹ کلینک اور نرسنگ ہوم بھی چلائے تو یہ وعدہ خلافی ہی کے زمرے میں آئے گا۔

وعدہ صرف زبانی نہيں ہوتا بلکہ عملی بھی ہوتا ہے، مثلًا ایک شخص ایک ملک کا شہری بن کر رہتا ہے تو وہ شخص عملاً حکومتِ وقت سے وعدہ کرتا ہے کہ میں ملکی جائز قوانین کی پابندی کروں گا ، لہٰذا اب اس شخص پر ٹیکس، ٹریفک ، کاروبار، غرض ہر شعبہ میں مروجہ قوانین کو پورا کرنا شرعاً بھی ضروری ہے جب تک کہ اس ملک کا قانون کسی ناجائز کام پر مجبور نہ کرے۔ اسی طرح کسی ملک کا ویزہ لینا بھی عملی وعدہ ہے، چاہے اس ملک میں کافر حکومت ہو اور غیر مسلموں کی اکثریت ہو۔ لہٰذا اس ملک کے وہ قوانین جو انسان کو کسی گناہ پر مجبور نہیں کرتے یا ناقابلِ برداشت ظلم کا سبب نہیں بنتے ، ان قوانین پر عمل وعدے کی پابندی میں داخل ہے۔

معاشرے کی بد ترین اخلاقی برائی وعدہ خلافی کا آغاز بعض گھروں سے بھی ہوتا ہے- والدین اپنے بچوں کو بہلانے کے لیے ان کے ساتھ طرح طرح کے وعدے کرتے ہیں لیکن سب وعدوں کو پورا نہیں کیا جاتا یہیں سے اس بچے میں وعدہ خلافی کی عادت جڑ پکڑ لیتی ہے اور وہ بچہ وعدہ کرنا اور اسے توڑنا ایک عادت بنا لیتا ہے-عبداللہ ابن عامر رضی اللہ عنہ ُ کا کہنا ہے کہ ایک دفعہ میری والدہ نے مجھے بلاتے ہوئے پکارا " :یہاں آؤ میں تمہیں کچھ دُوں گی "،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ہمارے گھر میں تشریف فرما تھے ۔اُنہوں نے(میری والدہ کی یہ بات سُن کر)اِرشاد فرمایا : " اور تُم اُسے کیا دینے کا اِرادہ رکھتی ہو؟"اُم عبداللہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا " میں اُسے کھجور دُوں گی"،تو اِرشاد فرمایا « أَمَا إِنَّكِ لَوْ لَمْ تُعْطِيهِ شَيْئًا كُتِبَتْ عَلَيْكِ كِذْبَةٌ »" اور اگر تُم نے اُسے کھجور نہ دی تو تُم پر ایک جھوٹ لکھ دیا جائے گا " (سُنن ابی داؤد ، کتاب الادب ،حدیث 4991 )اِس حدیث شریف میں ہمیں بڑی وضاحت سے یہ سبق مل جاتا ہے کہ ، بچوں کے ساتھ بھی مذاق میں بھی جُھوٹ نہیں بولا جانا چاہیے اور نہ ہی اُنہیں کِسی کام کے اِنعام کے بارے میں کوئی جُھوٹا وعدہ کیا جانا چاہیے۔

بہرحال جان چھڑانے کے لیے صرف زبان سے وعدہ نہیں کرنا چاہیے۔ وعدہ پورا کرنے کی بھرپور کوشش کرنا ایک ذمہ دار مسلمان کی نشانی ہے۔ وعدہ پورا کرنے کی نیت تھی لیکن بعد میں کوئی ایسا معمولی عذر پیش آگیا جس کی وجہ سے وعدہ پورا کرنا کوئی مشکل نہیں، تو اس صورت میں بھی وعدہ پورا کرنا واجب ہے، معمولی عذر کی وجہ سے وعدہ خلافی جائز نہیں ہے۔ تاہم اگر کوئی معتبر عذر پیش آجائے جس کی وجہ سے وعدہ کی تکمیل مشکل ہوجائے تو اس صورت میں وعدہ خلافی کا گناہ نہیں ہوگا۔ البتہ ذمہ داری کا تقاضا یہ ہے کہ جس سے وعدہ کیا گیا ہے اسے معذرت کرلی جائے اور بروقت اطلاع دیدی جائے ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Al Ikhlas

Read More Articles by Al Ikhlas: 6 Articles with 5385 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Mar, 2020 Views: 324

Comments

آپ کی رائے