عورت مارچ 2020 اور اس کے نعرے

(Sher Afghan Ranjha, )

ایک معاشرہ کے طور پر ہم لوگوں میں قوت برداشت اور احترام رائے جیسی خوبیوں کی کمی ہوتی جا رہی ہے. حال ہی میں ہوا عورت مارچ مگر مارچ سے بھی ذیادہ زیر بحث رہی خلیل الرحمٰن قمر اور ماروی سرمد کی ہونے والی تکرار. میں اس معاملے میں تو کسی کی بھی حمایت نہیں کرتا. مگر جس بارے میں بات کرنا چاہوں گا وہ ہے عورت مارچ کو ہونا چاہیے یا نہیں یا اس میں اٹھائے جانے والے بورڈز پوسٹرز وغیرہ. جو لوگ یہ بات کرتے ہیں کہ عورت کو تمام حقوق حاصل ہیں اور اسے کسی مارچ کی ضرورت نہیں وہ غلط کہتے ہیں. یہ سچ ہے کہ یہ 2020 ہے اور جہالت اب کافی کم رہ چکی مگر پھر بھی ہمارے ملک میں آج بھی لڑکی پیدا ہونے پر کہیں نا کہیں ظاہری یا باطنی طور پر ماتم کیا جاتا ہے. ماں باپ کو ہزاروں فکریں کھانے لگتی ہیں اور وجہ ہم سب بذات خود ہیں. کیونکہ ان کی بیٹی اپنے ہی گھر میں بھی اپنے چچہ ذادوں کے ہاتھوں نومولودگی میں ہی کبھی ذیادتی اور قتل کا نشانہ بنتی ہے اور باپ معاف کر دینے کو مجبور کر دیا جاتا ہے. وہ اس حادثے سے بچ بھی جائے تو باپ کی ذینب محلے کے کسی مولوی یا ہمسائے کی حوس کا نشانہ بن جاتی ہے. ماں باپ فکر مند ہیں کہ سکول اور کالج میں اساتذہ اور ہم جماعتوں کے ہتھے نا بھی چڑھے تو دفاتر میں ہم لوگ اس کا جینا اجیرن کر دیتے ہیں. ماں باپ فکر مند ہے کیونکہ ہم لڑکے والے اسے ایک شو پیس کی طرح دیکھ کر نقص نکالتے ہیں. ہمیں اپنے میٹرک فیل کالے موٹے 35 سال کے بیٹے کے لئے بھی ایم اے پاس نوعمر خوبصورت لڑکی چاہیے. ہم لوگ کہ جنہیں اپنی بہن کو تو محفوظ رکھنا ہے مگر کسی کی عزت کا خیال نہیں ہے ہم ہیں وجہ کہ یہ مارچ ضروری ہے. میرے نبی نے تو عورت کو بہت سے حقوق دئیے ہیں مگر ہم امتیوں نے ہی وہ حقوق سلب کر رکھے ہیں. میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ کس طرح ہم لوگوں کو وراثت میں عورتوں کو حصہ دینے پر تکلیف ہوتی ہے. میں نے ماں باپ کو بیٹی سے یہ کہتے سنا ہے کہ ڈولی جا رہی ہے اب اس گھر سے تیرا جناذہ ہی اٹھے. پھر میں نے دیکھا ہے اس بیٹی کو شوہر کے ہاتھوں پٹتے بھی مگر چپ کہ اسے یہیں مر مر کر مرنا ہے. میں نے ساس کو بہو پر ابلتا پانی پھینکتے دیکھا ہے اور جہیز نا ملنے پر نند کو باتیں سناتے بھی دیکھا ہے. عورت کو بولنے کا حق نہیں اور اس کی اوقات پاؤں کے جوتے سہ ہے یہ بھی سنا ہے. ایک 12 سالہ لڑکی کی 60 سالہ وڈیرے سے شادی بھی دیکھی ہے اور ایک کم عمر کو انصاف کے رکھوالوں کے ہی گھر زخمی ہوتے بھی دیکھا ہے. اب بھی یہ سوال کہ مارچ کیوں؟؟؟؟

رہی بات پوسٹرز کی تو میرا جسم میری مرضی وہ نعرہ ہے جو ذباں ذدعام ہے.اس کے پس منظر میں بہت سے لوگوں کے مطابق تشدد اور ہراساں ہونے کے واقعات کی طرف نشاندہی تھی. اور اگر کوئی یہ کہتا بھی ہے کہ وہ خواتین بد فعلی یا کم کپڑے پہننے کی اجازت مانگ رہی ہیں تو آپ اتنے خوفزدہ کیوں ہیں؟ ہم کسی کو اپنی بات ماننے پر مجبور تو نہیں کر سکتے اور ویسے بھی اس دور میں کوئی کسی پر کسی قسم کی پابندی نہیں لگا سکتا. ہم اگر اس کو اسلام کے پس منظر میں دیکھیں تو شاید وہ خواتین ویسے ہی اسلام کو نا مانتی ہوں. یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ مارچ میں بہت سے جملے ایسے ہوتے ہیں جو کہ مذہب کے منافی بھی ہوتے ہیں مگر وہ چند فرد ہیں اور وہ ان کا اپنا اظہار رائے کا حق ہے. ہم وہ اچھے پوسٹرز کیوں نہیں دکھاتے جس پر کسی کو اعتراض نہیں ہے؟ ہم صرف ہر چیز کے منفی رخ کو پھیلانے کے عادی ہو چکے ہیں. آج 8 مارچ 2020 کے عورت مارچ کی چند پوسٹرز پر یہ سب بھی لکھا تھا جو شاید کبھی ہم وائرل نہیں کریں گر.

*جو جہیز مانگے اسے بیٹی نہیں بھیک دو.
*جہیز خوری بند کرو
*گھریلو تشدد بند کرو.
*گھریلو تشدد کا مزاق بنانا بند کرو.
*گھریلو تشدد گھر کا معاملہ نہیں جرم ہے.
*ہر مضبوط لڑکی کی پیچھے اس کے والدین ہوتے ہیں. اپنی بیٹیوں کو فیصلے لینے کی ہمت، حق اور آزادی دو.
*بیٹی خدا کی رحمت ہے.
*بول کہ لب آزاد ہیں تیرے بول کہ جاں اب تک تیری ہے.
*سلام ان خواتین کو جو سالوں سے اپنے پیاروں کے واپس آنے کا انتظار کر رہی ہیں.
*میری ذندگی میرا حق.
*مجھے بھی پڑھنا ہے مجھے بھی بڑھنا ہے.
*میں ان سب کے لیے یہاں ہوں کہ جو شمار ہوتے ہیں.
*پنجاب میں روزانہ 7 اور 6 ماہ میں 1304 بچے ذیادتی کا نشانہ بن رہے ہیں. میں ان بچوں کے لیے مارچ کر رہا ہوں جو ایک بہتر مستقبل کے حقدار تھے.
*عورتوں کے حقوق... انسانی حقوق.
*مرد عورتوں کے محافظ ہیں... کس سے.؟.....مرد سے!
*خواتین کے حقوق کے لئے آواز اٹھانے سے مردانگی میں کمی نہیں آئے گی.
*پیاری بیٹیو مائیں تمہارے ساتھ ہیں.
*نعرہ نہیں تمہاری سوچ گندی ہے.
*ہماری مانگ تشدد سے پاک گھرانہ.
*برداشت کروں تو بزدل سامنا کروں تو بدتمیز.
*میرا جسم تمھاری مرضی... اب خوش؟
*بلوچستان یونیورسٹی کی طالبات کو انصاف دو.
*میں اپنے مستقبل کے لئے مارچ کرتی ہوں.
*معیاری مرد برابری سے نہیں گھبراتے.
*ماں بہن کو مارتا مجھ پہ اسلام جھاڑتا.
*اگر عورت ناقص العقل ہے تو اولاد کی پرورش کی زمہ داری اس پر کیوں؟
*میں ان کے لیے مارچ کرتی ہوں جو اپنے لیے نہیں کر سکتے.
*یکساں کام... یکساں معاوضہ
*مہندی سے پہلے قلم دو.
*خودمختار عورتوں سے ڈرتے کیوں ہو؟
*عورت کو تعلیم دو.
*وراثت وچ ساڈا حق ایتھے رکھ.
*غیرت کے نام پر قتل بند کرو.
*جہیز کے لیے نہیں، کالج کے لئے پیسے جمع کریں.
*مدارس میں بچوں کے ساتھ ذیادتی کو روکیں عورت مارچ کو نہیں.
*ہمارے وجود کی عزت کرو.
*سرمایہ دارو! شادیوں کے نام پر غریب مجبور لڑکیوں کا کاروبار بند کرو.
*یہ تانا بانا بدلے گا.
*ہماری بہنوں کے سائبان رہا کرو.
*میں زنا بالجبر ہونے والی لڑکیوں کے لئے مارچ کر رہی ہوں
*میں اس لئے مارچ کر رہا ہوں کہ میری بہن کہتی ہے کاش میں لڑکا ہوتی.
*یمیں خاموش نا کرو.
*گالی نہیں خودمختاری دو.
*مبارک ہو بیٹی ہوئ ہے.
*حضور پاک نے فرمایا تم میں سے بہترین مرد وہ ہے جو عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرے.
*کیا اپنی ماں بہن کو بھی گھورتے ہو؟ جس طرح نا محرم کو گھورتے ہو؟
*مرد کی نیت صاف ہو تو عورت محفوظ ہے.
*اسلام تو حقوق دیتا ہے اور آپ؟
*تم ذمیں پہ ظلم لکھ دو. میں آسمان پہ انقلاب لکھوں گی.
*میں قندیل، اسما، ذینب، خدیجہ اور خود کے لئے مارچ کر رہی ہوں.
*حملے اور تعاقب کے خوف کے بغیر مجھے سائیکل چلانے دو.
*برابری، امن اور ترقی.
*گلی کا کتا اور وہ شخص برابر ہے جس کی وجہ سے کوئی عورت اپنا رستہ بدل لے.
*اسلام نے جو حقوق دئیے ہیں مسلمان کب دے گا؟

ہم جانتے ہیں کہ انسانی فطرت کے مطابق اسے جس چیز سے روکا جائے وہ زیادہ بڑھ کے کرتا ہے اور ایسا ہی ہوا میرا جسم میری مرضی والے سکوگن کے بارے میں. ہم نے اس کے خلاف اتنا زہر اگلا کہ وہ ذد بن گیا. اس بار بھی جہاں اپنے اچھے بورڈ تھے وہاں مقبولیت محض کسی متنازعہ بورڈ کو ملے گی اور پھر کہ یہ دیا جائے گا کہ مارچ نہیں ہونا چاہیے. پاکستان کی فیمینسٹ کمیونٹی کو بھی ترجیحات معاشرے کے اقدار و عہد حاضر کی ضرورت کے مطابق دیکھنے کی ضرورت ہے. آزادی معاشی خودمختاری کے سوا ممکن نہیں چاہے وہ مرد ہے یا عورت. میرا یہ لکھنے کا مقصد محض اپنے بہت سے دوستوں کی بہت سے سوالوں کا جواب دینا تھا. خدارا محبت بانٹئے اور قوت برداشت میں اضافہ کی کوشش کیجئے.

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sher Afghan Ranjha
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 Mar, 2020 Views: 180

Comments

آپ کی رائے