حرمین شریفین کی حاضری پر پابندی ۰۰۰ایمان کی کمزوری کا نتیجہ تو نہیں؟

(Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid, india)

مسلمانوں کے لئے یہ کتنی بدنصیبی کی بات ہیکہ ایک معمولی سی بیماری جس کے خوف و ہراس نے حرمین شریفین کی حاضری پر روک لگا دی۔ اب تک یہ سنتے آئے تھے کہ کئی بیمارمسلمان جنہیں چلنے پھرنے میں تکلیف ہوتی ہے یا کوئی اوربیماری یہاں تک کہ مہلک بیماری میں مبتلا ہیں لیکن جب وہ اپنے خالق و مالک ،رحمن و رحیم کے درِاقدس کی زیارت کرلیتے اور آب زم زم سے شکم سیر ہوجاتے ہیں توانکی یہ بیماری ایسے رفع ہوجاتی ہے جیسے وہ اس سے قبل بیمار تھے ہی نہیں۔ یہ ایک حقیقت ہیکہ اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں پر جن فرائض کی انجام دہی کیلئے احکامات نازل فرمائے ہیں ان کی انجام دہی مسلمانوں کی ذہنی تسکین، جسمانی نشو ونما اور صحت مندی کی ضامن ہے۔ بچے کے پیدا ہونے سے لے کر لحد کی منزل تک مسلمانوں کو پاک و صاف رہنے اور رکھنے کی تربیت دی گئی ہے ۔واقعی جو مسلمان شریعت مطہرہ پر عمل پیرا رہتے ہیں، وہ کئی طرح کی مہلک بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں اس کے باوجود اگر کسی وقت کوئی بیماری کا شکار ہوتے بھی ہیں تو یہ ان کی کسی غفلت یا کوتاہی یا گناہ کا نتیجہ ہوتا ہے یا پھر خالقِ حقیقی کی جانب سے انہیں آزمائش میں ڈالا جاتاہے تاکہ وہ اپنے مالک حقیقی کی دی ہوئی نعمتوں پر جس طرح شکر ادا کرتے ہیں ویسے ہی اسکی دی ہوئی بیماری پربھی صبر و شکر ادا کرتے ہوئے ثابت قدم رہتے ہیں یا نہیں دیکھا جاتا ہے۔ ان دنوں مملکت سعودی عرب کی شاہی حکومت نے سعودی عرب میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے دنیا بھر سے آنے والے زائرین حرمین شریفین پر عارضی پابندی عائد کردی ہے یہی نہیں بلکہ اپنے شہریوں اور ملک میں مقیم غیر ملکیوں کے عمرہ کرنے پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔مطاف میں طواف رکوادیا گیا ۔شاہی حکومت کے فیصلے کے بعد اب سعودی شہری یا مملکت میں مقیم غیر ملکی نئے احکامات آنے تک عمرہ نہیں کرسکتے۔سعودی خبررساں ایجنسی کے مطابق وزارت داخلہ کے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے انسداد کے لئے کام کرنے والی کمیٹی کی سفارش پر یہ فیصلہ کیاگیا ہے کہ وقتی طور پر سعودی شہریوں اور مقیم غیر ملکیوں کے عمرہ کرنے پرپابندی عائد کی جائے۔ وزارت داخلہ کے مطابق عمرے پر پابندی کے فیصلے پر وقتاً فوقتاً نظر ثانی ہوتی رہے گی اور اسباب ختم ہونے پر پابندی بھی اٹھالی جائے گی۔اس طرح سعودی حکومت نے وبا کی نگرانی کرنے والے عالمی اداروں اور عالمی ادارہ صحت کی سفارشات پر عمل کرتے ہوئے بیرون ملک سے آنے والے عمرہ زائرین کو ویزے جاری کرنا بند کردیئے ہیں جہاں کورونا وائرس پھیلا ہوا ہے۔ حکومت نے ان ممالک سے آنے والے سیاحوں کیلئے سیاحتی ویزے بھی معطل کردئے ہیں۔واضح رہے کہ سعودی عرب میں 2؍ مارچ کو کورونا وائرس کے پہلے کیس کی تصدیق ہوئی تھی ، یعنی ایران سے بحرین کے راستے آنے والا ایک سعودی شہری کورونا وائرس میں مبتلا پایا گیا ، البتہ یہ متاثرہ شخص اب صحت یاب ہورہا ہے اور خطرے سے باہر بتلایا جاتا ہے۔ جس طرح حرمین شریقین کو کورونا وائرس جیسی وبا سے پاک رکھنے کیلئے حکومت نے اسے اہم اقدام سمجھا ہے اور وقتی طور پر مقدس مقامات کو زائرین سے دور رکھا ہے ، اس سے مسلمانوں کو ہر طرح کا نقصان ہورہا ہے ۔ اب یہ الگ بات ہیکہ حرمین شریفین کی حاضری سے محرومی ان عمرہ کرنے والے زائرین کی بدقسمتی ہے یا پابندی عائد کرنے والوں کے ایمان میں کمی کا نتیجہ۔لیکن ہمیں یہ سوچنے پر مجبور ہونا پڑرہاہے کہ کہیں یہ اﷲ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب تو نہیں ،جس نے اپنے گناہگار بندوں کو اپنے مقدس ترین مقام کی حاضری سے محروم کردیا ہے۔ہمیں اپنے اعمال کا محاسبہ کرنا ہوگا اور اﷲ رب العزت کومناناہوگا ۔ کاش ہم اﷲ کی مرضی سمجھ پاتے اور ایمان کو متزلزل ہونے سے روک پاتے۰۰۰۰

یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہیکہ کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے مریضوں کی تعداد اب تک ایک لاکھ کے قریب بتائی جارہی ہے اور 3300سے زائد مریض اس مہلک بیماری سے ہلاک ہوچکے ہیں۔کورونا وائرس اس وقت دنیا کے 80ممالک میں داخل ہوچکا ہے ، سبھی براعظموں میں اس وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوچکی ہے ، براعظم ایشیا کے ممالک کے علاوہ یوروپی ممالک میں بھی یہ پھیلتا جارہا ہے۔ لیکن مسلمان اپنے خالق و مالک کے حضور دعاؤں کے ذریعہ اس سے بچاؤ کے انتظامات کررہے ہیں۔

افغانستان میں کیا قیام امن ممکن ہوپائے گا۰۰۰؟
آخر کار وہی ہوا جس کا ڈر تھا۰۰۰ افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان قطر میں ہونیو الے امن معاہدے کو ایک بڑی پیشرفت کی حیثیت دی گئی ،تاہم اس معاہدے پر دستخط ہوئے ابھی چند گھنٹے ہی گزرے تھے کہ اس کی شرائط کے بارے میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان ناچاقی پیدا ہوگئی اور پھر طالبان نے افغان فورسز پر فضائی حملہ کردیا جس کے جواب میں امریکہ نے بھی طالبان کے ٹھکانوں پر حملے کردیئے۔ اب دیکھنا ہیکہ معاہدے کی پاسداری ہوتی ہے یا پھر وہی گزرے ہوئے 19سال کی طرح انسانوں کی نسل کشی اور انکے املاک کی تباہی جاری رہے گی۔ جیسا کہ قارئین جانتے ہیں کہ افغانستان میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر9/11کے حملوں کے بعد تقریباً 19برس کی طویل مدتی جنگ مسلط رہی،اس کے خاتمے کیلئے امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان کئی مرتبہ دوحہ قطر میں بات چیت کے مراحل ہوتے رہے اور آخر کار 29؍ فروری کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امن معاہدے پرافغان طالبان اور امریکہ نے دستخط کردیئے۔معاہدے پر امارتِ اسلامیہ افغانستان کی جانب سے ملا عبدالغنی برادر اور امریکہ کی جانب سے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد نے دستخط کئے۔ اس موقع پرامریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج امن کی فتح ہوئی ہے لیکن افغانوں کی اصل فتح تب ہوگی جب افغانستان میں امن و سلامتی ہوگی۔انہو ں نے کہا کہ افغان اور امریکی فورسز نے مل کر قیام امن کیلئے کام کیا ہے ۔ امن کے بعد افغان عوام کو اپنے مستقبل کا تعین کرنا ہے۔ امریکہ اور طالبان دہائیوں کے بعد اپنے تنازعات کو ختم کررہے ہیں۔امریکی وزیر خارجہ کے مطابق تمام افغانوں کو امن اور خوشحالی کے ساتھ رہنے کا حق ہے۔

انہو ں نے افغانستان میں قیام امن کے لئے خلیل زاد زلمے کے کردار کی بھی تعریف کی۔فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق افغانستان میں قیام امن کے لئے اس معاہدے کو انتہائی اہم قرار دیا گیا۔بتایا جارہا ہیکہ اس معاہدے کے بعد طالبان کی جانب سے امن کی کچھ ضمانتوں کے بعد افغانستان سے ہزاروں امریکی فوجیوں کی وطن واپسی کی راہ ہموار ہوجائے گی۔معاہدے کے بعدامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغان عوام پر زور دیا ہے کہ وہ نئے مستقبل کیلئے موقع کو قبول کریں، معاہدے سے 19سالہ جنگ کا خاتمہ ممکن ہوسکے گا۔انہوں نے کہاکہ اگر طالبان اور افغان حکومت اپنے وعدوں پر قائم رہتی ہے تو ہمیں افغانستان کی جنگ ختم کرنے اور اپنے فوجیوں کو گھر بھیجنے کا ایک مضبوط راستہ مل جائے گا۔امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اس تاریخی معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شرکت کیلئے خصوصی طور پر دوحہ پہنچے تھے ۔

افغانستان کے دوبارہ منتخب ہونے والے صدر اشرف غنی نے بھی کابل میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے اسے تاریخی معاہدہ قرار دیا اور امید ظاہر کی تھی کہ اس سے 19سالہ جنگ کے خاتمے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کے عوام نے امن کیلئے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ دو دہائیوں سے جاری جنگ میں ایک کروڑ افغانوں نے نقل مکانی کی تکلیفیں اٹھائیں۔انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان اور دیگر ممالک کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ‘ اشرف غنی نے اس امید کا اظہار کیا تھاکہ تمام فریقین امن معاہدے کی پاسداری کریں گے۔ صدر اشرف غنی نے کہا کہ اس معاہدے کی کامیابی کیلئے امریکی وزیر دفاع نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے جس پر وہ ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ توقع کی جارہی تھی کہ یہ معاہدہ کابل حکومت اور طالبان کے درمیان بھی مذاکرات کی راہ ہموار کرے گا جس سے افغان جنگ خاتمے کی جانب بڑھے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ امن معاہدے کی تقریب کے موقع پر 50ممالک کے وزارائے خارجہ اور 150ممالک کے وفود نے شرکت کی۔ امریکہ اور افغانستان میں ہونے والے امن معاہدے میں طے پایا کہ 14ماہ میں امریکی افواج مرحلہ وار افغانستان سے نکل جائیں گے۔ پہلے مرحلے میں ساڑھے چار ہزار اور دوسرے مرحلے میں ساڑھے 8ہزار امریکی فوجی افغانستان چھوڑیں گے۔ معاہدے میں یہ شرط عائد کی گئی ہے کہ امریکی افواج کا افغانستان سے انخلا طالبان کی جانب سے وعدوں کی تکمیل سے مشروط ہوگا۔ معاہدے میں طے پایا تھا کہ افغان حکومت کی حراست میں موجود پانچ ہزار طالبان قیدیوں کی رہائی کے بدلے طالبان کے زیر حراست ایک ہزار قیدیوں کو 10؍ مارچ تک رہاکیا جائے گا۔واضح رہیکہ افغان صدر اشرف غنی نے کہاتھا کہ ان کی حکومت نے طالبان قیدیوں کو رہاکرنے کا وعدہ نہیں کیا، جیسا کہ دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے معاہدے میں کہا گیاہے۔معاہدے کے مطابق طالبان افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کے پابند ہوں گے اور دہشت گردوں سے عملی لا تعلقی اختیار کریں گے۔لیکن افغان صدر اشرف غنی نے ان پانچ ہزار طالبان قیدیوں کی رہائی سے انکارکردیا جس کے بعد طالبان نے افغان فورسز پر حملہ کرنے کی دھمکی دی تھی اور پھر حملہ کرکے اسے عملی جامہ بھی پہنادیا۔ امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھاکہ قیدیوں کی یہ رہائی بات چیت کی شرط نہیں ہوسکتی، لیکن مذاکرات کا حصہ ضرور ہوسکتی ہے۔

امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کے بعد افغان عوام جو دو دہائیوں سے جاری جنگ سے تنگ تھے خوشیوں کا اظہار کرتے ہوئے دکھائی دیئے ، سوشل میڈیا پر جشن مناتے نظر آئے لیکن ان کی یہ خوشی زیادہ زیر تک باقی نہ رہ سکی ، ان کے دل و دماغ میں پھر ایک مرتبہ بے یقینی اور خوف و ہراس لوٹ آیا ہے۔افغانستان کے دارالحکومت کابل میں سیاسی ریلی کے دوران جمعہ کے روز حملے کئے گئے جس میں کم از کم 29افراد ہلاک اور 30زخمی ہوگئے ۔ اس جلسے میں ملک کے اعلیٰ رہنما عبداﷲ عبداﷲ سمیت کئی اہم سیاسی قائدین موجود بتائے گئے تاہم وہ محفوظ رہے۔وزارتِ داخلہ کے ترجمان نصرت رحیمی کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ نصرت رحیمی کا کہنا ہیکہ حملہ آوروں نے فائرنگ شہر کے مغرب میں جلسے کے قریب ایک زیر تعمیر عمارت سے کی۔افغان صدر اشرف غنی نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا ہے۔ طالبان نے اس حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے جبکہ کسی دوسرے گروپ نے بھی اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی ۔ اب دیکھنا ہیکہ حملہ کرنے والے ظالم کون ہیں۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہیکہ ایک طرف صدارتی انتخابات کے نتائج منظر عام پر آنے کے بعد چیف ایگزیکٹیو عبداﷲ عبداﷲ ان نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے جبکہ طالبان اشرف غنی کی حکومت کو سرے سے تسلیم ہی نہیں کرتے ۔ طالبان کا کہنا ہیکہ اشرف غنی کی حکومت امریکہ کی کٹھ پتلی حکومت ہے۔ ایسے میں اشرف غنی اور طالبان کے درمیان مفاہمت ہونا اور ملک میں امن و سلامتی کی فضا بحال ہونا بہت مشکل نظر آرہا ہے اور ملک بھر میں ایک بار پھر حملوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے جس کے بعد معاہدے کی کامیابی کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا جارہے ، لیکن اﷲ رب العزت چاہے تو یہ سب کچھ ممکن ہوسکتا ہے بشرطیکہ اس میں افغان عوام اپنے خالق و مالک کو منانے میں کوئی کسر باقی نہ رکھیں۰۰۰

سعودی فرمانروا شاہ سلمان سے برطانوی وزیر خارجہ کی ملاقات
برطانیہ کے وزیر خارجہ اور دولت مشترکہ امور کے نگران ڈومینک راب نے مملکت سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ملاقات کی ۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات میں پیشرفت اور انکے طریقہ کار اور مشترکہ دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران برطانیہ میں سعودی سفیر شہزادہ خالد بن بندر بن سلطان کے علاوہ سعودی وزیر داخلہ شہزادہ عبدالعزیز بن سعود بن نائف، وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، وزیر مملکت و مشیر قومی سلامتی ڈاکٹر مساعد بن محمد العیبان اور سعودی و برطانیہ کے دیگر اعلی عہدیدار بھی موجود تھے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid

Read More Articles by Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid: 255 Articles with 95363 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Mar, 2020 Views: 210

Comments

آپ کی رائے