آخر غریب کو انصاف کون دے گا؟

(Ali Joya, Islamabad)

اچانک سے سڑک پر پولیس کی بہت سی گاڑیوں کے درمیاں میں کسی امیر شخص کی گاڑی تھی پولیس والے چیخ چیخ کر وہاں اس سڑک پر موجود عام عوام کو پیچھے ہٹا رہے تھے جیسے وہ اک شخص ہی انسان اور باقی سب حیوان ہوں ۔یہی پولیس والے ایک طاقت ور انسان کو تحفظ پہنچاتے ہیں وہیں پر ایک عام شخص کو انسان بھی نہیں سمجھتے، جیسے انسان کی عزت انسان ہونے پہ نہیں اس کے پاس موجود مال و دولت کی بنیاد پر کی جاتی ہو،کیسے یہی پولیس والے اک مالدار شخص کے آگے لاچار ہیں اور کیسے اک غریب شخص کے آگے خدا بن جاتے ہیں، مجال ہے کے جب تک وہ مالدار شخص اس سڑک سے گزرا ہو کسی پرندے کو بھی وہاں سے گزرنے دیا ہو، کیا یہ قانون صرف مالدار لوگوں کے لئے ہے ہاں بالکل اس بات کی یقین دہانی آج اس وقت ہوئی جب میں نے ان کے سامنے اک لا چار شخص دیکھا، اس شخص کی بہن کی شاید ایک ہفتہ بعدِ شادی تھی وہ مالک سے ایک مہینے کی نقد تنخواہ لے کر گھر جا رہا تھا رات کو کام کرنے کی وجہ سے چھٹی کے وقت باہر سڑک پر اتنا رش نہ تھاکہ اچانک دو نوجوان شخص آئے اور اس لاچار شخص سے تمام پیسے چھین کر چلے گئے، اکلوتا بھائی ہونے کے ناطے اس پر اس کی بہن کی شادی کی ڈھیر ذمہ داریاں تھیں جس کے لیے اسے اپنے دفتر سے نقدا تنخواہ لینی پڑی، اب اس کے پاس اک شے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا، یہ وہی شخص تھا جیسے انہیں پولیس کو اتنی ذمہ داری سے اس امیر شخص کی حفاظت کرتے دیکھا تھا، اس کے فون کرنے پر جب دو پولیس والے آئے تو اس کی مدد کرنے کی بجائے الٹا اس پر ہی الزام لگا گئے، کیا پولیس کا یہ رویہ دیکھ کر وہ شخص بھی غلط کام پہ مائل نہ ہوگا ؟

شاید ان اسب کاموں کے پیچھے ہاتھ ہی پولیس کا ہوتا ہے.سننے میں آیا تھا کے نئی حکومت کے آنے سے پولیس صحیح ہوجائے گی مگر شاید ہماری بد قسمتی صرف یہ ہے کہ ہم صرف اس شخص کی مدد یا اس شخص کے کام آتے ہیں جس کی کوئی پہنچ ہوں ان کے کام جس سے بدلے میں ہمیں فائدہ حاصل ہو،ہم ایک انسان کی عزت صرف اس کے پاس موجود طاقت کی وجہ سے کرتے ہیں یعنی کے وہ عزت انسان کی نہیں اس کی طاقت کی ہوتی ہے،حالانکہ طاقت ور کوتو کسی کی ضرورت بھی نہیں ہوتی مگر اک لا چار کو تو سب سے زیادہ ہوتی ہے، پھر بھی ہم اس سے الٹا کیوں چلتے ہیں؟ آخر غریب کو انصاف کون دے گا؟ کیا یہی یہاں کا قانون ہے؟

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ali Joya

Read More Articles by Ali Joya: 8 Articles with 2173 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Mar, 2020 Views: 150

Comments

آپ کی رائے