رحمتیں کیسے نازل ہوں؟؟

(Sami Ullah Malik, )

ہرصبح سینکڑوں ایسے پیغامات ملتے ہیں جس میں قارئین اکثرخاصے غصے میں جھنجلائے پاکستان کی سلا متی کے بارے میں بڑے پریشان کن سوال کرتے ہیں اس بات کی تکراررہتی ہے کہ تم ہروقت اس زخم خوردہ کاماتم کرتے رہتے ہو۔اس کے لٹ جانے کامنظرپیش کرکے خودتوپتہ نہیں روتے ہوکہ نہیں مگرہمیں رلاتے رہتے ہو۔ کیابات ہے کہ چندحروف تسلی کے یا چند امید بھری باتیں کیوں نہیں کرتے؟یہ محبت بھری شکایات جب ان کومیری طرح مایوسی کے اس لق دق صحرامیں پریشان کرتی ہیں تویہ جی بھرکرمجھ سے لڑتے جھگرتے ہیں کہ چلوٹھیک سہی مگراس کاجوحل تم تجویز کررہے ہواس پر عملدرآمدکب ہوگا اور اس پرکوئی کان بھی دھرے گاکہ نہیں؟میں ان کے یہ تمام مطالبے سن کرحیرت میں گم ہوجاتاہوں کہ مدتوں جس شان و شوکت اورعظمت رفتہ کے لٹ جانے کامیں ماتم کررہاہوں،جن اقدارکی تباہی کاہرروزنوحہ لکھتاہوں اس کے اسباب کی نشاندہی بھی تو کرتا ہوں ،اس کااپنی عقل کے مطابق علاج بھی تجویزکرتاہوں کہ اپنی انہی گم گشتہ اقدارکی طرف لوٹ جانے میں ہی ہماری عافیت ہےلیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ واپسی کاسفرکیسے ہو؟

ہم توشایدبہت دورنکل آئے ہیں،زمانہ بھی بدل گیاہے۔اس دورکے تقاضے کچھ اورتھےاوراس دورکے مطالبے کچھ اورہیں۔اب سفرکیلئے گھوڑوں اونٹوں کی بجائے سپرسانک جہازاورتلوارکی بجائے خطرناک قسم کے ایٹمی ہتھیارمیدان میں آگئے ہیں ،بغیر پائلٹ کے میزائل برسانے والے ڈرون جہازآگئے ہیں۔یہ ان لوگوں کے جواب ہیں جوان اقدارکی طرف جانے سے گریز کرتے ہیں لیکن میں اس وقت حیران ہوجاتاہوں کہ عدل وانصاف قائم کرنے کیلئے ایسے کون سے ایٹمی ہتھیاروں،میزائلوں کی ضرورت ہے ؟عدل توایک درخت کے نیچے ننگی زمین پربیٹھ کربھی کیاجاسکتاہے۔انصاف کے وعدوں کوپوراکرنے کیلئے کسی جدیدکمپیوٹر یاکسی ایسے آلے کی بھی ضرورت نہیں۔عہد،قول اوروعدہ توصدیوں سے قوموں کی دیانت اورغیرت کی پہچان رہاہے اورسچ بولنے کیلئے کسی ایسے سا ئنسی جدیدآلات اورٹیکنالوجی کی ضرورت نہیں ہوتی،یہ توانسانوں کے بیدار ضمیر کالازمی جزوہوتا ہے۔وہ چاہے کسی مقام یاکسی بھی عہدے پرفائزہوں ان کودھوکے،جھوٹ،دغابازی اورمکاری سے نفرت ہوتی ہے۔وہ توسچ کے نشے میں اس قدرمست ہوتے ہیں کہ دھوکے،جھوٹ،دغابازی اورمکاری کی ترشی بھی ان کے قریب تک نہیں پھٹکتی۔وہ توسچ کے سحرمیں اس قدرگرفتارہوتے ہیں کہ اس کیلئے اپنی جان تک قربان کردیتے ہیں۔بڑے سے بڑانقصان اور ہزیمت کوبھی خاطر میں نہیں لاتے۔یہ سب کچھ غربت، تنگدستی اورکسمپرسی کی حالت میں بھی ہوسکتاہے۔کسی ایم آئی ایف یاعالمی بینک کی مدد درکارنہیں ہوتی۔

جب سے یہ اقدارہمارے ہاں متروک ہوئی ہیں اس وقت سے ذلت اوررسوائی ہمارامقدربن چکی ہے۔یہ تووہ اقدارتھیں جن کی وجہ سے اس امت پر رحمتوں اوربرکتوں کاسایہ اوردوسری قوموں کے دلوں پرہیبت،رعب اوردبدبہ چھایاہواتھا۔دوسری اقوام کے دانشوربھی یہ بات لکھنے پرمجبورہوگئے کہ اسلام میں اگرایک اورعمرہوتاتوساری دنیاپراسلام کانظام عدل قائم ہوجاتا۔ مغربی دنیاکایہ دانشورایک مشہورعیسائی خانوادے سے تعلق کے باوجود اپنی کتاب’سوبڑے آدمی’میں پہلا مقام سیدنامحمدۖ، دوسرامقام سیدناحضرت عمراورتیسرامقام حضرت عیسیٰ علیہ السلام کودینے پرمجبورہوگیا۔

روم کاسفیرمدینے کی گلیوں میں اس نظام عدل کوقائم کرنے والے بادشاہ کے بارے میں استفسارکررہاتھاتواس کوبتایاگیاکہ ہمارے ہاں توکوئی بادشاہ نہیں مگر ایک آدمی کوہم نے اپنامنتظم مقررکررکھاہے۔اگراس سے ملنے کی خواہش ہے تووہ سامنے درخت کے نیچے ایک پتھرپرسررکھے سورہاہے۔ ہرقسم کے خطرات سے بے پرواہ چندگھڑیوں کیلئے آرام کرنے والے کے چہرے کی طرف دیکھ کربے اختیارپکاراٹھاکہ یقینااس عادلانہ نظام کی بدولت دنیاکی قیادت وسیادت ان کا حق ہے۔حالانکہ یہ تووہی عرب تھے جن کے بارے میں ایران کے بادشاہ نے بڑے تمسخرکے ساتھ کہاتھا کہ”اے عرب کے جاہل اورگنواربدوؤں! کیا تم وہی نہیں ہوکہ جب تم کبھی کوئی شوروغوغاکرتے تھے توہم صرف اپنے چندسرحدی محافظوں کوکہتے کہ تمہارادماغ درست کردیں توتم فوری دبک کراپنے صحرائی خیموں میں چھپ جاتے۔شاعرفردوسی نے اس منظرکواپنے شاہنامہ میں اس طرح محفوظ کیاہے:
اونٹنی کاددھ پینے اورجنگلی گوہ کاگوشت کھانے والوعربو!تم کوکیاسوجھی کہ تم ایران کے تخت کی آرزوکرنے لگ گئے ہو۔کیامنظرہے یہ اے آسماں،تم پرتفو ہے۔

لیکن کیاکبھی کسی نے یہ سوچاہے کہ ان جاہل،گنواراورصحرانشیں بدوؤں کی حالت کس سا ئنسی ترقی اورٹیکنالوجی نے بدلی تھی۔ترقی اورٹیکنالوجی تواس وقت بھی اپنے زمانے کے مطابق اپنے عروج پرتھی۔وہ جواہرام مصرکی پیمائشوں اورتقویمی گرہوں کوکھولتے ہوئے بتاتے ہیں کہ انسان اس وقت بھی الجبرا اورسائنس کی معراج پرتھا۔روم اپنی بلندیوں کوچھورہاتھا۔ ایران کے دربارکی شان وشوکت اورتزک واحتشام دیکھنے کے لائق تھا۔بابل اورنینوا کے معلق باغات اورمحلات کے پرشکوہ تذکرے اب تا ریخ کاحصہ بن چکے ہیں۔پھرایساکیاتھاکہ میرے رب نے اس دنیاکی قیادت وسیادت ان لوگوں کے ہاتھوں میں سونپ دی جن کے گال بھوک کی وجہ سے پچک اور پیٹ کمرکے ساتھ لگ گئے تھے،جن کوتلواروں کے نیام تک میسرنہیں تھی اور پرانے چیتھڑوں سے ان تلواروں کو ڈھانک کررکھتے تھے۔وہ کیاصفات تھیں کہ ان کے ہاتھوں میں صرف سیاسی نہیں بلکہ دنیاکی علمی اورسائنسی قیاد ت بھی آگئی ۔

وہ جن کے شہراورشہری سہولیات ساری دنیا کیلئے ایک نمونہ بن گئیں۔دنیاکواس وقت معلوم ہواکہ گلیاں اورسڑکیں پکی اینٹوں اورپتھروں سے کس طرح بنائی جاتی ہیں۔حمام میں گرم پانی بھی ہوتاہے،گلیوں میں رات گئے چراغ بھی روشن کئے جاتے ہیں تاکہ راہگیروں کورات چلنے میں کوئی دشواری نہ ہو۔وہ جوفلکی سیاروں کی چالوں کیلئے رصدگاہوں کے امین بنے، جوالجبرا، فزکس،کیمسٹری اورطب کے امام ٹھہرے اورآج کی تمام سائنسی ترقی میں ان کے ایجادکئے فارمولے ایک بنیادی حیثیت رکھتے ہیں اورپھرکئی صدیوں تک ان کاراج بھی رہا،کیایہ سب دنیا کے کسی بھی مروجہ سا ئنسی اورتہذیبی اصولوں کے تحت ممکن ہواتھا۔
ایسے ہی ایک قوم منگولیاکے ریگستانوں سے اٹھی تھی،چنگیزخان نے اس قوم کے چندقبیلوں کومتحدکیاتھااورپھریہ قوم طوفان کی طرح اس پورے علاقے کو روندتی ہوئی گزرگئی لیکن آج اس قوم کاتاریخ میں ظلم،بربریت کی داستانوں کے علاوہ کوئی ذکر نہیں ملتااورساری دنیامیں ایک نفرت کی علامت کے علاوہ کچھ بھی ان کے حصے میں نہیں ہے مگرعرب کے ان جاہل،گنوار اوران پڑھ بدوؤں نے ایساکیاکمال کردیاتھاکہ دنیاکاکوئی بھی مؤرخ عصبیت کے باوجودآج بھی ان کوفن تعمیر،فلسفہ ،طب،خطاطی اوردوسرے بیسیوں علوم کاماخذ،محقق اوراستادمانتاہے۔یہ سب کمال اورہنران کے دروازوں پرکیوں دستک دینے چلے آئے۔اس لئے کہ ان میں میرے پیارے ختمی الرسل محمدۖ کے تزکئے نے وہ خصوصیات پیداکردی تھیں جن کی بنیادپرخالق کائنات مہربان ہوتاہے۔

وہ اپنے مربی سے جن کووہاں کابچہ بچہ امین وصادق کے ناموں سے جانتاتھا،اپنے رب کایہ فرمان سن کرکانپ اٹھے تھے کہ خبردار!تمہیں کسی قبیلے کی محبت اس بات پرمجبورنہ کردے کہ تم انصاف کادامن اپنے ہاتھ سے چھوڑدو۔انہیں اس بات کا قوی یقین تھاکہ اگرہم نے اس زمین پراللہ کابتایاہوا نظام عدل قائم کردیاتووہ ہم پراپنی رحمتوں اوربرکتوں کے خزانوں کی بارش کردے گا۔یہی وجہ ہے کہ خلیفہ ثانی حضرت عمرکے زمانے میں جب فتوحات کادروازہ کھلاتوایک معرکہ میں مال غنیمت کے اس قدر ڈھیرلگ گئے کہ اطراف میں بیٹھے ہوئے لوگ ایک دوسرے کودیکھ نہیں سکتے تھے۔ان نعمتوں کودیکھ کرخلیفہ ثانی حضرت عمراوران کے ساتھیوں نے روناشروع کردیاکہ کہیں آخرت کی نعمتوں کی بارش دنیامیں تونہیں شروع ہوگئی۔

انہوں نے اپنے آقاومربی ختمی الرسل محمدۖسے سن رکھاتھاکہ مومن بدکارہوسکتاہے،چورہوسکتاہے کہ گناہ اس سے سرزدہو جائیں لیکن مومن جھوٹانہیں ہوسکتا۔انہوں نے اپنے آقاو مربی ختمی الرسل محمدۖسے یہ بھی سن رکھاتھاکہ جب ایک شخص جھوٹ بولتاہے تواس کے جسم سے ایک ایسی بدبونکلتی ہے کہ رحمت کے فرشتے اس سے کئی فرسنگ دوربھاگ جاتے ہیں۔ یہی سچ بولنے کی صفت نے اس دورکی تاریخ میں لوگوں میں اعتراف جرم کی یہ جرأت پیدا کی انہوں نے خودزناکے جرم کا اقرارکیااورسزا کیلئے اپنے آپ کوپیش کیا۔انہیں اپنے وعدوں کاپاس تھاکہ ان کارب ان سے یہ کہتاہے کہ تم سے تمہارے وعدوں کے بارے میں دریافت کیاجائے گا۔یہ وہ کمال تھاجومیرے پیارے ختمی الرسل محمدۖ نے ان کی زندگیوں میں پیداکیاتھا ۔

انہیں یہ بھی واضح طورپربتادیاگیاتھاکہ منافق کی تین نشانیاں ہیں کہ جب بات کرے توجھوٹ بولے،جب وعدہ کرے توپورانہ کرے اورجب اس کے باس امانت رکھی جائے تواس میں خیانت کرے۔اس امت پرہی نہیں بلکہ اس پوری دنیاکی ترقی کی بنیادہی ان تین ستونوں پررکھی ہوئی ہے۔اب آپ خودہی فیصلہ کرلیں کہ کیامیراماتم اورمیرے نالے درست نہیں کہ اپنی انہی گم گشتہ اقدارکی طرف لوٹ جانے میں ہی ہماری عافیت ہے ؟

ہم گلیوں،بازاروں،حلف اٹھاکرعدالتوں،اسمبلیوں اوراقتدارکے ایوانوں میں بیٹھ کرکس دھڑلے،ڈھٹائی سےجھوٹ بولتے ہیں اور جھوٹی گواہیاں دیکرامانت میں خیانت کرتے ہیں۔کیاہمارے ذمہ جوامانت سپردکی گئی ہے کہ جب تم حکمران بنوتوعدل وانصاف کانظام قائم کرو۔کیاعجب تماشہ ہے کہ آپ کے اپنے ملک کے شہری قانونی طورپرمشہدایران میں عبادت کیلئے گئے اورکرونا وائرس کے شبہ میں ان کی پاکستان آمدکے تماام راستے مسدودکر دیئے گئے ہیں جبکہ ایرانی سرکاری ذرائع ایسے تمام شکوک کی نفی کررہے ہیں بوڑھے مردوخواتین جوآپ کی غلط پالیسیوں کی بناء پراس وقت سخت مالی مشکلات سے دوچار ہوچکے ہیں کیاان کی اعانت ریاست مدینہ بنانے کادعوی کرنے والوں کی نہیں؟آئے دن خوفناک خبروں کے ساتھ قوم کا سانس خشک کرنے کی مشق جاری ہے۔ یہ سب کچھ کرنے کے باوجودآپ اپنے لئے کس منہ سے عزت وکامرانی کاحق مانگتے ہیں؟ جب تک آپ یہ سب کچھ نہیں بدلتے،اس جھوٹ سے توبہ نہیں کرتے تومیرے رب کے رحمت کے فرشتے اس جھوٹ سے تو کئی فرسنگ دوربھاگ گئے ہیں۔یادرکھیں ہماری ذلت ورسوائی اس وقت ختم نہیں ہوسکتی جب تک ہم واپسی کاسفر شروع نہیں کرتے۔

اس کاتووعدہ ہے کہ تم نے اگرایفائے عہد نہ کیاتودنیا کی رذیل قوموں سے رسواہوجاؤگے۔آج ہم اپنے اس آقاکی پہچان بھی بھول چکے ہیں۔وہ جو ساری دنیاکا خالق ورازق ہے،جودنیاوآخرت کے تما م خزائن کامالک ہے،اس سے مانگنے کی بجائے ہم آئی ایم ایف اورعالمی اداروں کی تمام شرائط کوبلا چون وچرا مان کر بھیک کاکشکول اٹھائے دربدرہورہےہیں۔پھربھلاہم پر رحمتیں کیسے نازل ہوں؟؟
کچھ توسمٹوکہ نظرہم بھی اٹھاکردیکھیں
ہم کواے جلوۂ بے باک حیاآتی ہے

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 459 Articles with 141532 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Mar, 2020 Views: 294

Comments

آپ کی رائے