آزادی مارچ 2020

(Irma Moin, Sukkur)

جیسے کہ آپ سب کو معلوم ہے کہ "عورت آزادی مارچ" آج کل زیر ِبحث ہے…!

پہلے تو میں یہ واضح کردینا چاہتی ہوں کہ میں بالکل بھی "توہینِ عدالت" کی مرتکب نہیں ہونا چاہتی، نا ہی میں آزادی مارچ کہ خلاف ہوں میں بالکل عورتوں کے اصل حقوق کہ حق میں ہوں، لیکن آزادئِ اظہارِ خیال کے طور پر کچھ باتیں واضح کر دینا چاہتی ہوں…!

جیسے کہ اس مارچ میں استعمال ہونے والے چند پلے کارڈز کا جواب دینا چاہوں گی…!

1) اس میں ایک لڑکا اپنی بہن کے ساتھ کھڑا یہ کہہ رہا ہے کہ: میری بہن جو بھی پہنے تمہاری رائے کس نے مانگی…!

جواب: اس میں یہ اس آیت کو چیلنج کر رہے ہیں:

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ قُل لِّأَزْوَٰجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَآءِ ٱلْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَـٰبِيبِهِنَّۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰٓ أَن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَۗ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورًۭا رَّحِيمًۭا


اے پیغمبر اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ (باہر نکلا کریں تو) اپنے (مونہوں) پر چادر لٹکا (کر گھونگھٹ نکال) لیا کریں۔ یہ امر ان کے لئے موجب شناخت (وامتیاز) ہوگا تو کوئی ان کو ایذا نہ دے گا۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے (سورہ الاحزاب: 59)

ہمیں پردے کا حکم اللّٰہ نے دیا ہے ہمیں کیا پہننا ہے اور کیا نہیں یہ اللّٰہ نے ہمیں بتا دیا ہے…!

2) دوپٹہ اتنا پسند ہے تو آنکھوں پر باندھ لو…!

جواب:یہ دوپٹہ ہمارے تحفظ کے لئے ہے اور ہمیں فخر ہے…!

ایسے پلے کارڈز لے کر آنے والی لبرلز آنٹیوں کو دیکھ لیں تو دوپٹہ انکے سر پر تو کیا گلے میں بھی دور دور تک نہیں ہوگا اوہ بی بی یہ دوپٹہ تو تمہارا دردِ سر ہے ہی نہیں تم نے کونسا پہن لینا ہے، اور جو پہنتی ہیں اُنہیں اچھی طرح علم ہے کہ کیوں پہنتی ہیں تم جیسیوں کے گائیڈنس کی ضرورت ہے ہی نہیں…!

3)اکیلی، آوارہ، آزاد…!

جواب: No Comments

کیونکہ اگر آپ مجبوراً اکیلی ہیں تو ضروری نہیں کہ آپ "آوارہ" بھی ہوں…!

اگر آپکو ایک حد میں آزادی دی گئی ہے (جو کہ آپکا حق ہے) تو ضروری نہیں کہ آپ "آوارہ" ہی ہوجائیں…!

اور اگر آپ "آوارہ" ہیں (جو کہ آپ ہی ہیں ہم نہیں،الحمدللّٰہ نا میں نا مجھ جیسی اور کروڑوں خواتین) تو آپ بائے چوائس "اکیلی" ہیں اور جسے آپ "آزادی" کہتی ہیں وہ اللّٰہ کی طرف سی دی گئی ڈھیل ہے اور پکڑ کبھی بھی ہوسکتی ہے…!

4) اپنا ٹائم آگیا (تصویر: ہاتھ میں سگریٹ، ٹیٹوز، نیل پالش)...!

جواب: یہ اُن عورتوں کے شوق نہیں ہوتے جن کے حقوق کو پامال کیا جاتا ہے، یہ حقوق نہیں ہیں یہ وہ کلچر ہے جو ہماری قوم کی بچیوں کو تباہ کردے گا…!

5) کھانا خود گرم کرلو، مجھے کیا معلوم تمہارہ موزہ کہاں ہے…!

جواب:

عورتوں کو اپنے گھروں کا روز مرہ کا کام کاج کرنا یہ جہاد فی سبیل اللہ کا رتبہ رکھتا ہے“

منثور جلد 2 صفحہ 153

برابری کی بات کرنے والی ایک کھانا نہیں گرم کرسکتی ایک موزہ ڈھونڈنا اسکے لئے باعثِ تکلیف ہے، تُف ہے…!

پتا نہیں کہاں سے آتی ہیں ایسی عورتیں، ہمیں تو اچھا لگتا ہے جب ہمارا باپ، بھائی، شوہر اور بیٹا ہمیں باہر کے سرد گرم سے بچانے کے لئے ہر چیز گھر میں فراہم کرتا ہے، ہمیں تو اچھا لگتا ہے جب وہ ہم سے آگے چل کر ہمارے لئے راہیں ہموار کرتے ہیں، پتا نہیں کونسی عورتیں ہیں اور کیسے حقوق چاہتی ہیں…!

(یہاں بہت سے بھائی بھی یہ پڑھیں گے اور اُن پلے کارڈز پر کچھ ایسی باتیں بھی لکھی گئی تھیں جس کو لکھتے ہوئے بھی حیا آتی ہے، جو کوئی بھی باحیا عورت اپنے باپ بھائی کے سامنے نہیں کہہ سکتی، اُنکا صرف جواب میں لکھوں گی جواب سے ہی آپکو سمجھ آجائے گا)

6)

جواب: اگر ہمیں ہماری مائیں ٹوکتی تھیں یا ہم اپنی بچیوں کو بتاتے ہیں کہ کس طرح بیٹھنا ہے یا کس طرح نہیں تو اس میں کسی عورت کے حقوق کی پامالی نہیں ہورہی، کسی بھی ترقی یافتہ ممالک کے کسی بھی ٹی وی شو میں بیٹھی کسی بھی عورت کو دیکھ لیں آپ کو یہ بات سمجھ آجائے گی کہ لڑکیوں کے بیٹھنے کے کیا آداب ہیں، ماں کی گود پہلی درس گاہ ہے اور وہاں سے غلط سبق نہیں ملتا…!

7) جو کے آج کل ہر دوسرے شخص کی زبان پر ہے، لکھنے کی ضرورت ہی نہیں…!

جواب: اس پلے کارڈ کی آپ کتنی ہی دلیلیں دے لیں، کچھ بھی کہہ لیں، یہ قابلِ قبول نہیں ہے کسی طور پر بھی، خدا کا واسطہ ہے ہماری معصوم بچیوں کے ذہن سے نا کھیلیں ، اُنہیں تباہی کا راسطہ نا دِکھائیں، انہیں غلط اور بغاوت پر نا اُکسائیں…!

(اور ایسی اور بھی بہت سی باتیں ہیں جو کارڈز پر لکھی گئی تھیں جو بیان کرنا میرے لئے ممکن نہیں اور جن باتوں پر اللّٰہ نے پردے کا حکم دیا ہے اور کھلے عام انکا تذکرہ کرنے سے روکا گیا ہے)

جن حقوق کے لئے آواز اُٹھانے کی ضرورت ہے نا وہ درج ذیل ہیں، ان حقوق کے ملنے کی ضرورت ہے ہماری عورتوں کو، درج ذیل مسائل اصل مسائل ہیں ہمارے ملک میں…!

1۔ جہیز جو کہ ایک لعنت ہے اُسکی روک تھام

2۔ لڑکیوں کا جائیداد میں حصے کو یقینی بنانا

3۔ عورتوں کے تحفظ کی یقین دہانی

4۔ معصوم بچیوں کے ساتھ زنا کی سخت سے سخت سزا

5۔ تیزاب پھیکنے والوں کے خلاف سخت کاروائی

6۔ عورت کے لئے دن کے کسی بھی پہرگھر سے نکلنے کے لئے تحفظ دینا

7۔ کام کی جگہوں پر ہراسمینٹ کے خلاف سخت قوانین پر عمل در آمد

8۔ پسند کی شادی کا حق

9۔ تعلیم حاصل کرنے کی اجازت

10۔ جنسی زیادتی کے خلاف سخت کاروائی

11۔ تشدد کے خلاف قوانین پر عمل

12.زبردستی کی شادی

اور بہت کچھ…!

صرف مرد حضرات ہی نہیں بلکہ کوئی بھی عام عورت اس قسم کے آزادی مارچ میں شامل نہیں، مردوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے، اگر اس کے لئے بھی ووٹنگ سسٹم ہوتا تو 90% فیصد عورتیں اس قسم کے آزادی مارچ کے خلاف ہوتیں، اگر عورتوں کے اصل حقوق کو زیرِبحث نہیں لایا جارہا تو میرے نزدیک یہ محض فحاشی کے علاوہ کچھ نہیں…!

اور آخر میں میں یہی کہوں گی کہ میں خلیل الرحمٰن قمر صاحب سے اتفاق کرتی ہوں، وہ حق پر ہیں اور اُنہیں معافی مانگنے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں…!
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Irma Moin

Read More Articles by Irma Moin: 7 Articles with 2919 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Mar, 2020 Views: 184

Comments

آپ کی رائے