کرونا وائرس،خدشہ اور ہماری ذمہ داری___!!!

(Muhammad Naeem Shehzad, Lahore)

جویریہ چوہدری

تاریخِ انسانی کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ انسانوں کا مختلف ادوار میں مختلف وباؤں،اور ارضی و سماوی آفات سے واسطہ پڑتا رہا ہے…
قدرت کے ان مظاہر کے سامنے انسان بے بس بھی نظر آیا اور ہزاروں،لاکھوں بلکہ کروڑوں افراد ان بیماریوں اور وباؤں کا شکار ہو گئے…
آج کی جدید اور سائنس کی صدی میں بھی ان وباؤں اور آفات کے سامنے انسان اتنا ہی بے بس نظر آتا ہے جتنا پہلے تھا…
،حالیہ کرونا وائرس کی مثال ہی لیجیئے کہ دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے اور ہر طرف ایک ہی بازگشت سنائی دے رہی ہے اور وہ ہے کرونا وائرس سے بچاؤ کے اقدامات…
انسان چونکہ اشرف المخلوقات ہے اور اس کا کردار بھی سب سے ممتاز ہے۔
سابقہ اقوام کے حالات کا ہی جائزہ لیا جائے تو وہ بھی انسان تھے مگر جب انسانیت سے تہی دست ہو گئے اور اللّٰہ تعالٰی اور اس کے بھیجے گئے انبیاء و رسل علیھم السلام کی تعلیمات سے یکسر انکار کر دیا تو ان کے حالات سے آگہی ہمیں قرآن اس انداز میں دیتا ہے کہ ہم نے انہیں کس انداز میں بے بس کر دیا کہ کسی پر تو چنگھاڑ بھیجی،کسی کو غرق کر دیا،کسی پر پتھر برسائے تو کسی کو گھن جیسے کیڑے کے آگے بے بس کر دیا
ان کے کھانے پینے،اوڑھنے،بچھونے پر مینڈک ڈال دیئے،ٹڈیوں اور لہو کے عذاب سے دوچار اور بے چین و بے قرار ہو گئے…
کسی پر آسمانی بجلی کی کڑک گری تو کئی زلزلوں سے ہلا دیئے گئے…
غرض تاریخِ انسانی کی یہ ہلکی سی جھلک قرآن کریم کے آئینے میں ہمیں دکھائی دیتی ہے…
پھر مختلف وبائی امراض میں انسانوں کی تنبیہہ اور آزمائش جاری رہی جو آج تک جاری ہے…
تو جب ایسی صورتحال میں ہم اسلامی تعلیمات پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طاعون جیسی بیماری کو اللّٰہ کا عذاب کہا ہے اور پھر ایسے حالات میں جو نیکو کار اس سے متاثر ہو جاتے ہیں اور صبر کرتے ہیں تو ان کے لیئے شہید کا لفظ استعمال فرمایا…(صحیح بخاری ،کتاب الطب)۔
وبائیں جب پھوٹ پڑتی ہیں تو ان کا شکار کوئی بھی ہو سکتا ہے چنانچہ حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی تعلیم دیتے ہوئے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جہاں طاعون پھیل جائے وہاں سے نکلو نہیں اور جہاں پھیلا ہوا ہو وہاں جاؤ نہیں…(صحیح بخاری)۔
تو ایسے حالات میں متاثرہ لوگوں کا علاج اور آئسولیشن کے اقدامات باقی افراد کی حفاظت کی خاطر کیئے جائیں تو اس پہ تنقید برائے تنقید کی ضرورت نہیں رہتی اور پھر اگر حکومت وقت اس سے بچاؤ کے اقدامات اٹھاتی ہے تو ہمیں بھی چاہیئے کہ ان قوانین پر عمل درآمد کریں…
اگر ہماری دعوتیں،پارٹیاں اور خوشی کے مواقع پر لمبی چوڑی رسومات کچھ وقت کے لیئے معطل ہو جاتی ہیں تو قومی مفاد و سلامتی کے لیئے یہ کوئی مہنگا سودا نہیں ہے…
اسی طرح تعلیمی اداروں کی بندش اگر پندرہ دن، ایک ماہ کے لیئے کر دی گئی ہے تو یہ بھی کوئی سنگین صورتحال نہیں ہے…!!!
اور وہ لوگ جو کام کے بغیر بھی تنخواہ لے لیں گے ان کے لیئے تو سونے پر سہاگہ والی بات ہے…
آرام بھی اور دام بھی…
ہاں ایسی صورتحال میں وہ طبقہ ضرور پستا ہے جو دیہاڑی دار ہے تو بحیثیت مسلمان قوم کے اہل خیر ایسے لوگوں کے ساتھ بھر پور تعاون کرتے ہوئے ان کے نفسیاتی دباؤ میں کمی لا سکتے ہیں۔
حفاظتی اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ایسے ہی ہے جیسے ہم شوگر،کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کنٹرول کرنے کے لیئے احتیاط کرتے ہیں۔
اگر ہم اس چیز پر عمل نہیں کرتے تو اس کی مشکلات کو بھی خود ہی فیس کرتے ہیں…
ڈاکٹرز کے مشوروں پر عمل ہی دوا کا اثر دکھاتا ہے۔
آپ سب جانتے ہیں کہ دوا تب ہی اثر انداز ہوتی ہے جب ڈاکٹر کے مشورے سے لی جائے اور پھر ان چیزوں سے پرہیز اور اجتناب بھی کیا جائے جو دوا کے اثرات میں رکاوٹ بنتی ہیں…
اسی طرح مختلف میڈیا پلیٹ فارم بھی آگہی کے نام پر قوم میں نفسیاتی دباؤ،خوف اور ہیجانی کیفیت پیدا کرنے کی بجائے اُمید افزا انداز میں رائے عامہ ہموار کرتے رہیں۔
ان تمام ظاہری تدابیر کے ساتھ ساتھ ہمیں توکل اور یقین کو بھی مستحکم کرنے کے ساتھ باطنی اصلاح پر بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے…
بدیانتی،ظلم و زیادتی،نا انصافی،دھوکہ دہی،فحاشی و بے حیائی،ملاوٹ،جھوٹ،ناپ تول میں کمی،گراں فروشی،ذخیرہ اندوزی اور دیگر اخلاقی برائیوں کا سدباب کرنے اور اپنے معاملات درست کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے…
رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"جب کسی قوم میں بے حیائی پھیل جاتی ہے اور اعلانیہ اس کا ارتکاب کیا جانے لگتا ہے تو وہ طاعون اور ایسی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتی ہے جو ان کے آباؤ اجداد میں نہ تھیں…"
(ابن ماجہ)۔
آج دنیا نت نئی بیماریوں کا شکار کیوں ہو رہی ہے؟
کہ اس نے خالق کائنات کے احکامات اور حدود سے تجاوز شروع کر دیا ہے…!!!
حلال اور حرام کے رستوں کی پہچان مٹا دی ہے
تو ایسے اعمال کی وجہ سے یہ انسان پھر بے بس کر دینے والی بلاؤں اور وباؤں کے حصار میں جکڑ لیا جاتا ہے…
انفرادی اور اجتماعی طور پر کثرت استغفار اور نیکی کی طرف پلٹنے کا جذبہ ایمان پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ہم پر سے یہ مشکل گھڑیاں ٹل اور کٹ جائیں۔۔۔
صبح و شام نبوی دعاؤں کا التزام کریں…!!!
ہمارا رب ہمارے گناہوں سے درگزر فرما کر اپنی رحمت واسعہ سے ان وباؤں سے نجات دے دے کیونکہ قدرت افراد کی کوتاہیوں سے درگزر کر دیتی ہے مگر جب قومیں غلط راہوں کا انتخاب کرتی ہیں تو صفحۂ ہستی سے بھی مٹ جایا کرتی ہیں…!!!
وباؤں کی لپیٹ میں آ جاتی ہیں…
بلاؤں کی زد میں گھِر جاتی اور آفات کے سامنے بے بس ہو جایا کرتی ہیں…
اللّٰہ ہمیں اپنے عذاب سے وہ جس صورت میں بھی ہو اپنی مہربان پناہوں میں لے لے، اور ہم سے راضی ہو جائے ایسی رضا جس کے بعد ناراضگی نہ ہو اور ہم سے ایسے اعمال حسنہ سرزد ہوں جن کے بعد برائیوں کے سمندر نہ اُبلنے پائیں…آمین__!!!
کہ قدرت کبھی کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو معاف…
ہمیں اجتماعی اصلاح کی طرف قدم بڑھانے کی ضرورت ہے…
کہ جس نے یہ جسم و جاں عطا کیئے ہیں اسی کی مرضی کے تابع ہو کر ہم جسمانی و روحانی طور پر برکت،عافیت اور رحمت کے مستحق بن سکتے ہیں
یہی اس کا وعدہ ہے جس میں کچھ شک نہیں__!!!
اَللّٰھُمَّ احفظنا مِمَّا نخاف وَ نحذر__!!!آمین یا ارحم الراحمین…!!!

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Naeem Shehzad

Read More Articles by Muhammad Naeem Shehzad: 138 Articles with 43787 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Mar, 2020 Views: 127

Comments

آپ کی رائے