کورونا وائرس اور سوشل میڈیا کا کردار

(Prof Shoukat Ullah, Banu)

کہا جاتا ہے کہ عورت بھوکی، پیاسی رہ سکتی ہے لیکن خاموش نہیں رہ سکتی ہے۔ کسی اور نے کہا ہے کہ اس صدی کا سب سے بڑا جھوٹ یہ ہے کہ دو عورتیں ایک جگہ خاموش بیٹھی تھیں۔اس طرح کے جملے اور باتیں عورتوں سے متعلق مقبول عام ہیں۔ ہم یہاں ان کی صداقت کو نہیں جانچتے ہیں لیکن موجودہ دور میں جس طرح سوشل میڈیا نے اپنے پنکھ پھیلا رکھے ہیں اور جتنی منہ اتنی باتوں کے مصداق جو شور وغل کا طوفان برپا کئے رکھا ہے، اس نے عورتوں کے بولنے کو بدرجہ اتم مات دے دی ہے۔آج کل سوشل میڈیا کا اثر و رسوخ اتنا بڑھ چکا ہے کہ ہر معاملے پراس کا منہ کھل جاتا ہے اور یوں ایک نہ رکنے والا سلسلہ چل نکل پڑتا ہے۔ کوئی بات کو ایک طرف کھینچتا ہے تو کوئی اور اسے مخالف سمت لے جاتا ہے۔ایسا سمجھیں کہ زبانی کلامی دنگل ہوتا ہے جس میں ہر کوئی کود پڑنے کے لئے تیار ہوتا ہے۔ یہ سلسلہ تب کہیں جا کے رکتا ہے جب کوئی نیا معاملہ پیش آجاتا ہے۔ حالیہ کورونا وائرس کے حوالے سے سوشل میڈیا پر یہی سب کچھ دیکھنے اور سننے کو مل رہا ہے۔ کورونا کا دائرہ کار ایک سو پچاس سے زائد ممالک میں پھیل چکا ہے، یعنی دنیا کے 75 فیصد ممالک میں پھیل چکا ہے اور یہ بھی بعید نہیں ہے کہ اگلے چند دنوں میں یہ ساری دنیا کے ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیگا۔ تاحال اس سے متاثرہ افراد کی تعدادڈیڑھ لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ جان ہاپکنز یونیورسٹی ، امریکا کی جانب سے شائع کردہ اعداد و شمار کے مطابق چار ہزار یا اس سے زائد متاثرہ افراد والے ممالک میں چین ، اٹلی ، ایران ، اسپین ، جنوبی کوریا ، جرمنی ، فرانس اور امریکا شامل ہیں۔ جب کہ ہلاکتوں کی تعداد چھ ہزار کے لگ بھگ ہے۔ جن ممالک میں پچاس یا اس سے زائدافراد کی ہلاکتیں واقع ہوئی ہیں اُن میں چین ، اٹلی ، ایران ، اسپین ، فرانس ، جنوبی کوریا ، امریکا اور برطانیہ شامل ہیں۔ یاد رہے کہ کورونا وائرس کی ابتدا ء چین کے صوبے ہوبائی کے شہر ووہان سے ہوئی جہاں اس وائرس کے متاثرین کے علاج معالجے اور اس کے مزید پھیلاؤ کے روکنے کے لئے کروڑوں افراد کے شہر کو لاک ڈاؤن کردیا گیا۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ابتداء ہی سے کورونا وائرس کے حوالے سے غلط معلومات گردش کرنا شروع ہوئیں۔ اس سلسلے میں پہلی ویڈیو ایک چینی خاتون کی شیئر ہوئی جس کو چمگاڈر کا سوپ پیتے دکھایا گیا۔ اس کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے اپنی توپوں کا رُخ چینیوں کے کھانے پینے کی جانب موڑ دیا۔ اس بات کی کوئی تحقیق نہیں کی گئی کہ واقعی یہ ویڈیو ووہان شہر سے تعلق رکھتی ہے اور کیا واقعی چمگاڈروں کے سوپ پینے سے اس وائرس کی تخلیق ہوئی۔ جس وقت سوشل میڈیا صارفین کے غصے کا بخار سر پر چڑھا ہوا تھا کہ اچانک یہ خبر منظرِ عام پر آگئی کہ یہ ویڈیو ووہان شہر کی نہیں ہے بلکہ اس کو چار سال قبل مقبول بلاگر مس وانگ نے مغربی بحرالکاہل کے جزیرے پاؤلو میں فلمائی تھی جس کوصارفین کے سخت ردعمل کے بعد سوشل میڈیا سے ہٹا دیا گیا۔ سوشل میڈیا سے ہٹ کر ہمارے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا نے چمگاڈروں ، سانپوں اور چھپکلیوں وغیرہ کی غذا پر سیر حاصل تبصرے اور مضامین لکھے۔ہم نے بھی بغیر تحقیق خوب تیر برسائے لیکن بعد میں عیاں ہوا کہ چمگاڈر کے سوپ پینے سے یہ وائرس نہیں پھیلا کیوں کہ چین میں یہ سوپ زیادہ مقبول نہیں ہے۔ اس کے بعد آن لائن صارفین نے کبھی بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کو آڑے ہاتھوں لیا اور اُن پر اس وائرس کی منصوبہ بندی کا الزام لگایا ، تو کبھی اس کو ’’ بائیو ویپن ‘‘ قرار دیا۔ مگر کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو دیکھتے ہوئے الزامات کا طوفان قدرے کم ہوا تو سوشل میڈیا نے ’’نیم حکیم خطرہ جان ‘‘ بن کر علاج کے حوالے سے معلومات شیئر کرنا شروع کر دیں۔پیاز ، لہسن ، نیم کے پتے ، کلونجی ، لیموں، سرکہ اور گرم پانی وغیرہ سے اس کے علاج تجویز کئے گئے۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ سبزیاں اور پھل کھانے سے انسان کی صحت اچھی رہتی ہے اور مناسب مقدار میں پانی پینا صحت کے لئے مفید عمل ہے لیکن تحقیق سے یہ ثابت نہیں ہے کہ پیاز ، لہسن ، نیم کے پتے ، کلونجی ، لیموں، سرکہ اور گرم پانی وغیرہ سے کورونا وائرس کا علاج ممکن ہے۔ سوشل میڈیا پر کورونا وائرس سے متعلق من گھڑت اور بے بنیاد معلومات ، الزامات ، تحقیقات اور ٹوٹکے گردش کر رہے ہیں اور جن کو لوگ لاکھوں کی تعداد میں شیئر کر رہے ہیں جس سے معاشروں کے اندر منفی اثرات سامنے آرہے ہیں۔ مثال کے طور فیس ماسک تھری ایم ۔ N95 سے متعلق شیئر کیا گیا کہ یہ کورونا وائرس سے بچاتا ہے، پس اس کے بعد ماسک کی قیمت کئی گنا زیادہ ہو گئی اور مارکیٹوں سے غائب کر دیا گیا۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ یہ فیس ماسک نظام تنفس کو دھوئیں اور گردو غبار سے بچاتا ہے لیکن تمام افراد کے لئے اس کا پہننا ضروری نہیں ہے البتہ کورونا وائرس سے متاثرہ افراد اور قرنطینہ میں موجود معالجین و عملے کے لئے پہننا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ عام کھانسی اور نزلہ کے مریض اس کو پہنیں تا کہ کھانسی اور چھینک سے دیگر افراد متاثر نہ ہوں۔ ہم نے سوشل میڈیا پراس کی اہمیت کو اتنا اُجاگر کیا کہ منافع خوروں اور ذخیرہ اندزوں نے لوگوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کیا۔ اسی طرح اَب سینیٹائزر بھی مارکیٹ سے غائب ہونے لگے ہیں اور جن دکانوں پر دستیاب ہیں وہ دگنے سے بھی زیادہ قیمت پر بیچ رہے ہیں۔ اور جب سوشل میڈیا صارفین کسی شہر کے لاک ڈاؤن کی افواہ پھیلا دیتے ہیں تو دکاندا ر حضرات اشیائے خوردونوش منہ مانگی قیمتوں پر بیچنا شروع کر دیتے ہیں اور خریداروں کے مابین دھکم پیل اور گتھم گتھا ہونے کے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ایک آن لائن صارف نے اپنے کمنٹ میں لکھا ہے کہ پیاز میں کوئی کورونا وائرس کا علاج نہیں ، تواڈی مہربانی پیاز سات سو روپے کلو نہ کروادینا۔ پس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمیں سوشل میڈیا کا محتاط اور مثبت استعمال کرنا چاہئے تاکہ کورونا وائرس کے واروں سے بچا جاسکے ۔ اختتام اس دعا کے ساتھ کرتا ہوں ۔’’ اس اﷲ کے نام کے ساتھ جس کے نام کی برکت سے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی ، زمین کی ہو یا آسمانوں کی۔ وہ خوب سننے والا جاننے والا ہے۔ ‘‘ امین۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Shoukat Ullah

Read More Articles by Prof Shoukat Ullah: 202 Articles with 129241 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Mar, 2020 Views: 349

Comments

آپ کی رائے