ینگ چلڈرن ڈویلپمنٹ سنٹر راولپنڈی

(Muhammad Ashfaq, Rawalpindi)

/ینگ چلڈرن ڈویلپمنٹ سنٹر نفسیاتی اور جسمانی معذوری سے متاثر افراد اور بالخصوص بچوں کے علاج اور بحالی کے لیے سرگرم عمل ہے جس میں مختلف شعبہ صحت سے تعلق رکھنے والے ماہرین اسپیچ تھراپسٹ‘ فزیو تھراپسٹ‘ سائیکولوجسٹ اور سپیشل ایجوکیٹرز اور معاون اساتذہ خدمات سر انجام دے رہے ہیں محترمہ آصفہ سلیم اس ادارہ کی ڈائریکٹر کے طور پر اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں عام مریضوں کی فلاح و بہبود اور بحالی کے لیے بہت سے ادارے کام کر رہے ہیں لیکن زہنی و جسمانی معذور افراد کی بحالی کے لیے بہت سی تھوڑی تعداد میں ادارے کام کر رہے ہیں الحمدﷲ ینگ چلڈرن ڈویلپمنٹ سنٹر اس حوالے سے نہایت ہی اہم کردار ادا کر رہا ہے یہ ادارہ والدین کے تعاون سے بچے کی مکمل ہسٹری حاصل کرنے کے بعد اس کو اپنے زاویے کے مطابق علاج ومعالجہ فراہم کرتا ہے اور بچے کو درست سمت میں لے جانے کے لیے اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لاتا ہے ادارہ ینگ چلڈرن ڈویلپمنٹ زراج ہاوسنگ سوسائٹی راولپنڈی میں واقع ہے جس کے بنیادی مقاصد دکھی انسانیت کی خدمت ہے ذہنی معذور بچوں کو اس قابل بنا دیتا ہے کہ وہ نارمل بچوں سے زیادہ ٹیلنٹڈ بن جاتے ہیں اور معاشرے کے قیمتی شہری بن جاتے ہیں یہ آصفہ سلیم صاحبہ کی بہت بڑی کاوش ہے ایسے لوگ عظیم تصور کیے جاتے ہیں جو دوسروں کے دکھ درد کو بانٹتے ہیں اور اس طرح کے منصوبے شروع کرتے ہیں یہ ادارہ ایک عظیم درسگاہ کی صورت اختیا ر پیدا کرتا ہے اور ان کو امید دلاتا ہے کہ ان کے بچے کس طرح سے بھی کم نہیں ان کی توجہ ان کے بچوں کو معاشرے کا مفید شہری بنا سکتی ہے معذور بچوں کے والدین روتے دیکھے گے ہیں کہ یا اﷲ معذور بچے کی صورت میں ہمیں کون سے گناہوں کی سزا دی جارہی ہے حالانکہ اس بات میں ذرا سی بھی حقیقت نہیں ہے معذور بچے گناہوں کی سزا نہیں ہوتے ہیں بلکہ اﷲ پاک کی طرف سے والدین کے لیے انعام ہوتے ہیں جن کی بہترین پرورش کرنے سے دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت بھی سنور جاتی ہے اس ادارہ کی خدمات حاصل کرنے کے بعد معذور بچے اپنے آپ کو سنبھالنے کے قابل ہوجاتے ہیں اور ان میں اتنا حوصلہ پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ بہت کچھ کرنے کے قابل بھی ہو جاتے ہیں میڈم آصفہ سلیم کی سربراہی میں یہ ادارہ بہت اہم اور نیکی کا کا م سر انجام دے رہا ہے جس میں دنیا کے ساتھ آخرت کی بھی بھلائی ہے اتوار کے دن اس ادارہ کی جانب سے والدین اور عام شہریوں میں ذہنی و جسمانی معذور ی کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے کانفرس کا اہتمام کیا گیا جس میں ادارہ ہذا میں زیر تعلیم بچوں کے والدین ڈاکٹرز‘ صحافیوں اور نامورشخصیات نے شرکت کی اس پروقار تقریب کے مہمان خصوصی سید آل عمران‘ڈاکٹر میجر قیصر ندیم‘ ڈاکٹر عارف قریشی تھے جنھوں نے اپنے خطابات میں معذور بچوں کی پرورش دیکھ بھال اور ان سے متعلق بہترین معلومات فراہم کیں تقریب سے خطاب میں ادارہ کی ڈائریکٹر محترمہ آصفہ سلیم بے کہا کہ خصوصی بچوں کے ابتداء کے سال بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں جو کہ والدین کسی بھی وجہ سے ضائع کر دیتے ہیں ہمارا ادارہ اس حوالے سے بہترین آگاہی فراہم کرنے میں اپنا انتہائی اہم کردار ادار کر رہا ہے آج یہاں اکٹھے ہونے کا مقصد عوام کو اس بات سے آگاہی فراہم کرنا تھا کہ وہ والدین جو خصوصی بچوں کے ابتدائی سال ضائع کر دیتے ہیں وہ اپنے بچوں کے ساتھ زیادہ کرتے ہیں وہ اپنے بچوں کو انتہائی اہم ابتدائی سالوں میں ہمارے ادارے میں لے کر آئیں ہم ان کو بہترین نتائج دیں گے ہمارے ادارے کا محنتی سٹاف خصوصی بچوں کو اپنے بچوں کی طرح تصور کرتا ہے تقریب میں ادارہ کے خصوصی بچوں نے بہترین پرفارمنسز پیش کر کے حاضرین سے خوب داد وصو ل کی والدین نے ادارہ کی جانب سے خصوصی بچوں کی اہمیت اجاگر کرنے پر انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا بلاشبہ یہ ادارہ ایک بہت بڑا کارنامہ انجام دے رہا ہے معذور بچوں سے مایوس والدین کی دعائیں ادارہ کی انتظامیہ کا بھی حوصلہ بڑھا رہی ہے جس وجہ سے ادارہ دن بدن ترقی کی راہوں پر گامزن ہوتا جا رہا ہے اور اتنظامیہ کے دلوں میں خدمت کا نیا جذبہ پیدا ہوتا جا رہا ہے اور ہر آنے والا دن گزرے ہوئے دن سے بہتر ثابت ہو رہا ہے میڈم آصفہ سلیم کی ادارہ پر خصوصی توجہ کی وجہ سے یہ راولپنڈی کے دکھی انسانیت کی خدمت کا فریضہ انجام دینے والے اداروں کی فہرست میں اول نمبر پر دکھائی دے رہا ہے جو ادارہ کی انتظامیہ کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے اﷲ پاک نے میڈم آصفہ سلیم کو ایک امتحان میں ڈال دیا ہے اور اس بات کا قوی یقین ہے کہ وہ اﷲ کے فضل و کرم سے اس امتحان میں ضرور سرخرو ہوں گی اﷲ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ادارہ کی ڈائریکٹر محترمہ آصفہ سلیم کے اس عظیم مشن کو کامیابیوں کی بلندیوں عطا فرمائیں اوران کے حوصلے و ہمت میں مزید اضافہ فرمائیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Ashfaq

Read More Articles by Muhammad Ashfaq: 143 Articles with 45352 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Mar, 2020 Views: 218

Comments

آپ کی رائے