سرائیکی ثقافت جیسے نیلا آسمان دھرتی پر رقص کررہا ہو

(Imran Zaffar, )

میں نیلی اجرک پانواں ……ملتانوں آپ منگانواں
میڈی صدیاں دی پہچان وو……میڈا عشق سرائیکستان وو
کسی بھی علاقے یا قوم کی پہچان اسکی ثقافت اور زبان سے ہوتی ہے ۔ پاکستان میں بھی مختلف ثقافتیں موجود ہیں جن میں سندھیوں کی سندھی زبان، سندھی ٹوپی، سندھی اجرک، اسی طرح پنجابیوں کی پگ، پنجابی زبان وغیرہ۔ اسی طرح سرائیکی قوم کی بھی اپنی ایک الگ شناخت ہے اپنا ورثہ، اپنی زبان اور ثقافت ہے ۔ پاکستان میں تمام زبانیں اور ثقافتیں پیاری اور خوبصورت ہیں ۔ اور سب کی ترقی کے بہترین مواقع ملے ہیں ۔ جبکہ اس کے برعکس سرائیکی جو کہ ایک دلکش، حسین، پیاری اور اعلیٰ روایات سے بھرپور ثقافت اور زبان ہے۔ اس ثقافت کا تہذیب و تمدن انتہائی محبت، خلوص و پیار سے مزین ہے۔ مگر افسوس اسکے ساتھ ہمیشہ سوتیلیوں والا سلوک کیا گیا ہے ۔حتیٰ کہ ایک عرصہ تک اس قوم اور اسکی ثقافت کو ماننے کیلئے بھی بہت سے بے وقوف اور جاہل لوگ انکار کرتے رہے ۔ مگر اس قوم کے قوم پرستوں نے جب دیکھا کہ کچھ عقل سے عاری لوگ ہماری زبان اور ثقافت کو مٹانے پر تلے ہیں تو انہوں نے اس کیلئے خود سے اپنی ثقافت کی بقا ء اور ترقی کیلئے ہر ممکن کام شروع کر دیااور اس دور میں اپنی ایک الگ شناخت اور قومیت منوا لی۔ مردم شماری میں بھی قوم پرستوں نے اہم کردار ادا کیا۔ لوگوں کو یہ علم بھی نہ تھا کہ پنجاب میں رہنے والے دوسری قوم کے بھی ہو سکتے ہیں اسی وجہ سے یہ سیدھے سادھے لوگ خود کو پنجابی لکھواتے یا سندھی مگر ان قوم پرستوں نے انکے شعور میں اضافہ کیا اور انہیں اپنی قومیت سے متعلق آگاہی دی اور زبان کے خانے میں سرائیکی لکھوانے کا کہا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سرائیکی پاکستان کی دوسری بڑی زبان بن گئی مگر ان اعداد و شمار میں بھی تضاد دیکھا گیا اس پر قوم پرستوں نے احتجاج بھی ریکارڈ کرایا کیونکہ انکا کہنا تھا کہ سرائیکی زبان پاکستان کی سب سے بڑی زبان ہے جس کے ساتھ جان بوجھ کر زیادتی کی جارہی ہے۔

خطہ سرائیکستان باہمی سلوک و محبت کیوجہ سے پرامن اور دہشت گردی سے پاک رہا ہے یہاں ماضی میں مشرق سے قومیں حملہ آور ہوتی رہی ہیں ۔ سرائیکی تہذیب پر ایرانی تہذیب کے بھی اثرات ہیں جو کہ یہاں کی شاعری، طرز تعمیر، فنون و رنگوں میں نظر آتا ہے اور یہ سرائیکی ثقافت کا اہم حصہ ہیں ۔
جے چاہندیں تیڈا لہجہ وی……کھنڈ کھیر تے ماکھی تھی ونجے……وت اپڑاں لہجہ گھولا کر……ساڈے نال سرائیکی بولا کر

اگر زبان کی بات کریں تو سرائیکی زبان پاکستان کی معیاری زبانوں میں سے ایک ہے ۔ اب تو بی زیڈ یو اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور اور کے پی کے میں بھی شعبہ سرائیکی میں سرائیکی زبان کی ترویج و تعلیم کیلئے تعلیم دی جارہی ہیں ۔ اس زبان میں ادب زیادہ تر شاعری کی صورت میں ہے جس میں صوفیائے کرام کا کلام نمایاں ہے جس میں سرفہرست حضرت خواجہ غلام فرید ؒ آف کوٹ مٹھن شریف جبکہ جدید ادب میں احمد خان طارق، جانباز جتوئی، امان اﷲ ارشد، شاکر شجاع آبادی، کوثر جتوئی و دیگر شامل ہیں ۔ اسی طرح سرائیکی گائیکی میں عطاء اﷲ خان نیازی، پٹھانے خان، ثریا ملتانیکر، منصور علی ملنگی و دیگر قابل ذکر ہیں۔ جبکہ اس خطہ کی سب سے اہم ثقافت یہاں کی جھومر ہے ۔ اس خطہ کے لوگ جب نیلی اجرک گلے میں ڈال کر جھومر (رقص) کرتے ہیں تو ایسے لگتا ہے جیسا نیلا آسمان نیچے اتر کر جھوم رہا ہواس وقت انتہائی دلکش اور خوبصورت منظر ہوتا ہے اور باہر کے شخص کا دل بھی کرتا ہے کہ ان کے ساتھ اس رقص میں شامل ہو جائے ۔ اس خطہ کے لوگ شلوار ، قمیض پہنتے ہیں تاہم کچھ مرد لنگی اور تہبند بھی باندھتے ہیں اور سر پر پگڑی یا پٹکا رکھنا شرافت و بزرگی کی علامت سمجھتے ہیں۔ چونکہ پرانے وقتوں میں ننگے سر گھومنے کو معیوب سمجھا جاتا تھا اور دین اسلام میں بھی کچھ ایسا ہی ہے پاؤں میں کھسہ یا طِلے والے جوتے کا اپنا نرالہ رنگ ہوتا ہے۔ یہاں کی عورتیں (تریمت) شلوار ، قمیض، لہنگا، گھاگھرا پہنتی ہیں اور سر کو دوپٹہ یا چنی سے ڈھانپتی ہیں۔ سرائیکی خطے کے لوگ ملنسار اور مہمان نواز ہیں دنیا کے کسی بھی خطے سے اگر اجنبی وسیب میں آئے تو وہ خود کو اجنبی محسوس نہیں کرتا نیلا رنگ دنیا بھر میں خوبصورتی کی علامت ہے اسی طرح آسمان کو بھی جہاں تک دیکھیں نیلا ہی نظر آتا ہے ۔ کئی ممالک میں اس رنگ کو خوش قسمتی کی علامت سمجھا جاتا ہے ۔سرائیکی ثقافت میں اس رنگ کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے اس خطہ کی درباروں پر کاشی گری دیکھی جائے تو وہاں بھی نیلا ، سوسنی رنگ نمایاں نظر آتا ہے ملتان میں بننے والے مٹی کے برتنوں پر جو نقش و نگار بنائے جاتے ہیں ان پر بھی نیلا رنگ ہی چھایا ہوتا ہے جو اس خطہ کی پہچان ہیں یہ برتن پوری دنیا میں فروخت ہوتے ہیں ۔

وسیب کی پہچان، وسیب کی شان اور وسیب کی جان" سرائیکی اجرک" کا رنگ بھی نیلا ہے جو کہ صوفیاء کرام کے کرم سے ہے سرائیکی نوجوان سرائیکی اجرک کو ہر موقع پر پہن کر فخر محسوس کرتے ہیں چاہے وہ 21 فروری زبانوں کے عالمی دن کا موقع ہو یا پھر سرائیکی کلچر ڈے ہو یا پھر شادی بیاہ کی کوئی تقریب یا پھر عیدین وغیرہ کا موقع ہو ۔ سرائیکی نوجوان اپنی اس شان کو ہمیشہ اپنے سر اور کاندھوں پر سجائے رکھتا ہے ۔ سرائیکی اجرک ان مواقعوں پر ایک دوسرے کو تحائف کی صورت میں بھی دی جاتی ہے اور اپنی محبت کا اظہار کیا جاتا ہے ۔ سرائیکی اجرک میں نیلا ، سوسنی رنگ،سفید رنگ اور کالا رنگ شامل ہے جو کہ رنگوں کا ایک بہترین ملاپ ہے سرائیکی کلچرل ڈے اور زبانوں کے عالمی دن کے موقع پر ہزاروں کی تعداد میں یہ اجرک تقسیم کی جاتی ہے ۔ اور یہ اجرک پہن اور پہنا کر فخر بھی محسوس کیا جاتا ہے اور ایک عجیب خوشی کا احساس ہوتا ہے ۔شاید اس لیے ہر سال سرائیکی قوم 6مارچ کو کلچرل ڈے مناتی ہے تاکہ دنیا کو ہمارے کلچر سے متعلق آگاہی مل سکے۔

سرائیکی ثقافت کا ذکر ہو اور سرائیکی کھانوں کا ذکر نہ ہو تو یہ زیادتی ہو گی ۔ ویسے تو سرائیکی وسیب کے روائتی کھانے پاکستان کے دیگر علاقوں کی طرح ہیں مگر یہاں کی مشہور سبزی ، سوہانجنا اور ساگ ہیں ۔ سوہانجنا میں قیمہ، آلو، انڈہ، گوشت وغیرہ ڈال کر بھی پکا کر شوق سے کھایا جاتا ہے جبکہ مکئی کی روٹی، ڈھوڈا(چاول کی روٹی)، چلڑا(چاول کی روٹی) انتہائی اعلیٰ، مزیدار،لذیز اور غذائیت سے بھر پور مشہور سوغاتیں ہیں چلڑا اور ڈھوڈا دیسی چاول کے آٹے سے تیار ہوتا ہے ۔

ملتان کو مدینۃ الاولیاء مشہور ہے اسی طرح اوچ شریف میں بھی کم و بیش سوا لاکھ اولیاء اﷲ موجود ہیں یہ خطہ صوفی بزرگوں کا مسکن رہا اسی وجہ سے یہاں کی ثقافت میں ہر جگہ ہر چیز میں پیا و محبت کی جھلک نظر آتی ہے۔ اگر ادب اور زبان کے کی ترقی کے حوالے سے حضرت خواجہ غلام فریدؒ کو دیکھیں تو انہوں نے سرائیکی زبان کے جو الفاظ اپنی شاعری میں ورتائے ہیں وہ آج کل کی نوجوان نسل میں کم سننے یا بولنے کو ملتے ہیں ۔ ان صوفیاء کرام کے کلام میں ہر جگہ محبت جھلکتی ہے ۔ مگر ان محبتوں کے برعکس سرائیکی وسیب میں تعلیم، صحت اور صاف پانی کو ترستی عوام کو ہر سیاسی پارٹی نے دھوکہ دیا وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور سوتیلے روئیے سے تنگ سرائیکی معاشرے نے اپنی حیثیت کو منوانے کیلئے سنجیدگی سے جدوجہد کی ہے ۔ جس کی بنیاد پر سرائیکی خطہ سے انقلابی و احتجاجی آوازیں اٹھنا شروع ہو گئیں۔ جو اب رفتہ رفتہ ایوان میں ابحاث کا سبب بن رہی ہیں۔سرائیکی وسیب کی بنیادی سہولیات سے محروم لوگوں کی ایوانوں میں گونجتی آوازیں اب بتا رہی ہیں کہ سرائیکی علاقے کے زندہ دل اور محنتی لوگوں کا مستقبل روشن نظر آر ہا ہے۔اور یہی امید ہے کہ اس قوم کی ثقافت ،تہذیب و تمدن کو حکومت اس کا صحیح مقام دے گی۔ اور اس خطہ کی محرومیوں کا ازالہ کرے گی۔ اﷲ رب العزت ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Imran Zaffar

Read More Articles by Imran Zaffar: 24 Articles with 7206 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Mar, 2020 Views: 366

Comments

آپ کی رائے