ابابیل زمین و آسمان کے درمیان گھر بنانے والا پرندا منفرد معلومات

(سید عامر قادری, حیدرآباد)
ابابیل زمین و آسمان کے درمیان گھر بنانے والا پرندا منفرد معلومات ابایل Swallow Birds


ابایل Swallow Birds

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ قارئین سے گزارش ہے کہ آرٹیکل کو پورا پڑہیں انشاء اللہ تعالیٰ آپ کی معلومات میں ضرور اضافہ ہوگا آپ نے اصحابِ فیل کا واقعہ تو سنا ہی ہوگا لیکن آج آپ اس آرٹیکل میں ابابیل کے متعلق کچھ اھم اور اضافی معلومات بہی پڑھینگے جو شاید زیادہ لوگوں کو معلوم نہیں ہوگی ابابیل دراصل لشکر یا جھنڈ کو کھتے ہیں ابابیل لفظ جمع ہے اس کا واحد ابالة یا ابول لکہا گیا ہے بعض مفسرین نے لکہا ہے کہ اسکا واحد ہوتا ہی نہیں اردو کے ماہرین نے لکہا ہے کہ ابابیل چریا کی ایک خاص قسم کو کہا جاتا ہے جو چڑیا ہی کی طرح نظر آتا ہے صرف اس کے پنجے کچھ لمبے اور نوک دار ہوتے ہیں امام قرطبی کا کہنا ہے جو ابابیل پرندے اللہ تعالیٰ نے ابرھ کے لشکر پر بھیجے تھے کعبہ کی حفاظت کے لیے لششکروں کی صورت میں وہ کبوتر سے تہوڑے چہوٹے تھے وہ دریاء سے نمودار ہوئے تھے خاص اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس طرح کی جنس پہلے کبہی نہیں دیکھی گئی تہی نا اس کے بعد کبہی دیکھی گئی ہے

تاریخ دانوں نے یہ بھی لکہا ہے کہ جو ابابیل پرندے اللہ تعالیٰ نے اپنے گھر کی حفاظت کے لیے بھیجے انکے پنجے سرخ تھے اور ان پرندوں کی چونچ میں اور پنجوں میں جو کنکریاں یا چہوٹے پتہر تھے وہ چنے کے برابر تھے یا مسور کے برابر باز اکابرین کا کہنا ہے ابابیل ایک پرندہ ہے جو کہ چمگادڑ کے کہ مشابہ ہوتا ہے

حضرت سعید بن جبیر کہانا کہنا ابابیل اس پرندے کو کہا جاتا ہے جو اپنا گھونسلہ زمین و آسمان کے درمیان بناتا ہے وہیں وہ بچوں کی پیدائش بہی کرتا ہے اور انکی افزائش بہی انکے منقار پرندوں کی مثل جبکہ اس کے پنجے کتے کے پنجے کی طرح ہوتے ہیں حضرت عکرمہ کا کہنا ہے کہ ابابیل ہرے رنگ کے پرندے ہوتے ہیں جو دریائوں سے نکل کر آتے ہیں جن کے سر دردوں کی طرح ہوتے ہیں حضرت عبداللہ ابن عباس کا کہنا ہے کہ ابابیل اس پرندوں کو کہا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے کعبہ کی حفاظت کے لیے بھیجے اور وہ بلسان جیسے ہوتے ہیں حضرت عبادہ بن الصامت کا کہنا ہے کہ ابابیل زرزوور یعنی گھریلو چڑیا کی طرح ہوتے ہیں نیز بعض اکابرین کا کہنا ہے ابیل جو کہ ابابیل لفظ سے نکلا ہے وہ نصرانی راھب کو کہتے ہیں اور عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بہی ابیل الابیلین کہا کرتے تھے بعض لغت میں صاحبان نے ابابیل کو سنونو بہی لکہا ہے یہ اب آخر میں وہ قصہ کچھ زائد اور ایسی چند باتوں کے ساتھ پیش خدمت ہے جو عام طور پر نا کہیں لکہی جاتی ہیں نا بیان کی جاتی ہیں ابرھ (ابرہ کا پورا نام ابرھ بن الصباح تہا)نے جب دیکہا کہ زمانے بھر سے لوگ کعبہ کی زیارت کعبہ کہ طواف اور کعبہ کہ حج و عمرہ کہ لیے آتے ہیں کیوں نا اسکے مشابہ ایک گھر بنایا جائے چنانچہ اس نے کعبہ کے مشابہ ایک گرجا گھر بنوایا لیکن اس کے گرجے میں نا کوئی عبادت کے لیے جاتا نا کوئی سفر کرتا اس کو دیکھنے کے قصد میں ایک دن ایک مسافر قافلہ اس کے گرجے کے قریب پڑاو ڈالا تو ایک شخص نے اس گرجے میں پاخانہ کردیا اور مسافروں نے جو آگ جلائی اسکی کوئی چنگاری اس گرجے میں جاگری جس سے گرجے میں آگ لگ گئی اس پر ابرھ بن الصباح غصے سے لال ہوگیا اور اس نے یہ ٹہان لی کے کعبہ کو گراکر ہی دم لوں گا اس نے اپنی طاقت و قوت کے مطابق ایک ھاتہیوں کا لشکر تیار کیا اور کعبہ کو ڈھانے کے لیے نکل پڑا اللہ تعالیٰ کا کرنا ایسا ہوا کہ اس نے اپنے غیب سے ابابیل کے لشکر بھیج کر ان کی چونچ اور پنجوں میں مسور یا چنے کے برابر کنکریاں دیکر ھاتھیوں کہ لشکر والوں پر حملہ کردیا جس سے بھت سے ھاتھی اور سپاہی مارے گئے اور کچھ بھاگ گئے صرف ایک محمود نامی ھاتھی اور اس کے دو ھاتھی بان رھ گئے جو سپاہی اور ھاتھی بھاگ گئے اللہ تعالیٰ نے ان کو مختلف امراض میں مبتلا کر کے ہلاک کردیا محمد بن اسحاق علیہ رحمۃ کا کہنا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے ان دو ھاتھی بانوں کو اندھا دیکہا اور انکی بھن حضرت اسماء بنت ابوبکر کا کہنا ہے کہ وہ ھاتھی بان اپاہج ہوگئے تھے اور مکہ میں بھیک مانگتے ہوئے دیکھے مفسرین کا کہنا ہے کہ ابرھ فوراً ھلاک نہیں ہوتا کیونکہ کہ اس کو عذاب چکہنا مراد تھا کنکرے لگنے سے اس کے جسم میں زھر سرائیت کر گیا تہا جس سے وہ تڑپ تڑپ کر مر گیا واللہ اعلم باالصواب

امید کرتا ہوں یہ معلومات سے لبریز آرٹیکل آپکو پسند آیا ہوگا اگر پسند آیا ہو تو اپنے دوست و احباب سے شیئر ضرور کریں جزاک اللہ خیرا

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 1218 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: سید عامر قادری
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
السلام علیکم، جناب سید عامر قادری صاحب، ہونا تو یہ چاہیے کہ صاحب مضمون کو اپنے مضمون کے حوالے سے کسی بھی استفسار کی وضاحت دینی چاہیے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ دینی مضامین لکھنے والوں کے ضروری ہے وہ صاحب علم ہوں۔ اس طرح کے نیم حکیم نہ ہوں۔ میں یہاں اس آیت کے مختلف تراجم پیش کرتا ہوں۔
سورہ فیل کی آیت نمبر 3 کچھ ایسے ہے۔
وَأَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْرًا أَبَابِيلَ ﴿٣﴾۔
ترجمہ احمد رضا خان --- اور ان پر پرندوں کی ٹکڑیاں (فوجیں) بھیجیں (3))۔
مولانا مودودی ---۔ اور اُن پر پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیج دیے (3
جالندھری----اور ان پر جھلڑ کے جھلڑ جانور بھیجے (3)۔
طاہر القادری----اور اس نے ان پر (ہر سمت سے) پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیج دیئے، (3)۔
جونا گڑھی----اور ان پر پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیج دیئے (3)۔
ان تمام تراجم سے واضح ہوتا ہے کہ ابابیل کسی خاص پرندے کا نام نہیں بلکہ یہ پرندوں کے جھنڈ یا غول کو کہتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر میں ابابیل کے بارے میں یہ لکھا گیا ہے۔ «أَبَابِيلَ» جمع کا صیغہ ہے اس کا واحد لغت عرب میں پایا نہیں گیا۔
یعنی ایسا جمع ہے جس کا واحد نہیں ہے۔
ابن کثیر میں مزید کچھ اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ سبز رنگ کے پرند تھے جو سمندر سے نکلے تھے ان کے سر درندوں جیسے تھے۔
میرا خیال ہے کہ اب بات واضح ہو گئ ہوگي۔ اور آپ اپنی یہ غلط فہمی دور کر لیں گے کہ ابابیل کسی ایک پرندے کو نہیں کہتے بلکہ یہ پرندوں کے غول کے غول، قطار در قطار یا جھنڈ کے جھنڈ کو کہتے ہیں۔ جزاک اللہ خیر۔
By: Baber Tanweer, Karachi on Apr, 07 2020
Reply Reply
0 Like
جناب سید عامر قادری صاحب۔ آپ سے لفظ ابابیل کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں کہ کس لغط کی رو سے یہ کسی پرندے کا نام ہے؟
میری ناقص معلومات کے مطابق ابابیل پرندوں کے جھنڈ کو کہتے ہیں۔
By: Baber Tanweer, Karachi on Mar, 27 2020
Reply Reply
0 Like
Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ